0
1
0
قلم قرینہ: ساجد عمر گِل

ہم قوم نہیں طبقات میں بٹے ہوئے لوگ ہیں۔ حاکم اور طاقتور طبقہ۔ نادار اور محکوم طبقہ۔ عدم مساوات کی بنا پر بہت سے غیر انسانی رویے فروغ پا چکے۔ کچھاؤ اور تناؤ کے بطن سے تشدد نے جنم لیا جو ہمارے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا۔ جہاں جس کا بس چلتا ہے وہ اپنی طاقت اور اختیار کا بے محابا استعمال کرتا ہے۔ مسئلہ سماج کا اسقدر نہیں کہ جتنا ذمہ داروں کے تعین کا ہے۔ یاد رہے کہ تبدیلی کی برف ہمیشہ سروں پر پڑا کرتی ہے۔ بات قانون کی حکمرانی سے آگے بڑھ چکی۔ ضرورت انصاف کی حکمرانی کی ہے۔ عدم انصاف ہی ظلم کے روا ہونے کا جواز ہے۔ ظلم بڑھ جائے تو معاشرے برباد ہو جایا کرتے ہیں۔ ہمیں جانے اور کتنی مسافتیں طے کرنی ہیں بربادی کی راہ پر؟ جمہوریت اور گورننس کے نعرے کیڑے مکوڑوں سے عوام کو جھانسہ دینے کیلئے اب ناکافی ہیں۔ میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا سب خشک و تر آشکار کرنے پہ قادر ہو چکا۔ گذشتہ دنوں نوجوان صحافی عدنان خالد کی ایک خصوصی رپورٹ نظر سے گزری جس کے مطابق پنجاب پولیس کے کالے کرتوت جان کر خوف بھی آیا اور شرم بھی۔ پولیس تشدد سے شہریوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ حکومت اور گورننس پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی ایک مضحکہ خیز سا سلوگن ہے۔ سچ یہ ہے کہ پولیس کا تشدد اور موت آپ کی۔ رواں سال اب تک دس سے زائد زیرِ حراست افراد جان کی بازی ہار چکے۔ کسی کو تھانے میں اور کسی کو پولیس اہلکاروں کے نجی ٹارچر سیل میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تھانہ اکبری گیٹ میں 11 جولائی کو 30 سالہ ذیشان پولیس تشدد سے دم توڑ گیا۔ 

11 اگست کو شان نامی نوجوان تھانہ لوئر مال میں، یکم ستمبر کو تھانہ گجرپورہ کے ٹارچر سیل میں امجد نامی شخص اور 2 ستمبر کو تھانہ شمالی چھاؤنی میں عامر مسیح پولیس تشدد کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ اس سے قبل 16 جنوری کو ملتان میں عمران اشرف پولیس تشدد کی بھینٹ چڑھا۔ یکم جولائی کو فیصل آباد میں عنصر اسلم اور 7 مئی کو شیخوپورہ میں ایک نوجوان پنجاب پولیس کے شیر جوانوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ جون میں اوکاڑہ اور اگست میں قصور کا ایک شخص عبدالغفور جان سے گیا۔ یکم ستمبر کو صلاح الدین نامی مبینہ طور پر ایک ذہنی معذور شخص پولیس کے بہیمانہ پن کا شکار ہوا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے متشدد اور قاتل اہلکاروں کو معطل کرنا اور مقدمات قائم کرنا محض ایک معمول کی کارروائی ہے۔ نہ کوئی قاتل پولیس والا پھانسی چڑھتا ہے اور نہ ہی زندگی سلاخوں کے پیچھے گذارتا ہے۔ رسمی ساشور شرابہ، بیان بیازی ار پھر پیٹی بھائیوں کی مدد اور حقیقی فرض کی عدم ادائیگی کے باعث سب کچھ ویسے کا ویسا۔ کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی اور ملزمان جرم ثابت ہونے سے پہلے اپنی جانوں سے جاتے ہیں۔ پولیس سزا دینے کی مجاز نہیں۔ یہ کام عدالتوں کا ہے۔ مگر وہ پولیس ہی کیا کہ جو طاقت اور اختیار کا غلط استعمال نہ کرے۔ گو آئی جی پنجاب فرماتے ہیں کہ پولیس فورس کو کالی بھیڑوں سے پاک کیا جائے گا مگر سینئر وکیل آفتاب باجوہ نے قلعی کھول دی۔ کہا کہ ماورائے عدالت قتل ہمیشہ سینئر پولیس افسران کی معاونت سے ہی ہوتے ہیں۔

 راقم کی رائے میں پولیس کے انسانی اور پروفیشنل رویے ہمارے بااثر طبقات اور حکومتوں کے مفادات کے برعکس ہیں۔ اسی لئے کبھی کسی حکومت نے حقیقی پولیس ریفامز پر کام ہی نہیں کیا۔ اصل میں ایسی قاتل اور حدود سے متجاوز پولیس حکومتوں کی لاٹھی کے طور پر استعمال ہوتی آئی ہے اور ہو رہی ہے۔ موجودہ وزیراعظم صاحب چار حلقے کھولنے کے مطالبہ پر اپنی سیاسی جدوجہد میں تیزی لائے تھے۔ بات دھرنے اور کنٹینر تک پہنچی۔ 2018 کے انتخابات میں بیشتر اپوزیشن جماعتیں احتساب کے ڈنڈے کا سامنا کر رہی تھیں۔ چنانچہ اقتدار کی مسند تقریباً خود چل کر موجودہ مقتدر کے پاس آئی۔ مسند نشین ہو کر انہوں نے قرآن و حدیث اور تاریخی حوالوں کو اپنے خطابات کا حصہ بنایا۔ معلوم ہوا کہ جناب مطالعہ کے شوقین ہیں۔ دوباتیں اُن کی نذر کرنا راقم کا فریضہ ہے۔ خلیفہ دوم کا فرمان کہ نیل کے کنارے کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمرؓ سے پوچھا جائے گا۔ دوسری بات شاید کہ دل میں اتر جائے اور رنگ لائے۔ حضرت صالح  ؑ اللہ کے برگذیدہ بندے اور نبی کے درجے و مرتبے پر فائز تھے۔ اُن ؑ کی اونٹنی کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارنے والے صرف چار افراد تھے۔ مگر اس جرم کی سزا خدا نے اُن سینکڑوں ہزاروں کو بھی عذاب کی شکل میں دی جو یہ سب دیکھتے رہے اور خاموش رہے۔ صاحب! آپ مطالعہ کے شوقین ہیں۔ ذرا مولا علی ؑ کا وہ خط بھی پڑھ لیجئے جو مالکِ اشتر ؓ نے نام انہوں نے لکھا تھا۔ گورننس اور حکومت کے فرائض آپ بخوبی جان جائیں گے۔ خلقِ خدا کیڑے مکوڑوں کیطرح کچلی مسلی جا رہی ہے۔ خدارا کچھ کیجئے ورنہ یاد رہے کہ سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ۔ 

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس