0
1
0
قلم قرینہ: ساجد عمر گِل

خاتم النبین رسولِ کریمؐ کے فرامین کی روشنی میں قطعی قیامت قائم ہونے میں تقریباً سوا دو صدیاں باقی ہیں۔ البتہ دورِ قیامت کا آغاز ہو چکا۔ یہ تمام دور فتنہ و فساد سے معمور ہے۔ جنگ و جدل اور مختلف طاقتوں کے مابین کھینچا تانی کا تسلسل رہے گا۔ حق و باطل کی اس معرکہ آرائی میں خونِ انساں ارزاں ہو گا۔ نبیؐ برحق نے سب کچھ افشاء کر دیا۔ چودہ سو سال پہلے باخبر کر دیا۔ بس ہم مسلمانوں نے ہی ہوش کے ناخن نہ لئے۔ دیگر مذاہب کے ماننے والے تو سب تیاری کی حالت میں ہیں۔ یہودی دجّال کا انتظار کر رہے ہیں۔ مسیحی اپنے تئیں تیار۔ جنابِ عیسیٰ علیہ السلام کا پھر سے ظہور ہو گا۔ عصر کا وقت ہو گا۔ دمشق کی مسجد اموی میں لوگ نماز کی تیاری میں مصروف ہوں گے اور وہ مسجد کے مینار سے ہوتے ہوئے یوں صحن میں اتریں گے کہ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ ٹکائے ہوں گے۔ تازہ کئے ہوئے وضو کا پانی قطروں کی شکل میں اُن کے بازوؤں سے ٹپکے گا۔ امام مہدی علیہ السلام کی امامت میں وہ نماز ادا کریں گے۔ اُن ؑ کے تتبع میں بہت سے مسیحی لوگ مسلمانوں کے ساتھ آملیں گے۔ 

یہاں تک تو حضورؐ کے فرمائے ہوئے پر تمام مکاتبِ فکر کے مسلمانوں کا ایمان ہے۔ مگر ذرا دم لیجئے صاحب! اللہ کے نبی آخر الزماں ؐ نے تو یہ بھی فرمایا تھا کہ میرا وہ بیٹا مہدی ؑ جس کی امامت میں جناب عیسیٰ علیہ السلام جیسے بلند مرتبت نبی نماز ادا کرنے پر فخر کریں گے اُسی مہدی ؑ کے ظہور پر سب سے پہلے خود مسلمانوں ہی کا ایک لشکر مخاصمت میں چڑھ دوڑے گا۔ گو اللہ کے حکم سے زمین بوس ہو جائے گا۔ مگر کلیجہ کٹ جاتا ہے یہ سن کر۔ کیا مسلمانوں کو کبھی عقلِ سلیم عطا بھی ہو گی کہ نہیں؟ یا ہم آلِ رسولؐ سے دشمنی ہی کرتے رہیں گے۔ جن یہودیوں سے عداوت ہے وہ تو اپنے ہاں کا سب سے اعلیٰ مذہبی مقام محض اپنے نبی جناب ہارون علیہ السلام کی آل کیلئے ہی مختص رکھتے ہیں۔ کسی اور کو وہ اِس منصب پر فائز ہی نہیں ہونے دیتے۔ تو پھر ہم مسلمانوں کو یہ شعور کیوں حاصل نہیں؟ جبکہ ہمارے نبیؐ کی آل پاک کو سرفرازیاں تو خود اللہ رب العزت نے عطا فرمائی ہیں۔ وائے بدنصیبی کہ ہم اپنے رسولؐ کے فرامین سے روگردانی کے مرتکب تو ہوتے ہی ہیں اللہ رب العزت کے احکامات اور حکمتوں کے بھی عملاً انکاری ہیں۔ اب کون ہمیں سمجھائے کہ فرامین نبویؐ اور احکامات الہٰی کی صریحاً خلاف ورزی آخر ہمیں کہیں کا نہ چھوڑے گی۔ سمجھنے کا وقت اب ہے کہ بعد ازاں پچھتاوے کی فرصت نہ ہو گی۔ فی الحال تو مختصر سی مہلت کا دور ہے اسے غنیمت جانتے ہوئے ہمیں اپنا قبلہ درست کرنا ہی پڑے گا۔ آخر کو ہونا تو وہی ہے جو کچھ نبی آخرالزماں ؐ فرما گئے۔ کم از کم ہم برے انجام کا حصہ نہ بننے کی مقدور بھر سعی تو کریں۔ کُجا یہ کہ سرکشی کریں اور یومِ آخر ٹھکرا دئیے جائیں۔

 خدائے رحیم و کریم کی جنتوں میں ہمارا کوئی ٹھکانہ ہی نہ ہو۔ مہلت ختم ہو اور قہرِ خداوندی فیصل ہو جائے۔ بہت دیکھ لئے تاج و تخت۔ بہت سجا لیں مسندیں۔ بہت بہا لیا پاک لہو۔ بہت دیکھ لی بربادی و رسوائی۔ ہم کہیں رُکیں بھی۔ سوچیں بھی۔ پرکاہ کیطرح کہاں اڑے جاتے ہیں۔ بجا کہ آخر باطل فنا اور حق کی بقا ہو گی۔ مگر ہم حق کو پانے کی تگ و دو تو کریں۔ سمت درست تو کریں۔ ساقی کو یقینا ہم پرترس آجائے گا۔ وہ ہماری صائب امیدوں کے جام بھر دے گا۔ وہ قسامِ ازل ہے۔ جس کو جو چاہے اپنی رضا سے دینے پر قادر ہے۔ لیکن گمان یہ کہتا ہے کہ جس کو دے گا کچھ دیکھ کر ہی دے گا۔ ہم میں تو خرابی بے جا بڑھی ہوئی اور خوبی ندارد۔ یعنی کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب والی بات۔ رحیم و کریم رب سے اچھے کی امید اچھی مگر اپنے اطوار پر بھی اِک نگاہ۔ نیک اعمال کا دامن خالی۔ گناہوں اور بد اعمالیوں کی گٹھڑیاں بھری ہوئیں۔ مسلمان ہونے کا مطلب محض حج، نماز، روزہ وغیرہ تو نہیں۔ عبادت گزار تو عز ازیل بھی بے حد تھا۔ آخر مردود ہوا۔ ابلیس اور شیطان کہلایا۔ مسلمان ہونے کا مطلب ہے سچ بولنا۔ حق پر ڈٹے رہنا۔ صادق اور امین ہونا۔ دیانت دار اور آزاد ہونا۔ ہر قسم کی غلامی سے آزاد ہونا۔ ہماری مسجدیں گو نمازیوں سے بھری ہوں مگر بازاروں میں دھوکہ دہی سے مال کمانے کا رواج ہے۔ 

حق تلفی اور زیادتی کا شیوہ ہے۔ جھوٹ اور فریب کا راج ہے۔ ہمارا جو کل تھا وہی آج ہے۔ کوئی تبدیلی۔ کوئی بہتری۔ کوئی خوبی نہیں آئی۔ خوبی نہ آئی تو پھر ماضی میں آلِ رسولؐ کے دشمنوں اور قاتلوں کے حصے میں جو رسوائی آئی وہی آئندہ میں امام مہدی ؑ کے خلاف لشکر کشی کرنے والوں کے حصے میں آئے گی۔ بے شک ہمیں ایسے مسلمانوں کی ضرورت ہے کہ جو ایسے کسی بدترین انجام سے بچنے کی سعی کا آغاز آج کریں۔ خدا خوفی کا حامل مسلمان ہی اصل مسلمان ہے۔ اُسی کے لئے خیر کی نوید ہے۔ ورنہ عذاب ہے اور بہت شدید ہے۔ عذاب اِس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔ 

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس