0
1
0
قلم قرینہ: ساجد عمر گِل

گذشتہ دنوں صوبہ سندھ کے مختلف علاقوں میں کتوں کے کاٹنے سے انسانی اموات کی خبریں آئیں۔ خیر کتوں کا تو کام ہی بھونکنا اور کاٹنا ہے۔ یہ اُن کا فطری حق ہے۔ انہیں ان کے بنیادی حقوق اور استحقاق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ بنیادی حقوق کا مسئلہ تو عموماً انسانوں کو درپیش ہوتا ہے مگر جانے کیوں ہمارے ملک میں خیر سے صرف سیاستدانوں کو اپنی ذات کے لئے یہ مسئلہ سب سے اہم محسوس ہوتا ہے۔ چنانچہ کتوں کے کاٹنے کی خبروں پر ردِ عمل دیتے ہوئے سندھ کے حکمران سیاستدانوں نے پہلے تو بے خبری کا اظہار کیا پھر اطلاع آئی کہ لوگ کتوں کے کاٹنے سے نہیں مرے بلکہ ویکسین کی عدم دستیابی اموات کا باعث بنی ہے۔ اب تمام تر بنیادی حقوق اور استحقاق کے حاملین سے کون پوچھے کہ ویکسین کی فراہمی تو بحرحال سیاسی حکومت کا ذمہ ہے۔ کتوں کا کام ہے بھونکنا اور کاٹنا وہ تو ایسا کرتے ہی رہیں گے۔ انہیں ایسا کرنے سے روکا گیا تو پہلے سے مچے ہوئے اودھم میں وہ اضافہ ہو گا کہ پھر کان پڑی آواز سنائی نہ دے گی۔ چنانچہ کتوں کو چھیڑنے کی بجائے ہم بات کرتے ہیں انسانوں کی۔ انسان جو گاہے کتے سے آگے بڑھ کر  بھیڑیا بھی بن جاتا ہے۔

 دیکھا جائے تو مملکت کے بیشتر اہم امور زیادہ تر ان بھیڑیا نما انسانوں کے ہاتھوں ہی میں رہے ہیں۔ چنانچہ اب یہ ملک ایک حیوانی جنگل کا منظر پیش کرتا ہے۔ ماضی میں کراچی کے بدترین حالات پر چوٹ کرتے ہوئے انور مقصود نے کتے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”بھاگ ورنہ آدمی کی موت مارا جائے گا“۔ ہمارے سماجی حیوانی نظام کا معجزہ ہے کہ اب شاعر کو طنز کرنے کے لئے بھی انسان کو کتے سے تشبیہ دینا پڑتی ہے۔ ہوسِ اقتدار میں مبتلا حیوانوں کو مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ اپنی ہی دھن میں بھونکتے اوہو معاف کیجئے گا وہ اپنی ہی دھن میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ شہر کچرے کا ڈھیر ہو یا معیشت کوڑے کا انبار۔ جہالت کے مینار ہوں یا کرپشن کی دلدلیں۔ انہیں کیا؟ اُن کی مسندِ اقتدار جمی رہنی چاہئے۔ انسانوں کو کتے کاٹیں یا بھوک کے مارے غریب لوگ کتوں کو کاٹ کھائیں۔ انہیں کیا؟ ملک سے کبھی جہالت ختم ہوئی نہ غربت۔ حکمرانوں کے محل البتہ ہمیشہ آباد۔ معیشت کی زبوں حالی کے باعث ملک غلامی کی دلدل میں دھنس گیا مگر انہیں کیا؟ یہ تو ہر حال میں چین کی ہنسی بجاتے ہیں۔ ڈھٹائی اس حد تک بڑھ چکی کہ آسمان پر لکھے حقائق بھی آسانی سے جھٹلا دئیے جاتے ہیں۔ انسان نما بھیڑیوں اور لالچ اور ہوس کے مارے کتوں جیسے لوگوں کی رال ٹپکتی ہے تو ناجائز کمائی ہوئی دولت کے ڈھیروں پر۔ افسوس کہ ان کے وحشی پاگل پن کے علاج اور سدباب کے لئے تاحال کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی۔

 ٹیکس اکٹھا کرنے والے اداروں میں بیٹھے ہوئے حرام خور بھی اپنی روش چھوڑنے پر مائل نہیں۔ ناجائز کمائی کے باب میں کچھ کاروباریوں کے کردار بھی اہم ہیں۔ ہر طرح کی غیر منصفانہ اور ناجائز روش ان کے ہاں جائز ہے۔ بیمار معیشت کو مزید بیماریاں لگانے والے یہ لوگ بھی ہر طرح کے حیوانی عمل کو روا رکھے ہوئے ہیں۔ چور بازاری۔ ٹیکس چوری اور ناجائز منافع فوری کے جنگل کے یہ بے تاج بادشاہ کسی قانونی اور اخلاقی قدغن کی پر واہ نہیں کرتے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کیسا سچ ان کے منہ پر بولا۔ انڈر انوائسنگ کے باعث ملکی خزانے کا کس قدر نقصان ہوتا ہے اس کا اندازہ ملکی معاشی مسائل کے آسمان تک بلند گراف سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اگلے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تاجروں اور صنعتکاروں سے اجتماعی ملاقات میں بات چیت کرتے ہوئے چونکا دیا۔ کہا کہ چین سے بارہ ارب ڈالر کی برآمدات پاکستان آ کر محض چھ ارب رہ گئیں۔ ملاقات میں شریک ایک اسٹاک برو کرنے کہا کہ چھ ارب ڈالر کی انڈر انوائسنگ کی گئی ہے۔ کیسا بھیانک سچ ہے!! آرمی چیف سے ملاقات کرنے والوں میں میاں محمد منشا، علی حبیب، حسین داؤد، عارف حبیب، گوہر اعجاز، ملک ریاض، سلطان علی الانہ، سلطان لاکھانی، میاں عامر محمود اور کچھ دیگر شامل تھے۔ علاوہ ازیں چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی، وزیر مملکت حماد اظہر اور حفیظ شیخ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ دوران ملاقات میاں محمد منشا کو اپنی لاف زنی کے باعث منہ کی کھانی پڑی۔ 

یہ بات سن کر ہی لطف آ گیا۔ افواج پاکستان نے گو بہت سے ایسے علاقوں میں حفاظتی باڑ لگا دی ہے جہاں سمگلرز کیلئے بہت سی آسانیاں تھیں پھر بھی کئی ارب ڈالر کی سمگلنگ کا مذموم دھندا تاحال جاری ہے۔ یاد رہے کہ اربوں ڈالر کی تجارت اہم کاروباری لوگ کرتے ہیں اور سمگلنگ کا دھندا بااثر افراد کی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اہم کاروباریوں اور بااثر سمگلرز کے کرتوتوں کی سزا عوام الناس کو کیوں بھگتنا پڑتی ہے۔ کیوں کوئی قانون اور ضابطہ ان کے آڑے نہیں آتا؟ جیسے ہی بڑے لوگوں پر ہاتھ پڑتا ہے ایک اودھم سا مچ جاتا ہے۔ بڑے آدمی کیلئے کوئی سزا نہیں اور عام آدمی کیلئے ہمارے ہاں کوئی جزا باقی نہیں رہ گئی۔ مقتدرانِ ملک یہ بات یاد رکھیں کہ انسانی سماج کا خاصہ یہی سزا اور جزا کا عمل ہی تو ہے۔ اس کا تسلسل برقرار نہ رہے تو انسانی سماج کو حیوانی سماج بننے میں پل بھر کی دیر نہیں لگتی۔ دیر تو پہلے ہی بہت ہو چکی ہے اب مزید تاخیر ہوئی تو وقت آئے گا کہ عوام الناس انسان ہوتے ہوئے بھی اپنے اردگرد بھونکنے اور کاٹنے والے بے شمار کتوں اور بھیڑیوں کو کاٹ کھائیں گے۔ جنگل کا راج قائم کرنے والے ذہن نشین رکھیں کہ جنگل میں اصل راج طاقت اور طاقتور کا ہوتا ہے۔ جس دن عوام الناس نے اپنی طاقت کا استعمال کرنا شروع کر دیا تو پھر بنسی بجانے کو بھی کوئی بانس باقی نہ رہے گا۔ 

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس