0
1
0
قلم قرینہ: ساجد عمر گِل

امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کا سابق چیف جے ایڈگر بھی کیا شہ دماغ آدمی تھا۔ موصوف نے نہ صرف سی آئی اے کو دنیا کی سرفہرست انٹیلی جنس ایجنسی بنانے میں اہم ترین کردار ادا کیا بلکہ اپنے ملک امریکہ کے لئے حب الوطنی کے جذبے سے معمور ایسی ایسی خدمات سرانجام دیں کہ امریکی تاریخ سے اُسے کبھی محو نہیں کیاجا سکتا۔ جے ایڈ گر نے ہی پہلی بار پیٹرو ڈالر کی اصطلاح متعارف کروائی تھی۔ یہ بھی طے کروایا کہ دنیا بھر میں ہونے والی تیل اور دیگر مصنوعات کی بیشتر تجارت بھی ڈالر میں ہو گی۔ نتیجتاً آج کل ہر ملک ڈالر کا محتاج اور زیرِ نگیں ہو کے رہ گیا ہے۔ امریکی عالمی اقدامات کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں خواہ وہ کسی کے بھی خلاف ہو مگر اُن کی کاوشیں بہرحال اپنے ملک کے استحکام اور ترقی کیلئے ہوتی ہیں۔ بطور پاکستانی ذاتی طور پر ہمارا مسئلہ صرف اور صرف پاکستان ہے۔ اس کی بقاء، اس کا استحکام اور اس کی ترقی ہی ہمارا خواب ہے۔ اقبال نے کہا تھا کہ ”اسی کشمکش میں گذریں مری زندگی کی راتیں“۔ تو صاحب ان آنکھوں نے مدتوں سے کوئی اور سپنا اپنے من میں سجایا ہی نہیں۔ پاکستان کے کئی اہم مسئلے ہیں۔ سب سے پہلے حب الوطنی کا فقدان۔ پھر ناہنجار قیادتیں اور پھر جہالت۔ معیشت کی زبوں حالی بھی اہم مسئلہ ہے۔ علاوہ ازیں مذہب کا بدترین استعمال، ہوس پرستی، مسند و اقتدار کی لالچ۔ دیمک زدہ قانون و انصاف کے ادارے اور تعلیمی نصاب میں مثبت سمت کے فقدان کا مسئلہ۔ مسائل کا انبوہِ گراں اور مخدوش آئندگی کے دھڑکے۔ 

شاعر تو اب اپنے خدا سے بھی سوال کناں ہے۔ یعنی ”جاں دے کے تو پھر اس کی اماں کیوں نہیں دیتے؟“ فی الحال امکان ہے کہ معیشت کے استحکام سے ملکِ عزیز پاکستان کو اماں میسر آئے گی۔ انڈسٹری تباہ ہو جانے کے باعث پروڈکشنز نہ ہونے کے برابر ہیں چنانچہ اس وقت ہماری درآمدات کا حجم 50 ارب ڈالر سے بھی بڑھ چکا۔ ایسے میں برآمدات محض 10 سے 15 ارب ڈالر تک محدود ہو کے رہ گئیں۔ درآمدات میں قریباً 15 سے بیس ارب ڈالر تو ہم چین کے کھاتے میں لکھ دیتے ہیں۔ اگر یہی درآمدات یو آن یعنی چینی کرنسی میں کی جائیں تو ہم ڈالر کے کسے ہوئے شکنجے میں کچھ تو سانس لینے کے قابل ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ قیادت ممکن بنائے کہ اپنے ہاں سے بہت سے پروفیشنلز چین بھجوائے۔ وہ وہاں کام کریں اور قیمتی چینی کرنسی اپنے وطن پاکستان بھیجیں۔ اُسی زر مبادلہ سے ہم چینی مال کی خرید کریں۔ گیس اور کچھ دیگر مصنوعات و معدنیات ہم ایران سے لے سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1960-61 ء میں بطور وفاقی وزیر قدرتی وسائل ذوالفقار علی بھٹو نے سوویت یونین سے 50 ملین امریکی ڈالر کی امداد حاصل کی تھی۔ تیل کی تلاش میں صرف ہونے والے یہ ڈالر پاکستان نے پاکستانی روپوں میں واپس کرنے تھے۔ اسی طرح بھٹو نے خلیجی اور عرب ریاستوں میں پاکستانی افرادی قوت کا بہترین مصرف ڈھونڈا تھا۔ نتیجتاً کثیر زر مبادلہ کی صورت پیدا ہوئی۔ اگر تب بھٹو ایسا کر سکتا تھا تو موجودہ قیادت چین میں اپنے پروفیشنلز اور مزدور کیوں نہیں بھیج سکتی۔ صرف حب الوطنی کی بنیاد پر کھڑے ویژن کی ضرورت ہے۔ 

اِس حکمتِ عملی کی راہ میں صرف ایک روڑہ ہے اور وہ ہے سعودی عرب کا امریکہ سے معاہدہ۔ معاہدے کے تحت سعودی عرب اپنا تیل صرف ڈالروں میں بیچنے کا پابند ہے۔ اگر پاکستان مذکورہ بالا دبنگ اقدامات دھڑلے سے اٹھائے تو کسی حد تک ڈالر کے شکنجے سے نکلا جا سکتا ہے اور اگر ہم اپنے ساتھ ساتھ چند اور ہم خیال ممالک کو بھی ڈالر کی بجائے چینی کرنسی یوآن کی جانب راغب کریں تو یقینا امریکی ڈالر کے قویٰ مضمحل ہوں گے۔ عالمی مارکیٹ میں ڈالر اپنی اوقات پر آئے گا تو امریکی چیرہ دستیوں کا سدِباب بھی ممکن ہو گا۔ پاکستانی معاشی استحکام سے عوام الناس کو بھی باوقار روزگار ملے گا۔ عوامی ترقی کے منصوبے تشکیل پائیں گے۔ صحت اور تعلیم کے میدان میں خاطر خواہ مثبت امکانات اجاگر ہوں گے۔ رہ گئی بات عدل و انصاف کے اداروں کی، تو اس محاذ پر اللہ ہی ہماری مدد کرے۔ کرپشن اور بداعمالیوں نے وطن کی بنیادیں تک کھوکھلی کر دی ہیں۔ کاش آئے کوئی ایسا کہ جو عدلِ فاروقیؓ اور عدالتِ علی ؑ کی یاد تازہ کر دے۔ کاش ہمارے ہاں کے فیصلہ سازوں میں صرف اور صرف حب الوطنی کا عنصر بڑھ جائے تو پھر ڈالر اور امریکہ کیا شے ہے ہم دنیا میں کسی بھی بڑے سے بڑے طاغوت کو شکست سے دو چار کر سکتے ہیں۔ 

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس