0
0
0
مکالمہ:سلمان عابد

حزب اختلاف کی سیاست کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ حکومت پر دباو بڑھانے کے لیے جو بھی سیاسی حکمت عملی یا اس میں مزاحمتی سیاست کے تناظر میں سخت گیر فیصلہ کرے ۔ دھرنا یا لاک ڈاون جیسے فیصلے بھی سیاسی حکمت عملی سے جڑے ہوتے ہیں او ران کی مخالفت کا پہلو بھی کوئی مناسب نہیں ۔ حتمی بات یہ ہونی چاہیے کہ حزب اختلاف کی مزاحمتی سیاست کے سامنے دو پہلو اہم ہونے چاہیے ۔ اول جو بھی تحریک چلائی جائے وہ سیاسی او رجمہوری فرئم ورک میں ہو ، دوئم سیاسی و جمہوری تحریک میں تشدد یا ریاستی ٹکراو کی صورت نہیں ہونی چاہیے ۔ پرامن سیاسی جدوجہد میںمختلف طریقہ کار ہونا چاہیے او راس کی حمایت بھی ہونی چاہیے ۔

جہاں تک مولانا فضل الرحمن کے لاک ڈوان کا مسئلہ ہے اس کا بھی سیاسی تجزیہ کیا جانا چاہیے ۔پہلی بات یہ تسلیم کرنی ہوگی کہ تحریک انصاف کی حکومت کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کے خلاف کاغذوں میں تو متحدہ حزب اختلاف موجود ہے ، مگر عملی طور پر یہ ایک تقسیم شدہ قافلہ پر مبنی حزب اختلاف ہے ۔ ان کا مشترکہ یا ون پوائنٹ ایجنڈا عمران خان حکومت کی مخالفت او راس کا خاتمہ ہے ۔لیکن یہ مشترکہ حزب اختلاف کاغذوں یا میٹنگز یا اجلاسوں کی حدتک تو متحد ہے مگر عملی طور پر سب کے اپنے اپنے سیاسی ایجنڈا ور ترجیحات ہیں ۔مولانا فضل الرحمن اگرچہ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ لاک ڈاون میں تمام حزب اختلاف کی جماعتیں شریک ہوں ۔لیکن پہلے مولانا یہ توتسلیم کریں کہ لاک ڈاون کا فیصلہ ان کا ذاتی یا جماعتی فیصلہ ہے ۔اگر واقعی مولانا سب حکومت مخالف جماعتوں کی شرکت کے حامی تھے تو یہ فیصلہ بھی مشترکہ حزب اختلاف کی کمیٹی میں ہونا چاہیے تھا م جو ممکن نہیں ہوسکا ۔

اس لیے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ لاک ڈاون مولانا فضل الرحمن کا سیاسی فیصلہ ہے ۔ یہ ہی وجہ کہ حزب اختلاف کی دیگر جماعتیں اس لاک ڈاون میں شرکت کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ۔ ویسے بھی حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن کے بغیر مولانا کا عملا لاک ڈاون سیاسی تحریک کم او رایک مذہبی جماعت کی تحریک کے زمرے مین دیکھا جائے گا او راس تحریک میں بھی دیگر مذہبی جماعتیں ان کے ساتھ نہیں ہونگی ۔ پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو نے تو صاف لفظوں میں مولانا فضل الرحمن کے لاک ڈاون میں شرکت سے انکار کرکے محض اس کی اخلاقی سیاسی حمایت کا فیصلہ کیا ہے ۔ حالانکہ سیاست میں آپ ایک واضح سیاسی لکیر کھینچتے ہیں کہ آپ لاک ڈاون کے حامی ہیں یا مخالف ۔محض سیاسی او راخلاقی حمایت کافیصلہ تضاد پر مبنی ہے ۔

پیپلز پارٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف ان کا موقف ہے کہ وہ دھرنے یا لاک ڈاون کی سیاست کے نہ تو ماضی میں حامی تھے او رنہ اب ہیں یہ بات سمجھ میں آتی ہے ۔ لیکن جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم سسٹم کو چلانے کے حامی ہیں او رحکومت طاقت کے زور پر گرانا ہماری سیاست نہیں تو پھر دوسری طرف حکومت کے خاتمہ کی بات کرکے بھی تضاد دکھایا جاتا ہے ۔حکومت کو گرانے کا ایک سیاسی طریقہ تو وزیر اعظم او رحکومت پر عدم اعتماد کی تحریک او رعددی تعداد کی بنیاد پر حکومت کی تبدیلی ہوتا ہے ۔ دوسرا طریقہ یہ کہ آپ ایک بڑی سیاسی تحریک کا منظر پیدا کرنا اور حکومت کو مجبور کرنا کہ وہ استعفی دے یا نئے انتخاب کا راستہ اختیار کرے ۔تیسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ آپ طاقت کے زو رپر عوامی مزاحمت سے حکومت کا خاتمہ کریں ۔ پیپلز پارٹی کیا چاہتی ہے وہ واضح نہیں ہے ۔ایک طرف وہ حکومت مخالف تحریک بھی چلانا چاہتی ہے اور دوسری طرف وہ اسی حکومت او راسٹیبلیشمنٹ سے پس پردہ معاملات کو طے کرنے کے کھیل کا بھی حصہ بنی ہوئی ہے ۔ بعض سیاسی پنڈتوں کے بقول مولانا فضل الرحمن کے لاک ڈاون میں عدم شرکت کو بھی ان ہی پس پردہ مفاہمت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے ۔

جہاں تک مسلم لیگ ن کا تعلق ہے تو وہ اس وقت لاک ڈاون یا مزاحمت یا مفاہمت کی سیاست کے درمیان واضح طو رپر تقسیم نظر آتی ہے ۔ ایک طرف نواز شریف او ران کے قریبی ساتھی ہیں تو دوسری طرف شہباز شریف او ران کے ساتھی ہیں ۔ اس وقت عملی طور پر ووٹ بینک نواز شریف کا ہے ،لیکن عملا پارٹی پر کنٹرول شہباز شریف کا زیادہ ہے ۔نواز شریف او رمریم کی گرفتاری کے بعد شہباز شریف پارٹی معاملات میں زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں ۔ شہباز شریف کبھی بھی مزاحمتی سیاست کے کھلاڑی نہیں وہ خود بھی مفاہمت سے چلنا چاہتے ہیں اور ہر سطح پر نواز شریف کو پہلے بھی او راب بھی یہ ہی مشورہ دیتے ہیں کہ وہ مفاہمت سے کھیلا جائے او رٹکراو کی سیاست سے گریز کیا جائے ۔ یہ سب کو پتہ ہے کہ شہباز شریف اب بھی پس پردہ معاملات چلارہے ہیں اپنے لیے او راپنے خاندان کے لیے ۔ ایسے میں ان کو کسی بھی طو رپر مولانا فضل الرحمن کا سیاسی لاک ڈاون قبول نہیں ہوگا ۔

شہباز شریف ، خواجہ آصف او راحسن اقبال کی نواز شریف سے جیل میں ہونی والی ملاقات کی ایک کڑی مولانا فضل الرحمن کا لاک ڈاون تھا اور نواز شریف کو یہ ہی سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ ہمیں فوری کسی بڑے اقدام کی بجائے وقت کا انتظار کرنا چاہیے ۔ بظاہر یہ ہی لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن لاک ڈاون کا حصہ نہیں بنے گی او راگر شرکت کا فیصلہ کیا بھی گیا تو یہ چند افراد کی شرکت تک محدود ہوگا ۔بطور سیاسی جماعت اس لا ک ڈاون کا حصہ نہ بناجائے ۔اس وقت مسلم لیگ ن کے مجموعی ارکان پارلیمنٹ بھی لاک ڈاون کی سیاست کے حامی نہیں اور سب سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں لاک ڈاون کا حصہ بننا پہلے سے بحران کا شکار مسلم لیگ ن کے لیے او رزیادہ مشکلات پیدا کرسکتا ہے ۔

دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی او رمسلم لیگ ن یقینی طور پر حکومت کی مخالفت میں پیش پیش ہیں اور چاہتی ہیں کہ حکومت تبدیل ہو مگر ان کو لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا فیصلہ جذباتی ہے اورکیونکہ وہ او ران کی جماعت پارلیمنٹ میں زےادہ نہیں اس لیے ہمیں مولانا فضل الرحمن کی سیاست میں اندھا دھند شامل ہونے کی بجائے اپنی سیاسی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا چاہیے ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی عدم شمولیت کے باوجود لاک ڈاون کریں گے او راگر وہ کرتے ہیں تو ان کا یہ انفرادی فیصلہ کیسے مجموعی طور پر حزب اختلاف کی سیاست کو مضبوط کرے گا ؟کیونکہ اگر مولانا فضل الرحمن کچھ نہ کرسکے او رلاک ڈاون کی کال موثر ثابت نہ ہوسکی تو اس کا سیاسی نزلہ حزب اختلاف کی سیاست کو کمزو رکرنے کا سبب بنے گا ۔

حکومت کو اندازہ تھا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن موجودہ صورتحال میں کسی بڑے پیمانے پر لاک ڈاون کی سیاست کا حصہ نہیں بنے گی او ر ان کا بڑا خطرہ یقینی طور پر پہلے بھی مولانا فضل الرحمن سے تھا او راب بھی ہوگا ۔ کیونکہ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مولانا کی طاقت مذہبی سیاسی کارکنوں اور مدارس کے طلبہ پر مشتمل ہے او ربڑی تعداد میں لوگوں کو اکھٹا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت حکومت کی کوشش ہوگی کہ مولانا فضل الرحمن پر مختلف محاذ سے دباو بڑھایا جائے کہ وہ لاک ڈاون کی سیاست سے گریز کریں ۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت حکومت او رمولانا دو مخالف سمتوں میں کھڑے ہیں او ربہت زیادہ بداعتمادی کا شکار ہیں ۔ایسے میں ان میں مصالحت کا عمل بہت کمزور نظر آتا ہے ۔جہاں تک مولانا کا پندرہ سے بیس لاکھ لوگوں کو جمع کرنے کا دعوی ہے اسے محض سیاسی بیان بازی ہی سمجھا جائے ، مگر یقینی طو رپر وہ بڑا مجمع کرسکتے ہیں، مگر لاک ڈاون سے حکومت ختم کرنا خواہش تو ہوسکتی ہے مگر عملی طور پر ایسا ممکن نظر نہیں آتا ۔

 عملا اس وقت حکومت کو بڑا خطرہ حزب اختلاف سے کم اپنی سیاسی او رمعاشی پالیسیوں سے زیادہ ہے ۔ بالخصوص اگر وہ اگلے ایک برس میں معاشی امور کے معاملات میں بہتری پیدا نہ کرسکے تو صورتحال ان کے خلاف جاسکتی ہے ۔اصولی طور پر تو جیسے پہلے عرض کیا تھا کہ تحریک انصا ف کی حکومت کسی بڑی عددی تعداد سے نہیں بنی او راس کو ختم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ہی عددی تعداد کی بنیاد پر حزب اختلاف کو حکومت ختم کرنے کا کھیل کھیلنا چاہیے ۔ماضی کی سیاست کا تجربہ یہ ہی بتاتا ہے کہ سڑکوں پر حکومت گرانے کے کھیل کا فائدہ سیاسی قوتوں کو کم او رغیر جمہوری قوتوں کو زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے فوری طو رپر لاک ڈاون مسئلہ کا حل نہیں بلکہ زیادہ حکومت مخالف جدوجہد او رتبدیلی کا عمل پارلیمنٹ کے اندر سے ہی ہونا چاہیے ۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس