شاعر: احمد ندیم قاسمی

میں کہ بے وقعت و بے مایہ ہوں
تیری محفل میں چلا آیا ہوں

آج ہوں میں ترا دہلیز نشیں
آج میں عرش کا ہم پایہ ہوں

چند پل یوں تری قربت میں کٹے
جیسے اِک عمر گزار آیا ہوں

تیرا پیکر ہے کہ اِک ہالہِ نور
جالیوں سے تجھے دیکھ آیا ہوں

کہ یہ کہیں خامیِ ایماں ہی نہ ہو
میں مدینے سے پلٹ آیا ہوں

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس