0
1
0
قلم قرینہ: ساجد عمر گِل

زیرِ نظر کالم کا بیشتر مواد برادرِ مکرم ملک عابد حسین کے ساتھ ہونے والی گفت و شنید سے کشید کیا گیا ہے۔ عام پاکستانیوں کی رائے ہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملے کا تمام پاکستانیوں کو اتنا ہی دکھ ہے، جتنا کشمیر میں ہونے والے مظالم کا دکھ آلِ سعود کو ہے۔ مخدوش کشمیری حالات کے حوالے کچھ جذباتی پاکستانیوں کا خیال ہے کہ مکہ و مدینہ اور مقدس مقامات کو چھوڑ کر، اگر سارا سعودی عرب بھی شام اور عراق کی طرح تباہ ہو جائے، اب پاکستان میں تب بھی کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عین اس وقت جب پاکستان کو سعودی عرب کی مدد کی ضرورت تھی سعودی عرب بھارت کے ساتھ جا کے کھڑا ہو گیا۔ یعنی جس وقت کشمیر میں بھارت دس لاکھ فوجیں داخل کر کے کشمیریوں پہ زندگی کے تمام دروازے بند کر رہا ہے اس وقت سعودی عرب بھارت کے ساتھ اربوں ڈالر کے باہمی کاروبار کے دروازے کھول کر بھارت کے ہاتھ مضبوط کر رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق سعودی عرب ہر روز پانچ لاکھ بیرل خام تیل بھارت کو بیچے گا۔ یعنی اگر پاک بھارت جنگ ہوتی ہے تو بھارت کے جنگی طیاروں اور ٹینکوں میں جو تیل ہو گا وہ کسی اور ملک کا نہیں بلکہ سعودی عرب کا ہو گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ سعودی عرب نے بھارت کی معروف نجی تجارتی کمپنیوں میں بھی اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ بھارتی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کا مطلب بھارتی معیشت کو مضبوط کرنا ہے اور مضبوط بھارتی معیشت کا مطلب ہے کہ کشمیریوں پہ مزید ظلم اور پاکستان میں مزید بھارتی دہشت گردی۔جس سعودی آئل کمپنی آرامکو کے ذریعے سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ معاہدے کیے اب اسی آئل کمپنی پہ دو ڈرون حملے ہوئے ہیں۔

کچھ مذہب پسند پاکستانیوں کی نظر میں یہ اللہ کی طرف سے آلِ سعود کیلئے ایک خاموش پیغام ہے کہ کلمہ کی بنیاد پہ بنے ملک پاکستان کو جب سعودی عرب کے سہارے کی ضرورت تھی اس وقت آلِ سعود دنیا میں شرک کے سب سے بڑے مرکز ہندوستان کے ساتھ مل گئے۔ سعودی آئل کمپنی آرامکو  لے کر یمن تک 1 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ یہ فاصلہ ڈرونز نے سعودی فضا کے اندر طے کیا مگر حیرت انگیز طور پر، جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم ہونے کے باوجود دونوں ڈرونز کو روکنے میں سعودی عرب ناکام رہا اور یہی آلِ سعود کیلیے قدرت کا پیغام بھی ہے کہ اگر تم مسلمان ملکوں کے ساتھ اسی طرح ظلم کرتے رہے تو جدید ترین امریکی اسلحہ بھی تمہیں نہیں بچا پائے گا۔ ویسے ضرورت پڑنے پہ امریکہ اس میزائل ڈیفنس سسٹم کو خود بھی ناکارہ بنا سکتا ہے۔ کس قدر تکلیف دہ حقیقت ہے کہ کشمیر پہ سعودی حکمران چُپ، فلسطین پہ بھی چُپ، روہنگیا کے مسلمانوں کی حالتِ زار پر بھی چپ، شام کو سعودی حکمرانوں نے کھنڈرات میں تبدیل کر دیا، صدام حسین آلِ سعود کے حاکموں کے سامنے پھانسی لگا مگر یہ چپ ہی رہے۔ محمد المرسی کو یہودی عورت کے بیٹے السیسی نے ان کے سامنے قتل کیا یہ چپ رہے۔ لیبیا کے معمر قذافی کو ان کے سامنے امریکہ نے قتل کروایا یہ چپ رہے۔ گولان کی پہاڑیوں پہ اسرائیل نے قبضہ کیا یہ چپ رہے۔ یہ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ خود امریکہ سے بچ جائیں گے؟ اگر انہیں امریکہ نے کچھ نہ بھی کہا پھر بھی قدرت اور فطرت ایسے حکمرانوں کو معاف نہیں کرتی۔ فلسیطینیوں نے آلِ سعود کے حکمرانوں سے کہا تھا خود ہمارے لیے نہیں لڑتے تو ہمیں اسلحہ دو اور اگلے جمعہ کی نماز آ کر آزاد بیت المقدس میں پڑھ لینا۔ آلِ سعود نے اسلحہ تو کیا دینا تھا الٹا خود جا کر اسرائیلیوں سے ہاتھ ملا لیے۔ ایسے دو چار حملے اگر سعودیہ کے تیل کے کنوؤں پہ مزید ہوئے تو شاید آلِ سعود کے ہوش ٹھکانے آ جائیں اور یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ ضرورت پڑنے پہ امریکہ اوربھارت کام نہیں آئیں گے بلکہ پاکستان اور عالمِ اسلام ہی کام آئے گا۔صاحب! یہ تو رہی کچھ دیگران کی آراء۔

 راقم کی رائے میں موجودہ ایران، سعودی عرب کشیدگی دراصل پاکستان کیلئے مزید آزمائشوں در کھولنے کے لیے ہے۔ سعودی عرب لا محالہ اس مسئلہ کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے فوجی مدد کا متمنی ہو گامگر پاکستان خطے کی موجودہ صورتِ حال کی پیش نظر ایسی کسی خواہش یا تقاضے کو پورا نہیں کر پائے گا چنانچہ احتمال ہو گا کہ پاکستان سعودی عرب تعلقات بھی داؤ پر لگیں۔ اس تمام تناظر میں حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو معاملہ آسانی سے سمجھ آجاتا ہے۔ امریکہ دراصل پاکستان، سعودی عرب اور ایران کے مابین برادرانہ تعلقات کے ممکنہ استحکام کو قطعی پسند نہیں کرتا۔ اس لیے آئے روز کچھ ایسے مسائل پیدا کرتا ہے کہ جس سے جانبین کے مابین مزید کھچاؤ اور تناؤ در آتا ہے۔ علاوہ ازیں مزائل حملے کے حوالے سے یہ سوچنا لازم ہے کہ کیا واقعی یہ حملے حقیقی ہے یا نائن الیون کی طرز پر اپنے منفی مفادات کی نگہبانی کیلئے کوئی ڈرامہ رچایا گیا ہے۔ اس وقت پاکستان کشمیر کی مخدوش صورتِ حال کے حوالے سے عالمی سطح پر بیداری کی مہم زور و شور سے چلا رہا ہے۔ اسی دوران مزائل حملوں کا غلغلہ اٹھانا کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی ایک بہیمانہ کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ گمان یہ گزرتا ہے کہ ایران، سعودی عرب تازہ کشیدگی حقیقت پر مبنی نہیں۔ اس موقع پر پاکستانی قیادت کو بے حد فہم سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ 

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس