0
1
0
مکالمہ:سلمان عابد

salmanabidpk@gmail.com

پاکستان کی سیاست کا بنیادی مسئلہ سیاسی محاذ آرائی اور ایک دوسرے پر بداعتمادی کا پہلو ہے ۔ سیاست میں جب کوئی فریق ایک دوسرے کو قبول کرنے کی بجائے سیاسی تعصب ، نفرت، بغاوت یا عدم برداشت ، الزام ترشیوں منفی طرز عمل کا مظاہرہ کرے تو اس کا عملی نتیجہ سیاسی محاذ پر ایک بڑی محاز آرائی اور انتشار کی سیاست کے تناظر میں پیدا ہوتا ہے ۔پاکستان کی سیاست کا المیہ بھی کچھ اسی طرح کا ہے جہاں استحکام کی سیاست کے مقابلے میں انتشارکی سیاست کو غلبہ ہے ۔ حکومت ہو یا حزب اختلاف سب کا عمومی مزاج محاز آرائی کی سیاست سے جڑا ہو نظر آتا ہے ۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ جب آپ سے حقیقی مسائل حل نہ ہورہے ہوں یا آپ کے پاس ان حقیقی مسائل کا کوئی پائدار حل نہ ہو تو محاز آرائی کی سیاست سیاسی فریقین کے مفاد میں ہوتی ہے ۔

ماضی میں ہم نے پاکستانی سیاست میں دو طرح کی محاذ آرائی کی کیفیت کو نمایاں دیکھا ہے ۔ اول بھٹو حمایت او رمخالفت کی سیاست اور دوئم مذہبی اور لبرل طبقہ کے درمیان محاذ آرائی جو خود بھٹو مخالفت اور حمایت میں تقسیم نظر آئی ۔ اس ماضی کی سیاست نے نہ صرف سیاست بلکہ عملی طور پر جمہوریت کو کمزور کیا او راس محاذ آرائی میں جہاں اسٹیبلیشمنٹ کی سیاست کا عمل دخل تھا وہیں سیاسی قوتوں نے بھی ان بداعمالیوں اور خرابیوں میں اپنا حصہ بھی خوب ڈالا ۔ لیکن بے نظیر بھٹو او رنواز شریف کے درمیان ہونے والے میثاق جمہوریت کے نتیجہ میں یہ توقع ہوئی تھی کہ ماضی کی یہ دو مقبول جماعتیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اصلاح کی طرف بڑھیں گی ،مگر ایسا کچھ نہ ہوسکا ۔ البتہ یہ اعتراف بھی کرنا ہوگا کہ ماضی کی تلخیوں میں کافی حد تک کمی بھی ہوئی جو نیک شگون تھا ۔

لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی محاذ آرائی کے بعد ایک بڑی محاذ آرائی ہمیں عمران خان کی حمایت او رمخالفت میں دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ اس وقت عملی صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف عمران خان ہیں تو دوسری طرف پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی ، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور جمعیت المائے اسلام مولانا فضل الرحمن عمران خان مخالفت میں ایک ہی کیمپ میں نظر آتے ہیں ۔ اس محاذ آرائی کا عملی نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ کوئی بھی فریق ایک دوسرے کے وجود کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔عمران خان کی عملی سیاست ایک تیسری سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے ۔ عمومی طور پر دو جماعتی نظام میں کسی تیسری سیاسی قوت کا پیدا ہونا آسان کام نہیں ہوتا او رنہ ہی دو جماعتی نظام کسی تیسری قوت کویہ موقع دیتا ہے کہ وہ ان کے مقابلے میں اپنی سیاسی ساکھ پیدا کرے ۔

ماضی میں ہمیں جو مخالفت پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن کی دیکھنے کو ملتی تھی اب ا س کی شکل عمران خان کی حمایت او رمخالفت میں نمایاں طو رپر نظر آتی ہے ۔لیکن اس محاذ آرائی نے ہمیں سیاسی طو رپر آگے بڑھنے کی بجائے ایک بار پھر پیچھے کی طرف دکھیلا ہے ۔ کیونکہ اس کا عملی نتیجہ ایک بڑی سیاسی عدم استحکام کی صورت میں ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ عمومی طور پر ایک بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اگر آپ خارجی معاملات سے موثر انداز میں نمٹنا چاہتے ہیں تو اس کا عملی شکل داخلی بحران کا حل اور سیاسی استحکام ہوتا ہے ۔ یہ ہی سیاسی استحکام ہمیںمعاشی استحکام کو پیدا کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے ۔لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سیاسی استحکام کی خواہش تو رکھتے ہیں مگر عملی طور پر ہمارا سیاسی طرز عمل منفی بنیادوں پر کھڑا ہوتا ہے او راس کا نتیجہ عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عمومی طور پر حزب اختلاف کی سیاست محاذ آرائی کی سیاست سے جڑی ہوتی ہے اور وہ میں نہ مانوں کی بنیاد پر حکومت کی مخالفت میں پیش پیش ہوتی ہے ۔جبکہ اس کے مقابلے میں حکومت کا رویہ مفاہمت کا ہوتا ہے او را س کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ نہ خود محاز آرائی کرے او رنہ ہی ایسا ماحول پیدا کرے جو حزب اختلاف کو محاز آرائی پیدا کرنے کا موقع دے ۔لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ حکومت کا رویہ بھی اپنے مخالفین کے بارے میں جارحانہ ہے ۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کئی بار خود کو حزب اختلاف کے طور پر پیش کرتی ہے ۔حکومت میں شامل بعض وزرا کا رویہ اس قدر جارحانہ ہوتا ہے جو خود حزب اختلاف کو موقع دیتا ہے کہ وہ بھی حکومت کے خلاف سیاسی لنگوٹ کس لے ۔

سیاسی محاذ آرائی کے خاتمہ کی بنیادی شرط یہ ہے کہ اول ہم ایک دوسرے کے سیاسی وجود اور ان کے مینڈیٹ کو قبول کریں ۔کیونکہ جب ہم کسی کے سیاسی وجود کو ہی قبول کرنے سے انکار کردیں تو محاذ آرائی بنیاد بن جاتی ہے ۔دوئم ہمیں اپنی اپنی سیاسی جدوجہد جمہوری او رقانونی فرئم ورک میں رکھ کر کرنا چاہیے او رایسی ریڈ لائن کراس نہیں کرنی چاہیے جو جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے ۔ سوئم محاذ آرائی کو اس قدر تلخ نہ بنایا جائے کہ اس میں ذاتیات پر کردار کشی او رحملے کی سیاست ہو بلکہ تنقید کا پہلو ایشوز کی بنیاد پر ہو او رجو بھی حمایت او رمخالفت کرنی ہے اس کی بنیاد ملک سے جڑے اہم او رحساس معاملات ہونے چاہیے ۔ چہارم سیاسی جماعتوں کی قیادت میں ایک ایسا کوڈ آف کنڈکٹ ہونا چاہیے جو سیاسی جماعتوں کی قیادت اور ان سے جڑے افراد کو پابند کرے کہ کوئی ایسا طرز عمل نہ خود کیاجائے او رنہ اس کی حوصلہ افزائی کی جائے جو غیر اخلاقی سیاست کے زمرے میں آتا ہو۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اوپر سے لے کر نیچے تک جو سیاسی محاذ آرائی کے ماحول میں شدت ہے وہ خود سیاسی قیادت کی پیدا کردہ ہوتی ہے اور یہ ہی عمل ہمیں نیچے کی سطح پر بھی سیاسی کارکنوں میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔اس وقت بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں سیاسی محاذ پر او ربالخصوص سوشل میڈیا پر جو کچھ ہمیں سیاسی طرز عمل کی صورت میں دیکھنے کو مل رہا ہے وہ کافی تکلیف دہ ہے ۔ یہ عمل لوگوں کی ذاتی زندگیوں اور خاندان کے افراد کو بھی معاف نہیں کررہا ۔یہ عمل محض سیاست دانوں تک محدود نہیں بلکہ ہمارے ملک کے پڑھے لکھے افراد او راہل دانش یا لکھنے اور پڑھنے یا بولنے والے افراد جو رائے عامہ بناتے ہیں وہ بھی اپنی فکر میں محاز آرائی میں الجھے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ہمارے ٹی وی ٹاک شوز کا انداز خود محاز آرائی کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے اور لگتا ایسے ہے جیسے محاذ آرائی کو پیدا کرنا ہم سب کی سیاسی ضرورت بن گیا ہے ۔

محاذ آرائی سے نمٹنے میں ایک بڑا کردار معاشرے کے اہل دانش کا ہوتا ہے ،کیونکہ وہ جاری محاذ آرائی کے مقابلے میں نہ صرف ان فریقین پر ایک دباو کی سیاست کو پیدا کرتا ہے بلکہ ایک متبادل بیانیہ بھی پیدا کرکے لوگوں کی فکری راہنمائی کرتا ہے ۔ اس لیے ہمارے اہل دانش کو بھی اپنے آپ کو جنجھوڑنا ہوگا او رخود کو ایک ایسے کردار میں ڈھالنا ہوگا جو استحکام کی سیاست کو پیدا کرے ۔ محاذ آرائی کا مسئلہ محض سیاسی نوعیت کا ہی نہیں بلکہ ہر طرز کی محاذ آرائی چاہے وہ لسانی ہو، علاقائی ہو، مذہبی ہو یا انفرادی سطح کے معاملات ہو ں سب کے بارے میں ہمیں اعتدال پسندی اور مفاہمت کی سیاست کی ضرورت ہے ۔محاز آرائی کی سیاست کا خاتمہ ہمارا قومی بیانیہ ہونا چاہیے اور سب سیاسی جماعتوں سمیت اہل دانش کا اس پر اتفاق ہونا چاہیے کہ ہمیں سیاسی استحکام پیدا کرنا ہے او ریہ اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔ حکومت او رحزب اختلاف ایک دوسرے پر الزام لگانے کی پالیسی سے نکلے اور اپنی اپنی سطح پر خود بھی اپنا محاسبہ کرے کہ وہ کہاں غلطیاں کرتے ہیں او ران کی اصلاح کیسے کرنی ہے ۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ پاکستان جن داخلی اور خارجی بحران سے گزررہا ہے اس سے نمٹنا میں تن تنہا حکومت کچھ نہیں کرسکتی ۔یہ کام اجتماعی سطح پر ہوگا اور سب فریقین کو اپنا اپنا کردار یا حصہ ڈالنا ہوگا ۔حکومت کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے کہ وہ خود آگے بڑھ کر محاذ آرائی کی سیاست کے خاتمہ میں خود قیادت کرتے ہوئے نظر آئے او راس تاثر کی نفی کرے کہ وہ محاذ آرائی کو پیدا کرنے کی ذمہ دار ہے ۔پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن یا تحریک انصاف یہ ایک سیاسی حقیقتیں ہیں او ران کے وجود کو تسلیم کرکے ہی ہمیں آگے بڑھنا ہے ۔ سیاسی نظام اسی صورت میں مضبوط ہوتا ہے جب ملک میں سیاسی جماعتیں مضبوط بھی ہوں او ران کا سیاسی طرز عمل ، فکراور سوچ بھی مثبت ہوتاکہ جمہوریت زیادہ مستحکم ہوسکے ۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس