0
1
0
قلم قرینہ: ساجد عمر گِل

حرف حقیقت بھی ہے حکایت بھی۔ حرف سے لفظ کی نمو اور جملوں کی نمود ہے۔ کچھ جملے معترضہ اور کچھ جملے ایسے کہ نیزے کیطرح کلیجہ کاٹیں۔ کچھ جملوں کی حقانیت ازل سے ابد تک قائم۔ پروردگارِ اعلیٰ ترین اور اُس کے مبعوث کردہ انبیاء و مرسلین نے تمام تر نصاب حقیقت آشکار کر دیا۔ سب خشک و تر کا فروغ شش جہات میں فراواں۔ المیہ انسان کا مگر یہ کہ نہ تاریخ سے عبرت پائے نہ امروز سے سبق۔ حرف و حکایت کی اثر پزیری گویا پانی کا بلبلہ۔ آفاقی ہدایت کا بادل برستا رہا۔ برس رہا ہے مگر زمینِ قلب تا حال بنجر صحرا۔ ذہنِ انسانی کی ریت پرخس و خاشاک مسائل۔ ہمارا علاقہ گفتگو کا مگر مسلمانی اور اسلام۔ مسلمان کہ جس کے رہبر رحمت العالمینؐ۔ سردارِ انبیاء۔ ہدایت کے امکانات بے حد و حساب۔ مگر ہم میں سچ سننے کا حوصلہ نہ حق گوئی کی تاب۔ کوئی سنتا نہیں نقار خانے میں طوطی کی آواز۔ آواز یہ کہ غیرتِ اسلامی لٹی جاتی ہے بر زمینِ حجاز۔ حمیت کم آمیز اور چڑھ دوڑنے کو تیار ہلاکو اور چنگیز۔ دنیائے عالم کے مسلمانوں کا محور مکہ اور مدینہ۔ جس پر نافذ سلطانی کا حکم۔ سلطانی کا حال خراب ایسا کہ عالمی سطح پر تحقیقی رپورٹ تیار ہوئی۔ سوال تھا دنیا میں اسلام اور اس کا دیا ہوا نظام سب سے زیادہ کہاں رائج ہے؟ جواب میں ملکِ غیر سرفہرست اور سعودی عرب کا نمبر اس لسٹ میں ڈیڑھ سو کے بھی کہیں بعد۔ 

بات آغاز ہوئی تھی حرف، لفظ اور جملے سے۔ جملہ معترضہ۔ گر گراں نہ گذرے۔ مولانا مودودیؓ سے کسی نے پوچھا کہ بہت سے صحابہ کرامؓ نے یزید کی بیعت کر لی تھی تو پھر حضرت امام حسین ؑ کو کیا امر مانع تھا؟ سید کے لعل نے برجستہ جواب دیا، کہا یہ سوال ہی غلط ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب امام ؑ بیعت سے انکاری تھے تو پھر کچھ صحابہ کرامؓ نے بیعت کیوں کی؟ اب سوال ایک اور دیوار بنے قلم کو روکتا ہے۔ سوال یہ کہ جس سرزمین پر اسلام کی آبیاری ہوئی ہے۔ جہاں اُس کے نم کی نمو اور نمود ہوئی۔ جہاں سے نکل کر اسلام چہار دانگِ عالم پھیلا۔ تحقیق ہوتی ہے تو لکھتے ہوئے قلم آداب کے قرینے بھول کر چیختا ہے کہ آج وہ سر زمین حقیقی اسلامی اصول و ضوابط اور نظام سماج سے عاری کیوں؟ حیرانی گھیر لیتی ہے۔ ایسا کیونکر ممکن ہوا؟ سوالات کے آئینہ خانے میں سوال ہی سوال ناچتے ہوئے۔ مگر پتھر جیسے اٹل جواب سننے کی تاب کسی میں نہیں۔ آج سعودی عرب کے مقتدران جدید بت کے نام پر اپنے ہاں جو کچھ رائج کرتے جا رہے ہیں وہ یقینا تباہ کن ہے۔ یاد رہے کہ یہ جدید بت نہیں۔ یزید بت کے بطن سے پھوٹتی وہ وبائیں ہیں کہ جو جسدِاسلام کو یقینا نئے فتنوں کی بھینٹ چڑھائیں گی۔ ہوشیار کہ مضمحل اور غلام پیشہ سلطانی کے تاج اچھالے جائیں گے۔ تخت گرائے جائیں گے۔ مقتل سجیں گے۔ علم اٹھیں گے۔ آئے گا اک روز کہ ظلم سہتے ہوئے لوگوں کی خموشی ٹوٹے گی۔ ہنگامِ محشر برپا ہو گا۔ دنیائے عالم کے مسلمانوں کے محور حجاز میں جو جواخانے، بتکدے اور ناچ گھر کھل رہے ہیں یہ قطعاً صائب نہیں۔ صائب تو قتلِ حسین ؑ بھی نہ تھا مگر یزید اور اُس کے حواریوں نے ڈھٹائی سے کیا۔ تاریخ سے سبق نہ سیکھتے ہوئے جہاں جہاں مسلمانوں نے آوازِ حق کو دبایااُس کی تاریخی سزا پائی۔

 آج کم ترین عقل و خرد کے حاملین بھی جانتے ہیں کہ امریکہ و اسرائیل اور ہنود و یہود، سعودی عرب کو تین حصوں میں بانٹنے کے درپے ہیں۔ موجودہ مقتدران واپس نجد دھکیل دئیے جائیں گے۔ حجاز کا علاقہ اردنی حکمران خاندان کو دیا جائے گا۔ یمن کا قریبی علاقہ شیعہ سٹیٹ میں تبدیل ہو گا۔ اردن کو گریٹر اسرائیل کا حصہ بنا دیا جائے گا۔ اسلام مخالف منصوبہ سازوں نے سب طے کر رکھا ہے۔ سوال مگر یہ کہ ہوش مندوں کے ناخن کیا ہوئے۔ کوئی تدبیر اصلاح کی ہو گی یا اسی کج رو میں بہتے چلے جائیں گے۔ تکلف برطرف۔ تکلیف دہ ترین بات کا تذکرہ برملا۔ اگلے روز ایک ویڈیو کلپ نظر سے گذرا۔ روح فرسا منظر ہے۔ سعودی عرب میں کھلنے والے ایک نائٹ کلب کی افتتاحی تقریب میں تقریباً برہنہ عورت ناچتے ناچتے قرآن کی سورہ فاتحہ کی تلاوت آغاز کرتی ہے۔ یہ آغاز نہیں بربادی کا وسط ہے۔ اواخر قریب ہے۔ کربلا جیسے المناک سانحے پر بھی خاموش رہنے والوں کی بدترین نسلیں آج یزید کی وکالت کرتی ہیں۔ قلم سوال لکھتا ہے۔ 63-62 ہجری میں مکہ اور مدینہ کی حرمت پامال ہوئی۔ یعنی خموشی کی بد ترین سزا۔ سبق مگر کسی نے حاصل نہ کیا۔ خیال رہے کہ آج سلطانی کا تاج بچانے کی ہوس میں مبتلا مقتدران کی بداعمالیوں کے باعث پھر سے مکہ اور مدینہ کی حرمت داؤ پر ہے۔ محض اپنی سطانی کا تاج بچانے کی فکر میں غلطاں لوگوں کے ظلم پر خموش رہنے والو! خموشی توڑو۔ اب کعبے کو صنم خانے سے پاسباں ملنے کے دن گئے۔ محمدِ عربی ؐ کی محنت شاقہ کو رائیگاں نہ جانے دو۔ یومِ حشر کیا منہ دکھاؤ گے؟ حق و باطل کا معرکہ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونے کو ہے۔ صفوں کی ترتیب جماؤ۔ جمے رہنے سے بچ رہنے کی صورت ہو گی۔ صورتِ احوال ورنہ کہاں لے جائے گی سب نقش بردیوار ہے۔ 

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس