0
0
0
نئے کرونا وائرس کی اب تک چھے اقسام کی تشخیص ہوئی ہے اور ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ مخصوص علامات ظاہر ہوئی ہیں۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں نے کرونا وائرس سے متعلق ایک نئے تحقیقی مطالعے کے حاصلات میں ان اقسام اور ان کی علامات کی تفصیل بتائی ہے۔ان محققین نے برطانیہ میں ’کووِڈ کی علامات کا مطالعہ‘ نامی ایک رضاکار ایپ سے جمع ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کیا ہے۔

اس ایپ کو برطانیہ میں کوئی 40 لاکھ افراد نے استعمال کیا ہے اور انھوں نے کرونا وائرس سے متعلق اپنی اپنی علامات بتائی ہیں۔

ان کی فراہم کردہ تفصیل سے ظاہر ہوا ہے کہ کووِڈ-19 کی پہلے سے بیان کردہ کھانسی ، بخار اور قوت شامہ (سونگھنے کی حس) کا ختم ہونا ایسی علامات کے علاوہ بھی مریضوں میں بعض اضافی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنی زو گلوبل لمیٹڈ اور لندن کے کنگزکالج سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے یہ تحقیقی مطالعہ کیا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کووِڈ-19 کی علامات کو ان کے امتیازی خصائص کی بنا پر چھے گروپوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔وہ یہ ہیں:

1۔ زکام (فلو) کی علامات ،مگر بخار کے بغیر۔اس کی اضافی علامات یہ ہوسکتی ہیں: سردرد ، اعصاب میں درد،قوتِ شامہ سے محروم ہوجانا، کھانسی ، سینے میں درد۔
2۔ زکام بخار کے ساتھ ۔ سردرد ، سونگھنے کی حس ختم ہوجانا، گلے میں خراشیں، کھانسی ، بھوک ختم ہوجانا اور بخار۔
3۔ معدے کی خرابی ۔ سردرد ، سونگھنے کی حس سے محرومی ،بھوک نہ لگنا ، گلے میں خراشیں ،سینے میں درد مگر کھانسی نہیں، ہیضہ ۔
4۔ نقاہت ،تھکاوٹ ،شدید سطح اوّل۔ سردرد ، سونگھنے کی حس کا خاتمہ ، کھانسی ،سینے میں درد ، بخار ، گلے میں تکلیف۔ نقاہت ۔
5۔ الجھاؤ۔ شدید سطح دوم۔ سردرد ، سونگھنے کی حس کا خاتمہ ، بھوک نہ لگنا ، کھانسی ، گلے میں خراشیں ، سینے میں درد ، بخار ، گلے میں تکلیف ، نقاہت ، اعصاب میں درد ، الجھاؤ ( کنفیوژن) ۔
6۔شدید سطح سوم۔ معدے اور نظام تنفس کا بگاڑ ، سردرد ، سونگھنے کی حس کا خاتمہ ، بھوک نہ لگنا ، کھانسی ،گلے میں خراشیں ، سینے میں درد ، بخار، گلے میں تکلیف،نقاہت ، اعصاب میں درد ، الجھاؤ، ہیضہ ، سانس لینے کے دورانیے میں کمی، معدے میں درد۔

ان محققین کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں کووِڈ-19 کی عام علامات پائی گئی ہیں، انھیں اسپتال جانے کی ضرورت پیش نہیں آئی ہے۔ان میں عام زکام یا معدے کی تکلیف میں مبتلا ہونے والے مریض ہیں۔ البتہ ان کے مقابلے میں اعصاب میں درد ، کنفیوژن ، نقاہت اور دوسری علامات کے حامل مریضوں کو اسپتال لے جانا پڑا ہے۔

اس مطالعہ کے مطابق اقسام2،1 اور 3 کی اطلاع دینے والے افراد نے بتایا کہ انھیں سانس لینے کے لیے کسی معاونت یا معاون آلے کی ضرورت پیش نہیں آئی اور ان میں سے ہر ایک کو بالترتیب 1۰5 ،4۰4 اور 3۰3 فی صد مدد کی ضرورت پیش آئی ہے۔

تاہم 5،4 اور 6 نمبر کی اقسام کی اطلاع دینے والے افراد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس صورت میں انھیں نظام تنفس کو بحال رکھنے کے لیے مدد کی ضرورت پیش آئی ہے۔ کلسٹر 6 کے قریباً 20 فی صد مریضوں کو سانس لینے کے لیے امدادی آلات کی ضرورت پیش آئی ہے جبکہ نمبر 4 اور 5 کے 8۰6 اور 9۰9 فی صد مریض سانس لینے کے لیے مدد کے طالب ہوئے تھے۔

ان تینوں گروپوں سے تعلق رکھنے والے مریضوں میں زیادہ تر ضعیف العمر افراد تھے اور وہ پہلے سے ذیابیطس ، بلند فشار خون اور موٹاپے سمیت مختلف عوارض میں مبتلا تھے۔ماہرین کے مطابق چھٹے نمبر کی علامات کے حامل مریض سب سے زیادہ خطرے سے دوچار تھے اور ان میں سے قریباً نصف کو اسپتال داخل کرانا پڑا تھا جبکہ کلسٹر 1 کے صرف 16 فی صد مریضوں کو اسپتال جانا پڑا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ کرونا وائرس کی وَبا کے پھیلنے کے رجحان کی نگرانی اور اس کے علاج میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس