0
0
0
پاکستان کے نام ور مصور، خطاط شاکر علی نے نہ صرف تجریدی مصوری کے لیے مشہور ہیں بلکہ انھیں خطاطی کے فن میں جدت اور نئے تجربات کے لیے بھی پہچانا جاتا ہے۔

ڈاکٹر محمد اجمل نے شاکر علی کے ساتھ گزرے لمحات اور متعدد واقعات رقم کیے تھے جن میں سے ایک باذوق قارئین کی دل چسپی کی نذر کیا جارہا ہے۔

’’یہ مجھے یاد ہے کہ شاکر علی سے میری پہلی ملاقات غالباً 1949ء  میں لندن میں ہوئی تھی۔ یہ بھی مجھے یاد ہے کہ ڈاکٹر مقبول احمد اور مسعود کے توسط سے ہوئی تھی، لیکن بہت جلدی واسطے پیچھے رہ گئے اور بلاواسطہ ہم دوست بن گئے۔

شاکر علی کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی معصومیت اور بے تکلفی تھی، جو صرف غالباً صحیح اور فطری فن کاروں میں ہوتی ہے۔

جب وہ سلیڈ اسکول میں پڑھتے تھے تو اکثر مجھے اپنے کمرے میں لے جاتے کہ میں ان کی نئی تصویر دیکھوں۔ جب وہ مجھے تصویر دکھاتے تو ان کے چہرے پر خوشی کی ایک سرخ موج دوڑ جاتی اور آنکھوں میں ایک چمک پیدا ہو جاتی۔ بعض اوقات میں تعریف کے ساتھ کوئی تنقیدی فقرہ بھی کہہ دیتا تو وہ کہتے ”یار کہتے تو تم ٹھیک ہو لیکن یہ مجھے اسی طرح اچھی لگتی ہے۔“

ایک مرتبہ ہمارے ایک مشترکہ دوست سٹینلے ہڈ نے میری موجودگی میں ان کی ایک تصویر پر بڑی شدید تنقید کی کہ جہاں جہاں تم نے Gray اور Black رنگ لگائے ہیں وہ غلاظت معلوم ہوتی ہے۔ شاکر یہ تنقید چپکے سے سنتے رہے، بعد میں جب وہ چلا گیا تو کہنے لگے یہ بے وقوف ہے، بکتا ہے۔

یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کی شخصیت پر وجدان کی صفت حاوی تھی۔ وہ اپنے وجدان پر بے جا عقلی تنقید نہیں کرتے تھے اور اسے ایک لاحاصل سی بات سمجھتے تھے۔

ان سے پوچھتے کہ فن کیا ہوتا ہے؟ فنکار کیا ہوتا ہے تو ان کے ماتھے پر پسینہ آ جاتا اور وہ کوئی جواب نہ دیتے یا یہ کہہ دیتے ”یار مجھے نہیں معلوم۔“

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس