0
0
0
مکالمہ:سلمان عابد

salmanabidpk@gmail.com

پانچ اگست کے بھارتی اور بالخصوص نریندر مودی کے مقبوضہ کشمیر کے تناظر میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے نتیجہ میں مسئلہ کشمیر حقیقی عمل میں دنیا کے سامنے ایک بڑے سیاسی اور انسانی حقوق کے مسئلہ کے طور پر سامنے آیا ہے ۔ اس وقت مسئلہ کشمیر عالمگیر حیثیت اختیار کرگیا ہے اور دنیا کے تمام ممالک اور عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر زیربحث ہے ۔ بالخصوص انسانی حقوق کے تناظر میں عالمی دنیا کی بھارت کے اقدامات پر تشویش کا پہلو نمایاں ہے ۔ ماضی میں مسئلہ کشمیر اس شدت کے ساتھ عالمی مباحثہ کا حصہ نہیں بنا جتنا اس وقت عالمی دنیا میں اس مسئلہ پر کھل کر بحث ہورہی ہے ۔ ہمیں واقعی نریندر مودی کو داد دینی ہوگی کہ اس کے حالیہ اقدام نے مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو اجاگر کیا او رجو تقریر اقوام متحدہ میں وزیر اعظم عمران خان نے کی اس نے حقیقی معنوں میں مسئلہ کشمیر سمیت بھارت کی ہندواتہ کی سیاست او رعالمی دنیا میں موجود مسلم فوبیا کی کھل کر نشاندہی کرکے عالمی رائے عامہ کو بیدار کیا ہے ۔

پاکستان نے جہاں سیاسی ، سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر کافی سرگرم کردار ادا کیا وہیں ہمارے علمی ، فکری حلقوں نے بھی مسئلہ کشمیر کی اہمیت کے پیش نظر نوجوانوں میں فکری مباحثہ کو بنیاد بنا کر ایک مکالمہ کے کلچر کو پیدا کیا ۔ اس کا مقصد نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر کی اہمیت ، پاکستان اور بھارت کے کردار سمیت عالمی قوانین او ربالخصوص انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر آگاہی دینا تھا ۔لاہو رمیں اس تناظر میں تین اہم فکری نشستوں کا انعقاد ہوا ۔ پہلی نشست پنجاب کی بڑ ی درس گاہ جامعہ پنجاب ، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل افیرز)پائنا(،متحدہ علما کونسل اور اکیڈمک سٹاف ایوسی ایشن پنجاب یونیورسٹی کے تعاون سے مسئلہ کشمیر پر قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ فیصل آڈیٹوریم نوجوان طالب علموں اور اساتذہ سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا ۔تقریب کے مہمان خصوصی آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر تھے ۔جبکہ جامعہ پنجاب کے سربراہ ڈاکٹر نیاز احمد اختر، پائنا کے سربراہ الطاف حسن قریشی ، اکیڈمک سٹاف ایوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر ممتاز انور، مجیب الرحمن شامی ، قمر الزمان کائرہ ، اعجاز چوہدری ، محمد مہدی سمیت کئی اہم مقرر تھے ۔

ڈاکٹر نیاز احمد اختر او رالطاف حسن قریشی کا کمال یہ ہے کہ وہ اہم قومی مسائل پر اس طرز کی کانفرنسز کا انعقاد کرکے ایک بڑی قومی ذمہ داری کا حق ادا کرتے ہیں ۔ہا ل میں موجود نوجوان طبقہ مسلسل کشمیریوں کے حق آزادی کے حق میں او رنریندر مودی مخالف نعروںسے اپنے ہونے کا احساس دلارہے تھے ۔مقررین کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ہمیں سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر ایک سرگرم او رمتحرک کردار کی ضرورت ہے اور بالخصوص ہمیں میڈیا کے محاذ پر عالمی دنیا اور طاقت ور ممالک کو باور کروانا ہوگا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کریں ۔سفارتی محاذ پر ہمیں جذباتیت کی بجائے ٹھوس بنیاد پر اپنی سیاسی اور سفارتی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔الطاف حسن قریشی نے بنیادی نکتہ یہ اٹھایا کہ اس موقع پر ہمیںحکومت اور حزب اختلاف کے درمیان سیاسی اہم اہنگی کی ضرورت ہے او راس تاثر کی نفی کرنی ہے کہ قومی مسائل پر حکومت اور حزب اختلاف تقسیم ہے ۔مجیب الرحمن شامی کا نکتہ تھا کہ اس وقت تمام جماعتوں کی ایک پارلیمانی کمیٹی کشمیر کے تناظر میں بنائی جائے جس کی سربراہی وزیر اعظم خود کریں ۔وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز اختر نے کہا کہ جامعہ پنجاب او ریہاں موجود تمام طالب علم او راساتذہ کشمیر کی آزادی کے تناظر میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں او رکسی بڑ ی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا ۔

دوسری تقریب یونیورسٹی آف مینجمنٹ ٹیکنالوجی )یو ایم ٹی (کے اسکول آف میڈیا کی جانب سے ایک گول میز مباحثہ ” مسئلہ کشمیر ، ممکنہ حل ، توقعات او رخدشات “کا انعقاد کیا گیا ۔ میڈیا اسکول کے سربراہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کا کمال یہ ہے کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں اس طرز کے قومی معاملات پر اپنا ذمہ دارانہ کردار اداکرکے اپنے ہونے کا خوب احسا س دلاتے ہیں ۔اس تقریب میںسابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان ، مجیب الرحمن شامی ، سجاد میر، سلمان غنی ، اوریا مقبول جان ، افتخار احمد، عطاالرحمن ، حبیب اکرم ،جنرل )ر(غلام مصطفی ، امیر العظیم اور راقم شامل تھے ۔اس تقریب کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ہمیں سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر کی اہمیت کے پیش نظر کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے او رجو کچھ پاکستان نے حالیہ دنوں میں سفارتی محاذ پر اہم اقدامات اٹھائے ہیں ان کو کیسے مستقل بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے ۔بالخصوص اس نکتہ پر بھی زور دیا گیا کہ اگر بھارت او رنریندر مودی اپنے جارحانہ عزائم کے ساتھ اپنی پالیسی کو جاری رکھتے ہیں تو اس تناظر میں ہماری حکمت عملی کیا ہونی چاہیے ۔اسی طرح عالمی حکمران طبقات کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل میں کمزور کردار پر بھی کھل کر بات چیت کی گئی او ر کھل کر کہا گیا کہ اگر عالمی بڑے ممالک نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ذمہ دارانہ کردار ادا نہ کیا تو اس سے پاک بھارت تعلقات میں بھی کشیدگی بڑھ سکتی ہے ۔بھارت کی سیکولر سیاست کے کمزور ہونے او روہاں ہندواتہ کی سیاست کو طاقت دینے کے عمل نے بھار ت میں موجود مسلمانوں او رکشمیریوں کو ایک بڑے خوف میں مبتلا کردیا ہے ۔ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کا کہنا تھا کہ ہمارے میڈیا او رمیڈیا سے جڑے تعلیمی اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک میں او رملک سے باہر میڈیا کے محاذ پر ایک بڑ ی سفارتی جنگ لڑیں او راس میں نئی نسل سے جڑے افراد سوشل میڈیا کی مدد سے بھارت کے جارحانہ عزائم کو بنیاد بنا کر ایسا بیانیہ پیش کریں جو امن سے بھی جڑا ہو اور سفارتی سطح پر بھارت کی جانب سے کی جانے والی مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی پامالی کا مقدمہ بھی پیش کرے ۔

تیسری تقریب لاہو رکالج آف ویمن یونیورسٹی کے ماس کمیونکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ایک اہم کانفرنس کا انعقاد تھا ۔ اس کانفرنس کی صدارت وائس چانسلر ڈاکٹر بشری مرزا نے کی ،جبکہ مہمان خصوصی صوبائی وزیر اطلاعات میاں اسلم اقبال تھے ۔ دیگر مقررین میں ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ، سلمان غنی ، ڈاکٹر انجم ضیا او رراقم تھے ۔ ایک ہزار کے قریب طالبات کی موجودگی میں پورا ہا ل بار بار کشمیریوں کے حق میں نعرے بازی سے گونج رہا تھا ۔ ڈاکٹر انجم ضیا نے بڑی خوبصورتی سے کانفرنس کا انعقاد کیا او رجس انداز سے طالبات او راساتذہ نے اس تقریب میں شرکت کی وہ قابل دید تھا ۔یہ تقریب وزیر اعظم کی اقوام متحدہ میںکی جانے والی تقریر کے بعد منعقد کی گئی اور تقریر کے بعد کا جو سیاسی ماحول وزیر اعظم کے حق میں بنا اس کا تاثر بھی تقریب میں مقررین کی گفتگو او رطالبات کی تالیوں سے جھلک رہا تھا ۔ہال میں کشمیر کی جدوجہد آزادی کے حق میں ترانوں نے بھی ماحول کو خوب گرمایا ۔وائس چانسلر ڈاکٹر بشری مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستانی خواتین او ربالخصوص نوجوان طالبات کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے حق میں کھڑی ہیں او راگر ہم پر بھارت کی جانب سے کوئی جنگ مسلط کی گئی تو طالبات اس

 جنگ میں پیچھے نہیں رہیں گی ۔مہمان خاص صوبائی وزیر اسلم اقبال نے کہا کہ حکومت او ربالخصوص وزیر اعظم نے جس جارحانہ انداز سے باہر بیٹھ کر مسئلہ کشمیر پر سفارت کاری کی ہے اس عمل سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ایک نئی طاقت ملی ہے او روزیر اعظم نے خود کو کشمیر کے سفیر کے طو رپر دنیا میں پیش کرکے کشمیریوںکے دل جیتے ہیں ۔

تعلیمی اداروں میں مسئلہ کشمیر سمیت دیگر قومی مسائل پر اس طرز کی کانفرنسوں کا انعقاد ایک خوش آئند پہلو ہے ۔کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم نئی نسل کے لوگوں کوبھی یہ باور کروائیں کہ ہمارے حقیقی مسائل کیا ہے او ران مسائل کے حل میں نوجوانوں او ربالخصوص اساتذہ کا کیا کردار بنتا ہے ۔کیونکہ ہماری نئی نسل کو یہ باور کروانا ضروری ہے کہ وہ پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کے مسئلہ کو سمجھیں او ر یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کشمیریوں کا حق خودارادیت کیا ہے ۔ اسی طرح جو بھار ت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہورہی ہے اس سے آگاہی کا عمل ضروری ہے ۔ مسئلہ محض پاکستان کا موقف ہی نہیں بلکہ انسانی حقوق کی پامالی پر ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومین رائٹس واچ ، یورپی یونین سمیت دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس سے بھی آگاہ ہونا چاہیے کہ کس طرح سے بھارت افواج بربریت کا مظاہرہ کررہی ہے ۔مسئلہ کشمیر پر تعلیمی اداروں کی جانب سے کانفرنسوں کا انعقاد او رزیادہ بڑھانا ہوگا ،کیونکہ ابھی پاکستان کو بہت کچھ کرنا ہے اور ثابت کرنا ہے کہ ہم کشمیریوں کی جدوجہد کے ساتھ کھڑے ہیں ۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس