0
1
0
قلم قرینہ: ساجد عمر گِل

یہ لکھا ہوا ہے کہ ہر لکھے، سنے اور بولے ہوئے کا حساب ہو گا۔ حساب کے وقت گواہ اور شہادتیں موجود ہوں گی۔ جنہیں جھٹلانا ممکن نہ ہو گا۔ کچھ امور آفاقی سچائیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ آفاقی، الوہی اور قدرتی سچائیوں سے جو بھی ٹکرایا نتیجتاً پاش پاش ہو گیا۔ ایک سچ یہ بھی ہے کہ حادثہ اچانک نہیں ہوتا۔ برسوں پرورش پانے والے امور ایک روز یوں منصہ شہود پر آشکار ہوتے ہیں کہ حیرانی گھیر لیتی ہے۔ تحیر سے دل دھڑک اٹھتے ہیں۔ دیکھنے والے حیرت سے انگشت بدنداں ہوتے ہیں۔ ارے یہ کیا ہوا؟ صاحب!حیرانی کیسی؟ یہ لکھا ہوا ہے کہ کچھ بھی اچانک نہیں ہوتامگر ہم بد نصیبی سے چونکہ الوہی لکھے ہوئے عمل پیرا نہیں رہے چنانچہ اس پر سے یقینِ کامل بھی جاتا رہا۔ اسباب بظاہر دنیاوی ہوتے ہیں۔ قدرت مگر انسانوں کے اعمال سے خود اپنے نتائج مرتب کرنے پر قادر ہے۔

 ہم جس شاخ پر بیٹھے ہوں اُسی کو کاٹنے کے درپے ہوں تو قدرت کہاں بچانے آئے گی۔ اعمال کا حساب آخرت میں تو ہو گا۔ اعمال کے ردِ عمل کے طور پر انسان اپنے لئے اس جہانِ فانی میں بھی تو سزا کے اسباب اکٹھے کر لیتا ہے۔ گذشتہ دنوں راقم نے  ”لداخ،امریکی اڈے، پاکستان اور احمدی“ کے عنوان سے اسی کالم میں ایک تجزیہ پیش کیا۔ تجزیے اور تجربے کی روشنی میں کچھ امکانات کا تعین کیا۔ لکھے ہوئے پر کچھ یار لوگوں کی طبع نازک گراں بار ہوئی۔ اپنی اپنی ہانکتے ہوئے طعن و تشنیع کی لاٹھیاں اٹھائے چڑھ دوڑے۔ یعنی آئینہ ہم نے دکھایا تو برا مان گئے۔ کج بحثی کارِ فضول اور فضولیات کی روش نے ہم سے علم و فضل کا مقام چھین لیا۔ تاریخی حق شناسی قدرتِ خداوندی کا عطیہ ہے۔ کرم اور احسان ہے۔ جس کے حصے میں آجائے۔ میڈیکل سائنس کا ماہر ہوتے ہوئے ایک ڈاکٹر بھی میڈیکل ہسٹری کو اہمیت دیتا ہے اور اُسی کی بنیاد پر تشخیصی مراحل طے کرتے ہوئے علاج کو ممکن بناتا ہے۔ تاریخ بھی سائنس ہے۔ تاریخی امور اور مراحل کا تجزیہ بھی سائنسی اصول و ضوابط کا متقاضی ہے۔ اوسط درجے کی جذباتیت ہرگز سود مند نہیں۔ تاریخ یہ ہے کہ جب بادشاہ رچرڈ نے صلاح الدین ایوبی کو آخرِ کار شکست سے دو چار کر لیا تو اسلام دشمنوں نے طے کیا کہ اب قیامت تک مسلمانوں کو سر اٹھانے کے لائق نہیں رہنے دینا۔

 چنانچہ انہوں نے منصوبہ بندی کی۔ ہوشیاری سے اپنے پتے ترتیب دیے۔ دھیرے دھیرے جسدِ اسلامی کو دیمک کی نذر کرنا شروع کیا۔ غلام طبع من پسند لوگوں کو مسندوں کی رونق بنانا شروع کیا۔ اسلامی مملکتوں میں قانون اور انصاف کے اداروں کو برباد کرنا شروع کیا۔ اپنے مفاد کی غرض سے ایسے نصاب وضع کر کے ہمارے ہاں رائج کروائے کہ جن کے باعث ہماری کئی نسلیں خلجان کی شکار ہوئیں۔ طالع آزماؤں کیلئے سہولت کاری کی گئی۔ فقہی اور مسلکی گروہ بندی کو فروغ دیا گیا۔ ہمیں حقیقی اور نافع علوم سے دور کر کے حشو و زوائد کی لت ڈالی گئی۔ کذب و ریا کے حاملین کو آگے لایا گیا۔ حتیٰ کہ ختمِ نبوت کے حساس معاملے کو بھی تماشا بنا دیا گیا۔ ہم مگر کبھی سمجھے تھے نہ سمجھ رہے ہیں۔ اسلام دشمن اور اُن کے تابع مہمل تمام تر اسباب سمیت امتِ محمدیہؐ  کو برباد کر چکے۔ سانپ نکل چکا۔ اب ہم لکیر پیٹتے ہیں۔ جو ہم نے لکھا کہ پاکستان میں احمدیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے تو دراصل یہ لکھا ہوا آغا شورش کاشمیری کاہے۔ برسوں قبل 1976 میں شائع ہونے والی اُس میدانِ قلم و قرطاس کے شہ سوار کی تضیف ہے ”تحریکِ ختم نبوت“۔ صفحہ ہے 224 اقتباس زیرِ ملاحظہ ہے۔ دل پر ہاتھ رکھیئے اور پڑھیئے۔ 

”یورپ کی نظریاتی و استعماری طاقتیں نہ تو اسلام کو بطور طاقت زندہ رکھنے کے حق میں ہیں اور نہ اس کی نشاۃ ثانیہ چاہتی ہیں۔ ہندوستان کی خوشنودی کے لیے پاکستان اُن کی بندر بانٹ کے منصوبہ میں ہے۔ وہ اس کو بلقان اور عرب ریاستوں کی طرح طرح چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے سامنے مغربی پاکستان کا بٹوارہ ہے۔ وہ پختونستان، بلوچستان، سندھو دیش اور پنجاب کو الگ الگ ریاستین بنانا چاہتی ہیں۔ اُن کے ذہن میں بعض سیاسی روایتوں کے مطابق کراچی کا مستقبل سنگاپور اور ہانگ کانگ کی طرح ایک خود مختار ریاست کا ہے۔ خدانخواستہ اس طرح تقسیم ہو گئی تو پنجاب ایک محصُور (Sandwitch) صوبہ ہو جائے گا، جس طرح مشرقی پاکستان کا غصّہ مغربی پاکستان میں صرف پنجاب کے خلاف تھا، اسی طرح پختونستان، بلوچستان اور سندھو دیش کو بھی پنجاب سے ناراضی ہو گی، پنجاب تنہا رہ جائے گا تو عالمی طاقتیں سکھوں کو بھڑکا کر مطالبہ کرا دیں گی کہ مغربی پنجاب اُن کے گورؤوں کا مولد، مسکن اور مرگھٹ ہے۔ لہٰذا ان کا اس علاقہ پر وہی حق ہے جو یہودیوں کا فلسطین (اسرائیل) پر تھا اور انہیں وطن مل گیا۔ عالمی طاقتوں کے اشارے پر سکھ حملہ آور ہوں گے۔ اُس کا نام شاید پولیس ایکشن ہو۔ جانبین میں لڑائی ہو گی لیکن عالمی طاقتیں پلان کے مطابق مداخلت کر کے اس طرح لڑائی بند کرا دیں گی کہ پاکستانی پنجاب، بھارتی پنجاب سے پیوست ہو کر سکھ احمدی ریاست بن جائے گا۔ جس کا نقشہ اس طرح ہو گا کہ صوبہ کا صدر سکھ ہو گا تو وزیراعلیٰ قادیانی۔ اگر وزیراعلیٰ سکھ ہو گا تو صدر قادیانی!“

حق گوئی کا پاس رکھئے اور کہئے کہ اب سب کچھ وہی نہیں ہو رہا جس کی نشاندھی پہلے سے کی جا چکی۔ ہمارا سوال بس اسی قدر ہے کہ جب سب کچھ پہلے سے آشکار ہے تو پھر ہمارے اپنے قائدین اور سربراہان برسوں سے کیا جھک مارتے رہے؟ گویا بھاڑ جھونکتے رہے۔ ذمہ داری کا احساس کسی کو تھا یا نہیں؟ اب سامنا ہے تاسف کا جب چڑیاں کھیت چگ گئیں۔ اب بچی کچی کھیتیوں کو جلانے بارودی گدھ آئیں گے اور سب کچھ نوچ کھائیں گے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس