0
0
0
صوبہ پنجاب کے مشہور شہر بہاولپور سے لگ بھگ 240 کلومیٹر اور رحیم یار خان سے تقریباً 55 کلومیٹر فاصلہ طے کرنے پر آپ بھونگ مسجد تک پہنچ سکتے ہیں جو ہر لحاظ سے فنِ تعمیر کا شاہکار ہے۔

یہ مسجد اپنے منفرد طرزِ تعمیر، ڈیزائن کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ اپنی خوب صورتی میں بھی مثالی ہے۔

اس مسجد کی تعمیر کا کام 50سال میں‌ مکمل ہوا۔ اسے ایرانی، ہسپانوی اور عثمانی فن تعمیر کا نمونہ کہا جاتا ہے۔

1932ء کی بات ہے جب ایک سردار رئیس غازی محمد نے یہ مسجد تعمیر کروانا شروع کی۔ کہتے ہیں کہ آپ کے جدِامجد حضرت بہاؤالدین زکریاؒ کے خلفا میں سے تھے۔ رئیس محمد غازی اعزازی مجسٹریٹ اور بہاولپور اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ وہ ایک معزز مال دار شخص تھے، لیکن ان کی زندگی نہایت سادہ اور درویشانہ تھی۔ دینی تعلیم اور عبادت کو اہمیت دینے کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں بھی سرگرم رہتے تھے۔

رئیس غازی محمد نے اس مسجد کی تعمیر کے لیے کثیر سرمایہ فراہم کیا اور آسٹریلیا، ہنگری، اٹلی و دیگر ممالک سے سنگِ سرخ، سنگِ مر مر، سنگِ خارا، سنگِ سرمئی اور سیاہ منگوائے۔ ان پتھروں کو کاٹنے اور تراشنے، پھول پتیاں بنانے، مینا کاری کے لیے ماہر کاری گروں کے علاوہ خاص طور پر ماہر خطاط کی خدمات حاصل کیں۔

اس مسجد میں صندل کی لکڑی پر نہایت باریک اور نفیس کام دیکھنے کو ملتا ہے جبکہ دیگر کئی کاری گروں نے اس کے دروازوں، کھڑکیوں سے محرابوں، میناروں اور جالیوں سے لے کر فرش تک اپنے ہنر کو نہایت نفاست اور خوبی سے نبھایا ہے۔

مسجد کے تمام دروازے ہاتھی دانت کے نفیس اور باریک کام سے مزین ہیں۔ مرکزی محراب کی تزئین و آرائش میں خالص سونا، چاندی اور قیمتی پتھر استعمال کیا گیا ہے۔

مسجد کی تعمیر کا کام 1982ء  تک جاری رہا۔ مسجد کے معماروں اور کاری گرو‌ں کو رئیس غازی نے بہت سی مراعات بھی دے رکھی تھیں اور ان کا ہر ممکن خیال رکھا گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس مسجد کا باقاعدہ نقشہ نہیں بنایا گیا بلکہ رئیس غازی محمد کے ذہن میں جو خاکہ تھا اسی کے مطابق تعمیر کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس طرح مسجد کے ڈیزائن میں کئی بار تبدیلی کی گئی۔ کئی حصوں کو دوبارہ بلکہ سہ بارہ بھی تعمیر کیا گیا۔

1950ء میں یہاں سیم کی نشان دہی ہوئی جس سے مسجد کی عمارت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔ تب تمام عمارت کو گرا کر 20 فٹ بلند ایک چبوترا بنایا گیا اور نئے سرے سے تعمیر کی گئی۔ 1975ء میں رئیس غازی محمد کا انتقال ہو  گیا جس کے بعد ان کے بڑے بیٹے رئیس شبیر محمد نے مسجد کی تعمیر کا کام 1982ء  تک مکمل کروایا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس