0
1
0
قلم قرینہ: ساجد عمر گِل

ارشد خان سے فون پر بات ہوئی۔ طے ہواکہ فلاں مقام پر واقع ریستوران میں شام کو ملاقات ہو گی۔ برادرِ عزیز ارشد خان کے توسط سے کئی اچھے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔تعارف اور پھر تعلق بھی استوار ہوا۔ مذکورہ ریستوران کے مالک رضوان بھائی بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ وضع دار، پڑھے لکھے اور صاحب مطالعہ و صاحب خبر انسان۔ لطف آتا ہے ان کی صحبت میں۔ وقتِ مقررہ پر ریستوران پہنچنا لازم تھا۔ پہنچنے پر ریستوران کے باہر ہی ایک کونے میں سٹینڈ پہ دھرے بریانی کے بڑے سے دیگچے سے آنے والی لذت بھری خوشبو نے قدم روک لئے۔ دوستوں سے کہا کہ موسم خوشگوار ہے آج باہر ہی کرسیاں بچھا کر بیٹھتے ہیں۔ بیٹھنے پر رضوان بھائی نے بریانی بیچنے والے سے تعارف کروایا۔ تعارف ہوتے ہی گفتگو طویل سانچوں میں ڈھل گئی۔ حیران کن باتیں۔ یقینا میری طرح آپ بھی ورطہ حیرت میں ڈوب جائیں گے۔ بریانی بیچنے والے حاجی صاحب نے بتایا کہ ان کا تعلق ڈی جی خان سے ہے۔ لگ بھگ پینتیس برس سعودی عرب میں مقیم رہے۔ اچھا کاروبار تھا۔ دو بیویاں اور بچے ہمراہ تھے۔ جب میاں نواز شریف جلاوطن ہو کر سرور پیلس جدہ میں مقیم ہوئے تو بہت سے دیگران کے ہمراہ حاجی صاحب کے بھی ان سے تعلقات استوار ہو گئے۔ جو اس حد تک بڑھے کہ حاجی صاحب کو مکہ مکرمہ سٹی کا صدر بنا دیا گیا۔ مسلم لیگ ن مکہ مکرمہ کا صدر ہونے کی حیثیت سے حاجی صاحب کا نہ صرف شریف فیملی کے اہم افراد سے تعلق بڑھا بلکہ پاکستان کی بہت سی سیاسی اور صحافتی شخصیات سے بھی تعارف ہو گیا۔ چانچہ وہ بہت سے اہم معاملات اور واقعات کے چشم دید گواہ بنے۔ حتیٰ کہ میاں نواز شریف کے والد گرامی کے جنازے کو کندھا دینے والے اولین لوگوں میں یہی حاجی صاحب تھے۔ وقت بدلا اور شریف فیملی واپس پاکستان آئی۔ اقتدار پھر سے ملا۔ دوسری طرف حاجی صاحب پر تقدیر کی سختی آئی۔ 

اچانک جو ان بیٹا گردوں کے ناکارہ ہو جانے کے باعث جاں بلب ہوا۔ سعودی عرب کے مختلف ہسپتالوں میں علاج معالجے کا سلسلہ چلا تو مگر شفایاب ہونا مریض کا مقدر نہ تھا۔ جب شہباز شریف اپنے گذشتہ عمرہ پر سعودی عرب گئے تو چند دیگر دوستوں کے ذریعے ان تک یہ معاملہ پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ حاجی صاحب پریشان نہ ہوں آپ بیٹے کو پاکستان شفٹ کریں۔ انشااللہ اس کے علاج اور صحت مندی کے لئے ہر ممکنہ کاوش کی جائے گی۔ چنانچہ نوجوان کو فوری پاکستان بھیجنے کا بندوبست کیا گیا۔ وہ یہاں شیخ زائد ہسپتال میں زیر علاج ہوا اور یہیں کچھ عرصہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہ کر آخر کار اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ یہ روداد سناتے ہوئے حاجی صاحب کی آواز کا زیر و بم میرے دل پر قہر توڑ رہا تھا مگر وہ ذرا دم لینے کو رکے تو صحافیانہ علت کے باعث فوراً سوال داغا۔ ”کیا اس دوران شہباز شریف صاحب نے آپ سے کوئی رابطہ کیا؟ یا وعدے کے مطابق آپ کے نوجوان بیٹے کی زندگی بچانے میں کوئی کردار ادا کیا؟“ سوال نے یقینا غم زدہ باپ کے غم میں مزید اضافہ کر دیا۔ اک آہ سی بھری اور دھیمے سے کہا ”ہاں ایک بار پوچھا تو تھا“۔ مجھے رنج اور غصے نے گھیرا۔ سوچا یہ کیا بدقسمت لوگ ہیں کہ جو اپنے مخلص کارکنوں کا خیال بھی نہیں رکھ پاتے۔ یقینا یہی اطوار ان کے زوال کا باعث بنتے ہوں گے۔ کڑواہٹ بھرے دل میں خود سے کہا ”تف ہے ایسے لوگوں پر“۔ چند ساعتیں خموشی کی یوں بیت گئیں گویا کہ صدیاں ہوں۔ پھر ارشد خان کی آواز سماعتوں سے ٹکرائی۔ پوچھ رہا تھا ”حاجی صاحب! اب تو آپ کا ان سے کوئی تعلق باقی نہ رہا ہو گا؟“ جو اب سننے کو کان متوجہ تھے۔ توجہ پر یہ سوچ بھی غالب تھی کہ یقینا جواب نفی میں ہوگا۔ مگر جواب جو سنا تو حیرت نے پتھر بنا دیا۔ حاجی صاحب نے کہا ”نہیں تعلق تو اب بھی قائم ہے۔ ابھی اگلے روز کیپٹن صفدراور دیگر ساتھیوں کا پیغام آیا ہے کہ مریم بی بی اور نواز شریف صاحب کہتے ہیں شہباز شریف روکے بھی تو مولانا فضل الرحمن کے جلسے اور دھرنے میں ضرور جانا“۔ گہری سوچوں نے یوں گھیرا کہ یکبارگی گفتگو تمام ہوگئی۔ کوئی اندر ہی اندر من میں چیخنے لگا۔ صاحب! یہ کیسے سیاسی ورکر ہیں؟ نوجوان بیٹے کی موت جن کی بے اعتنائی کے باعث دیکھی۔ 

سعودی عرب کا کاروبار ٹھپ ہوا۔ پینتیس برس سعودی عرب میں رہنے کے باوجود ایک شخص اب لاہور میں بریانی کا ٹھیلا لگائے بیٹھا ہے مگر دل سے نواز شریف کی محبت نہ گئی۔ جانے یہ انتہا درجے کی حماقت ہے یا مخلص ترین سیاسی وابستگی؟ جواب سادہ سا ہے۔ جس ملک میں آج تک بھٹو کو کوئی طاغوتی ہاتھ حقیقی معنوں میں مار نہیں سکا وہاں نواز شریف کے حامیوں کو جیتے جی اُس کا ساتھ دینے سے کب تک روکا جا سکتا ہے؟ نواز شریف کا سیاسی کارکن آج بھی تگ و دو میں لگا ہوا ہے۔ پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ والی کیفیت میں سختیاں سہتے سہتے یہ لوگ کندن بن جائیں گے۔ لاکھ کہا جائے کہ شریف قیادت کرپٹ تھی۔ چوری اور ڈاکے سے مال بنایا گیا مگر سیاسی کارکنوں کو کون سمجھائے؟ البتہ سیاسی کارکن کی ایک بات سے موجودہ سیاسی ماحول اور مدوجزر کی کیفیت میں ایک انہونی کا اظہار بھی ہو گیا۔ اگر نواز شریف اور مریم بی بی کا مولانا فضل الرحمن کے جلسے، دھرنے اور شہباز شریف کے بارے پیغام والی بات میں کچھ سچائی ہے تو پھر خاطر جمع رکھیے۔ گویا اس گھر کو آگ گھر کے چراغ ہی سے لگنے والی ہے۔ مخلص کارکنان اپنی مسلم لیگ ن کو بچانے کی جس قدر بھی تگ و دو کریں، مولانا فضل الرحمن کا احتجاج شریف خاندان میں دوریاں بڑھا اور دراڑیں ڈال جائے گا۔ آنے والے وقت کے دامن میں کیا کیا کچھ پنہاں ہے؟ جلد عیاں ہو جائے گا۔ 

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس