0
0
0
انڈونیشیا میں فیس ماسک پہننے سے انکار کرنے والے افراد کو سزا کے طور پر کووڈ 19 کے باعث انتقال کر جانے والے لوگوں کی قبریں کھودنے کی سزا سنادی گئی۔

انڈونیشیا کے صوبے مشرقی جاوا میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافے کے بعد فیس ماسک پہننے سے انکار کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق مشرقی جاوا کے ضلع Cerme میں فیس ماسک پہننے سے انکار کرنے والے افراد کو قبریں کھودنے کی سزا سنائی گئی۔

مقامی حکام کو توقع ہے کہ اس طرح کی سزا سے ہر اس فرد کے اندر خوف پیدا ہو گا جو لازمی فیس ماسک کے استعمال کے قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

ضلعی سربراہ سویونو فیس ماسک کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ضلع میں صرف 3 گورکن موجود ہیں تو میرے خیال میں اس طریقے سے لوگ ان کا بوجھ کم کرسکیں گے۔‘

سزا پانے والے افراد 2، دو کی ٹیم بناکر ایک قبر پر کام کریں گے، یعنی جب ایک قبر کھود رہا ہوگا تو دوسرا اندر سے کشادہ کررہا ہو گا۔
سویونو نے مزید کہا کہ ’توقع ہے کہ اس سے قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف ڈر پیدا ہوگا۔‘

مقامی پولیس کے سربراہ نے بھی واضح کیا کہ اہلکار فوج کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور عوامی اجتماعات میں قوانین کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کریں گے۔

پولیس کے مطابق ہم عوام پر فیس ماسک پہننے کے لیے زور دیتے ہیں تاکہ کووڈ 19 کی روک تھام کی جاسکے۔یہ پہلا موقع نہیں جب انڈونیشیا میں کووڈ 19 کی احتیاطی تدابیر  کی خلاف ورزی پر غیرمعمولی سزا سنائی گئی۔

اس سے قبل اپریل میں انڈونیشین صوبے وسطی جاوا کے علاقے سراگین ریجنسی میں پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو آسیب زدہ گھروں میں سزا کے طور پر بند کیا جانے لگا تھا۔

مقامی سیاستدان کوشدنیر انتنگ یونی سوکوواتی کے مطابق ان کی جانب سے یہ حکم نامہ اس وقت جاری کیا گیا جب جکارتہ اور دیگر شہروں سے متعدد افراد اس علاقے میں آئے۔

ئے آنے والوں میں سے بیشتر افراد 14 دن تک قرنطینہ کی ہدایت پر عمل نہیں کر رہے تھے، جس کا مقصد اس پرہجوم خطے میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنا ہے۔

تو کوشدنیر انتنگ نے مقامی برادریوں کو حکم دیا کہ وہ ایسے ویران گھروں کے بارے میں بتائیں جن کو آسیب زدہ سمجھا جاتا ہے، اس علاقے میں توہم پرستی بہت اہم ہے جس میں انڈونیشین لوک کہانیوں کا کردار نمایاں ہے۔

تو کوشدنیر انتنگ نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا ’گاؤں میں کسی بھی خالی اور آسیب زدہ گھر میں ایسے لوگوں کو بند کردیا جاتا ہے۔‘
اس سے قبل جاوا آئی لینڈ کے ایک گاؤں میں لوگوں کو گھروں سے نکلنے سے روکنے کے لیے ’بھوتوں‘ کی خدمات حاصل کی گئی تھی۔

جاوا آئی لینڈ کے گائوں کیپوہ کی گلیوں میں گھومنے والے ’بھوتوں‘ کا مقصد لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے پر مجبور کرنا اور کرونا وائرس سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔

گاؤں کے نوجوانوں کے گروپ کے سربراہ انجار پنچینگتیاز نے بتایا ’ہم کچھ مختلف اور ایسا تاثر پیدا کرنا چاہتے تھے جو لوگوں کو خوفزدہ کرسکے۔‘

اس گروپ نے پولیس کے ساتھ مل کر سماجی دوری کو فروغ دینے کے لیے یہ منفرد حکمت عملی اپنائی ہے اور اسے توقع ہے کہ صدیوں پرانی توہم پرستی لوگوں کو گھروں تک محدود رکھے گی۔

سفید چادروں میں ملبوس پراسرار بھوتوں جیسے افراد کو مقامی طور پر پوکونگ کہا جاتا ہے جس کے لیے وہ اپنے چہروں پر سفوف مل لیتے ہیں اور آنکھوں کو کوئلے سے سیاہ کرلیتے ہیں۔

انڈونیشیا کی لوک کہانیوں میں اس طرح کے بھوتوں کا ذکر موجود ہے جن کے بارے میں جاتا ہے کہ موت کے بعد ان کی روحیں زمین پر پھنس گئیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس