0
1
1
قلم قرینہ: ساجد عمر گِل

عالمی بساط پر آنے والے دنوں میں بہت کچھ اتھل پتھل ہونے جا رہا ہے۔ بہت سے محاذوں پر خود اپنے بادشاہوں کی بداعمالیوں کے باعث مسلمانوں کو شہ مات ہونے والی ہے۔ ثبوت ثابت اور ثبت ہیں کہ جو بویا جائے وہی کاٹنا پڑتا ہے۔ امریکیوں نے اپنے مفادات کی خاطر پہلے سعودی فقہ اور وہابی ازم کو گہری منصوبہ بندی سے فروغ دیا۔ مسلمانوں کو شدت پسندی کی راہ پر ڈالا۔ اسلام کو بدنام کیا۔ دہشت گرد پیدا کیے۔ جب طے شدہ اہداف حاصل کر لئے تو پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگے۔ کبھی طالبان، کبھی القاعدہ اور پھر داعش۔ کیا کیا پھندے تیار ہوئے۔ شکاری نے کس کس بہانے سے شکار نہیں کیا۔ اس سارے کھیل میں غلاموں سے بدتر ہمارے شاہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ تختِ شاہی کیلئے آلِ رسولؐ کا پاک خون بہانے والوں کی نسلیں اور اُن کے پیروکاروں کے سامنے عام مسلمان کے خون کی کیا وقعت؟ انہیں غرض ہے تو بس اپنے تخت سے۔ تاج سے۔ انہیں کیا اسلام اور مسلمانوں کی فکر۔ وہ تو بس اپنے دربار سجائے رکھنے کی موج میں غلطاں ہیں۔ نام نہاد جہاد کے نام پر بڑھائی گئی شدت پسندی اس قدر بڑھی کہ منہ کو آنے لگی تو بین الاقوامی طاقتوں کو خود اپنی اپنی بقا اور حفاظت کی فکر لاحق ہوئی۔ چنانچہ اب جہادی فلسفے کے نام پر انسانیت کے قاتل بننے والے طبقے سے جان چھڑانے کیلئے وہ ایسے لوگوں کو آگے لا رہے ہیں کہ جو خود کو مسلمان تو کہیں مگر ایسے کسی جہادی فلسفے پر ایمان نہ رکھتے ہوں۔ یعنی احمدیوں کو متبادل اور نعم البدل کے طور پر سامنے لانے کی تیاریاں مکمل ہونے کو ہیں۔

 سب سے پہلے یہ تجربہ پاکستان میں کیا جائے گا۔ مستقبل کے پاکستان میں ختمِ نبوتؐ پر ایمان رکھنے والے مسلمانوں پر حکومت احمدیوں کی ہو گی۔ پاکستان میں آئینی طور پر چاہے احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھا جائے مگر امریکہ اور کچھ دیگر طاقتیں عالمِ اسلام کے ساتھ معاملات احمدیوں کے ذریعے چلائیں گی۔ جب ایسا ہو گا تو تاج و تخت کے دھنی ہمارے بادشاہوں کی رضا اس میں شامل ہو گی کیونکہ انہیں ہر حال میں اپنا تخت عزیز ہو گا۔ چنانچہ عالمی طاقتیں جو کہیں گی وہ کریں گے۔ پہلے مرحلے پر پاکستان میں دھیرے دھیرے احمدی کلیدی اور اہم عہدوں پر فائز ہوتے جا رہے ہیں۔ اگلے مراحل پر بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ مثلاً 73 کا آئین منسوخ یا سرے سے ختم ہو گا۔ نظامِ حکومت کی تبدیلی سے احمدیوں کے خلاف آئینی شقیں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی۔ یعنی نہ رہے گا بانس اور نہ ہی بجے گی بانسری۔ ایسے میں پاکستان میں مزید خوں ریزی بھی دیکھنے میں آئے گی۔ شمعِ رسالتؐ کے پروانے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کریں گے مگر بدقسمتی سے کچھ بدلے گا نہیں۔ سوائے اس کے کہ کمزور پڑتے پاکستان کا فائدہ اس کے دشمنوں کو ہو گا۔ دشمن نمبرون بھارت ہے اور وہ بہت چالاکی سے اپنے پتے کھیل رہا ہے۔ کشمیر کی تازہ صورتِ حال میں بھارت نے لداخ کے علاقے کا اپنے تئیں بہت خوب مصرف ڈھونڈا ہے۔ وہ لداخ کیوجہ سے چین کے ساتھ جنگ بھی کر چکا ہے۔ چین اب بھی اُس علاقے پر اپنا حق جتاتا ہے۔ چنانچہ بھارت لداخ میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کرنے پر تقریباً حامی بھر چکا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ہندو کمیونٹی کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں جیت گیا تو وائٹ ہاؤس میں ہندوؤں اور ہندوستان کا بہترین دوست بیٹھا ہو گا۔ ٹرمپ کا کہا سچ ثابت ہوا۔ اب امریکہ اپنے دوست مودی کی طرف سے پیش کیے گئے لداخ میں فوجی اڈوں میں بیٹھ کر ایک طرف چین کو ستائے گا دوسری طرف سی پیک منصوبے کو ملیامیٹ کرنے کی تگ و دو کرے گا۔

 ایسے میں پاکستان پر اُس کے اپنوں یعنی احمدیوں کا اثر و رسوخ امریکیوں کے حق میں استعمال ہو گا۔ اندازا کیجئے کہ بربادی کے کیسے کیسے منحوس اور سیاہ سائے ہم پر منڈلا رہے ہیں۔ ہماری معیشت تباہ حال ہے۔ سیاسی خلفشار بڑھتا جا رہا ہے۔ استحکام کی کوئی صورت فی الحال دکھائی نہیں دیتی۔ فوج مخالف طبقات نے اودھم مچا رکھا ہے اور فوج موجودہ حکومت کو سیاسی و معاشی تقویت دینے کیلئے وہ قرض چکا رہی ہے کہ جو واجب بھی نہیں ہیں۔ غلام گردشوں اور بھول بھلیوں کا ایک منحوس چکر ہے۔ کوئی راہِ فرار نہیں۔ کسی پل قرار نہیں۔ سروں کی فصلیں پک گئیں۔ کٹنے کو تیار۔ پیش منظر بہرحال باعثِ آزار۔ سوال یہ ہے کہ جس سر زمین کو رسولؐ نے بتوں سے پاک کیا تھا وہاں پھر سے بتکدے کھلوا کر اور یہودیوں کے ساتھ سفارتی تعلقات بنا کر ہمارے غلام طبع بادشاہ کب تک اپنا اقتدار بچا ئے رکھیں گے؟ پاکستان مکمل طور پر باجگزار اور عضوِ معطل بن گیا تو بادشاہتیں بھی لٹ جائیں گی۔ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟ نشانے پر تو وہ بھی برسوں سے ہیں۔ جو کچھ بویا ہے وہ انہیں کاٹنا تو پڑے گا۔ بس ایک صورت باقی ہے۔ بین المسلکی منافرتیں چھوڑ کر سعودیہ اور ایران باہم برادرانہ تعلقات استوار کریں۔ پاکستان اور ترکی اس میں کردار ادا کرے۔ یہ سارے مل کر چین، روس اور شمالی کوریا کو اپنے ساتھ ملائیں۔ ایک بڑا بلاک بنے۔ دشمنوں کی تیاری کے مطابق جو کچھ ہونے والا ہے اُسے کچھ دیر کو ٹالا جائے۔ مناسب منصوبہ بندی کی جائے۔ رسول کریمؐ نے بھی تو مدینے کی حفاظت کے لئے مخالفین سے معاہدے کئے ہی تھے۔ ہم بھی اپنے محفوظ مستقبل کیلئے کوئی حصار بنائیں۔ کوئی خندق کھودیں ورنہ جو دلدلیں ہمارے چاروں جانب گہری ہوتی جا رہی ہیں وہ ہمارے دھنس جانے کیلئے کافی ہیں۔ کوئی تدبیر تدارک کی آج..... ورنہ افسوس کہ اس ورنہ کے بعد کچھ بھی باقی نہیں کہنے کو۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس