0
1
0
قلم قرینہ: ساجد عمر گِل

چند برس اُدھر کی بات ہے کربلا معلی، نجفِ اشرف، بغداد اور ایران و عراق کے مختلف مقاماتِ مقدسہ پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ آلِ رسولؐ کی مقدس بارگاہوں سے ایمان اور عقیدے نے یوں اکتسابِ فیض کیا کہ پھر قسمت نے یاوری کی اور معجزاتی اسباب بن گئے۔ وطن واپسی پر فوری مکہ پاک اور مدینہ منورہ کا قصد کر لیا۔روحانی مشاہدات کا تذکرہ قطعی بر محل نہیں کہ مشاہدہ کے لئے نہ تو کسی دلیل کی ضرورت ہے اور نہ ہی اسے بیان کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ ایک بالکل ذاتی شے ہے۔ یعنی اللہ اور اُس کے بندے کے مابین ایک ایسا معاملہ کہ جس کی تشہیر صائب نہیں۔ ہاں صرف خواص کی محفل میں کچھ کارِ نہاں عیاں کرنے میں ایک حد تک عار نہیں۔ البتہ صحافتی اعتبار سے کچھ تجربات کا ذکر برادرِ مکرم راؤ منظر حیات کی محفل میں خوب چھڑا۔ سعودی عرب کے موجودہ حکمران خاندان اور اس کے مستقبل کے حوالے سے راقم نے منظر بھائی سے تجزیاتی طور کچھ ایسی باتیں بھی کیں جو بعد ازاں عملی طور پر منصہ شہود پر ظاہر بھی ہو گئیں۔ مثلاً عرض کیا کہ بادشاہت ختم ہونے والی ہے اور آلِ سعود کے مابین پھوٹ پڑنے والی ہے۔ آگے بڑھنے سے قبل بہتر ہو گا کہ ماضی پر ایک نگاہ دوڑا لی جائے۔ منظرنامے کا پس منظر واضح ہو تو پیش منظر کی تفہیم آسان ہوتی ہے۔ جنگِ عظیم اول کے بعد خلافت عثمانیہ عملاً ختم ہوئی۔ حجاز، نجد اور دیگر علاقوں پر مشتمل ایک نئی ریاست معرضِ وجود میں آئی۔ جس کا نام سعودی عرب رکھا گیا۔ یہ نام آلِ سعود نے رکھا۔ آلِ سعود سے پہلے یہاں آلِ رشید کی حکومت تھی۔ آلِ رشید کے بادشاہ کو ریاض میں کنگ عبدالعزیز نے قتل کیا اور فجر سے پہلے خون آلود خنجر سمیت ایک مسجد میں جا بیٹھا۔ نماز کے لئے لوگ اکٹھے ہوئے تو عبدالعزیز نے کہا کہ اس نے بادشاہ کو قتل کر دیا ہے اور اب وہ بذاتِ خود بادشاہ ہے۔

 چنانچہ نماز کی امامت پر بھی اُس نے خود ہی اپنے آپ کو مامور کر لیا۔ آلِ رشید کی حکومت کے خاتمے میں سب سے زیادہ اعانت اُسے عبدالوہاب نجدی کے پیروکاروں کی حاصل تھی علاوہ ازیں برٹش انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک افسر کرنل لارنس کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں نے بھی اسباب فراہم کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ عبدالوہاب نجدی صاحب کنگ عبدالعزیز کے والد سے مصاحبت رکھتے تھے اور ابن تیمیہ کے تتبع میں سخت گیر اسلام اور وہابی ازم کے علمبردار تھے۔ چنانچہ ابنِ تیمیہ اور عبدالوہاب نجدی کی دینی تفسیرات کے ماتحت کنگ عبدالعزیز نے مکہ کے قبرستان جنت المعلیٰ اور مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان جنت البقیع میں واقع جید صحابہ کرامؓ اور آل رسولؐ کی قبروں اور مزارات کو مسمار کر دیا۔ حتیٰ کہ مسجد نبوی میں رحمت العالمینؐ کے مزار کو بھی تہہ و بالا کر دینے کے درپے ہوا۔ مختصراً یوں کہئے کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ نے متشدد اسلام کی آلِ سعود کے ذریعے جدید بنیاد رکھی۔ مسلمان مزید فقہی گروہ بندی میں بٹے اور اپنے غلام طبع بادشاہوں کی بد اعمالیوں کی سزا آج تک بھگت رہے ہیں۔ آلِ سعود جس طرح آج امریکیوں اور مغرب کی خوشنودی کیلئے ہر مقام سخت سست سے گزرتے جا رہے ہیں یہ یقینا ماضی کے کسی عہد و پیمان کا شاخسانہ ہی دکھائی دیتا ہے۔ کنگ عبدالعزیز نے اپنی بادشاہت کو ممکن اور مستحکم بنانے کیلئے عالمِ اسلام کی سرکردہ شخصیات کو بھی اپنے ہاں اکٹھا کیا اور اس اکٹھ کو موتمریا عالمی اسلامی کانفرنس کا نام دیا اور کہا کہ سعودی عرب ایک ایسا غیر جانبدار اور مقدس ملک ہو گا کہ جو نہ کسی پر حملے کرے گا اور دنیائے عالم کے مسلمان اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی اور ملک بھی سعودی عرب پر حملہ نہ کر پائے۔ علاوہ ازیں یہ بھی کہا کہ سعودی عرب میں حکومت خلافت کی طرز پر ہو گی بادشاہت نہیں۔ یہ وعدہ بھی کیا کہ سعودی عرب میں کسی خاص فقہی نقطہ نظر کی عمل داری نہیں ہو گی بلکہ یہاں تمام مکاتبِ فکر کے پیروکاروں کیلئے گنجائش رہے گی۔

 مذکورہ وعدوں کے باوجود کنگ عبدالعزیز نے اپنے بیٹے شاہ فیصل کو سپہ سالار بنا کر بھیجا اور یمن کے علاقہ نجران پر حملہ کر کے قبضہ کیا، خلافت کی بجائے بادشاہت کو رائج کیا اور خالص، کٹر وہابی ازم کو نافذ کر دیا۔ ایک موقع پر محمد علی جوہر نے حرمِ مکہ میں کنگ عبدالعزیز کو ان وعدہ خلافیوں کے حوالے سے گھرکا اور تادیب کی۔ اس دوران شبیر احمد عثمانی نے مولانا محمد علی جوہر کا دامن پیچھے سے کھینچا اور انہیں ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔ مولانا محمد علی جوہر نے ببانگِ دہل کہا کہ حق گوئی سے باز نہیں آؤں گا۔ ماضی کی اس ایک جھلک کے بعد آج تک آلِ سعود کا جو اندازِ حکمرانی اور شیوہ رہا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ خود کو خادمینِ حرمینِ شریفین کہلانے والے امتِ محمدیؐ کے محفوظ اور مستحکم مستقبل کیلئے تو کوئی اقدام کرتے نہیں۔ دوسری طرف ہنود و یہود سے تعلقات بڑھانے میں بہت عجلت سے کام لیتے ہیں۔ دنیائے عالم کے مسلمان اپنی فلاح و بہبود کیلئے متوجہ نظروں سے اُن کی طرف دیکھتے ہیں مگر وہ محض اپنے مفادات اور خصوصاً تاجِ سلطانی کے تحفظ کیلئے کوشاں مگر امریکیوں، یہودیوں، ہندوؤں اور دیگر مغربی طاقتوں سے تعلقات بڑھا کر گویا وہ گھوڑوں کو گھاس کی نگرانی پر لگا رہے ہیں۔ جس نے بھی کہا بجا کہا کہ تاریخ انسانی میں تمام تر بادشاہ، تخت اور تاج بلاتمیز مذہب و رنگ و نسل گویا ایک ہی خاندان اور قبیلہ ہیں۔ ظلم خواہ کیسا بھی ہو ان کے ہاں سب ناروا بھی بہت سہولت اور آسانی سے روا ہوتا ہے۔  (جاری ہے)

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس