0
1
0
قلم قرینہ : ساجد عمر گِل

تاریخِ اسلام اور تاریخِ مسلمانان باہم بے حد مختلف بلکہ متصادم ہیں۔ تاریخِ اسلام میں ہم نے دیکھا کہ دشمنان بھی رحمت العالمین ؐ کو صادق اور امین مانتے ہیں۔ تاریخِ اسلام میں عفو ودرگزر ہے۔ احسان اور رحم و کرم نمایاں ہیں۔ رواداری اور مساوات ہے۔ رسولِ کریمؐ کے اِس فانی جہان سے ظاہری طور پر پردہ کرتے ہی تاریخِ اسلام کے ابواب تمام ہوتے ہیں اور پھر دلخراش تاریخِ مسلمانان کا آغاز فوری ہوتا ہے۔ سوموار کی صبح سرکارِ دو عالمؐ کی روحِ پرواز کرتی ہے اور بدھ کی رات آپؐ کے جسدِ پاک کی تدفین ہوتی ہے۔ اسی دورانیے میں سعدہ بنی ثقیفہ کے دل دُکھا دینے والے معاملات پیش آتے ہیں۔ مسلمان نبوت اور امامت کی الو ہیت کو پسِ پشت ڈال کر خلافت جیسے دنیاوی عہدے کیلئے باہم دست و گریبان ہوتے ہیں۔ یقینا یہیں سے اہلِ بیتِ اطہار ؑپر سختیوں کا زمانہ آجاتا ہے۔ اسلام کی حفاظت اور آبیاری کیلئے علی ابن ابی طالب ؑپر بڑی ذمہ داریوں کا آغاز ہوتا ہے۔ کلمہ گو اُن سے برسر پیکار ہوتے ہیں۔ کیا کیا آزمائشیں ہیں کہ جو امام علی ؑپر نہیں آئیں۔ فرمان علی ؑ ہے کہ لوگ میرے عدل کے باعث میرے دشمن ہو گئے۔ یہاں تک کہ ان ؑکی شہادت ہوئی۔ بچپنے میں اسلام اور رسولؐ پر شاہد ہونے والا علی ؑبڑھاپے میں شہید ہو گیا۔ اس سے قبل خاتون جنت جناب سیّدہ اپنے باباؐ کے بعد مختصر عرصہ اس حق مارنے والی اور جور و ستم سے بھری دنیا میں قیام تمام کر کے مکینِ جنت ہو گئیں۔ پھر جناب حسن ؑ کی شہادت ہوئی۔ 

وہ پاک دہن جس میں لعابِ رسولؐ ٹپکا اُسے زہر سے خون آلود کر دیا گیا۔ وائے افسوس کہ تاریخِ مسلمانان کیسی کیسی ڈھلوانوں میں اپنی سمت کھوتی رہی۔ وہ مسلمان جن کیلئے حُبِ محمدؐ و آل محمدؐ متاع کارواں کے طور پر لازم تھی، وہ حب دنیا و مال اور فانی جاہ و جلال کی دلدلوں میں دھنس گئے۔ پھر مقامِ کربلا آیا۔ ہائے اِس قلم کے ریشے ادھڑنے لگے ہیں۔ بدن پر لرزہ طاری ہے۔آنکھیں خون آلود اشکوں سے لبریز۔ روضہئ رسولؐ سے رخصت ہو کر حسینیؑ قافلہ مقتل کو جا رہا ہے۔ تاریخِ مسلمانان ہمیشہ ہمیشہ کو خون میں ڈوبنے جا رہی ہے۔ امامؑ نے بیت اللہ پر حاضری تو دی مگر حج موقوف کیا۔احرام کھول دئیے کیونکہ کربلا میں اسلام کے خلاف مسلمان صف آراء ہو چکے تھے۔ ایک پلید نے خونِ آل رسولؐ بے دریغ بہانے کا ارادہ باندھ لیا تھا۔ ابنِ علی ؑ اپنے باباؑ کی سنت پر عمل پیرا تھا۔ مسلمانوں کے ہاتھوں اپنے نانا کا دین بچانے نکلا تھا۔ سو اپنے تن، من دھن کو لٹا دیا۔ اپنے کنبے کو کٹوا دیا۔ قدرتِ خداوندی دیکھئے کہ امامؑ کا سر جھکانے کے خواہش مند بذاتِ خود اُن ؑ کا سر نیزے پر بلند کر کے چلے۔ قرآن کی نفی کرنے والوں میں قرآن ناطق جس شان سے چلا وہ تاریخ انسانی میں آج تک روشن ترین ہے۔ پھر لٹے پٹے حسینی  ؑکنبے کی بنتِ علی ؑ مدیر ہو گئیں۔ دربارِ پلید میں یوں گرجیں کہ پرانے لوگوں کو لحن علی ؑ کی یاد آ گئی۔ اسلام بظاہر معدوم۔ آلِ رسولؐ اسیر اور مسلمان آزاد۔ امام المتقین ؑاور اُن کی اولاد سے یہ سلوک؟ سوال مشکل، جواب ناممکن۔ 

سوال کا جواب کیا لائیے کہ محسن کُشی کی روایت اور جور و ستم کی مشق تو آج تک جاری ہے۔ لیکن قتلِ حسینؑ اصل میں مرگِ یزید ہے کہ مصداق ثابت ہوا کہ مٹانے کے درپے خود مٹ گئے۔ قاتل مغلوب ہوئے اور مقتول سرفراز۔ آج بھی جہاں جہاں ظلم ہوتا ہے لوگوں کو کربلا کی یاد آتی ہے۔ یزید پلید پر لعنت بھی ہوتی ہے۔ لیکن... صاحب! اس لیکن سے آگے جو پیش منظر ہے وہ اور بھی دلخراش ہے۔ اہلِ بیتِ اطہار ؑسے دشمنی اور رسولؐ کی توہین کے مابعد ذلتوں سے مسلمانوں نے کچھ نہیں سیکھا۔ جب کہ قدرتِ خداوندی نے نقش بردیوار کر دیا کہ عافیت درِ آلِ رسولؐ کی چوکھٹ کے سوا کہیں پر نہیں۔ مسلمانو! زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھو۔ زبانی ہاں اور عملی ناں سے سوائے مزید ذلتوں کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ بغض آل رسولؐ  تمہیں کہیں کا نہ چھوڑے گا۔ سبق سیکھو۔ فرامینِ نبویؐ سے روگردانی نہ کرو۔ محمدؐ و آلِ محمدؐ کے علم کو سایہ جانو۔ اس کے نیچے اکٹھے ہو جاؤ بچے رہو گے۔ فلسطین، کشمیر، روہنگیا کہاں کہاں مسلمان مر نہیں رہے۔ ماضی میں چنگیز اور ہلاکو نے تاخت و تاراج کیا۔ بڑے غلغلے اور طنطنے سے سپین فتح کرنے گئے تھے۔ عورتوں کیطرح وہاں سے روتے ہوئے نکلے۔ مسلمانو! جسے دیکھا نہیں، سمجھا نہیں اُسے اپنے نبیؐ کے کہنے پر اپنا رب تو مانتے ہو اور جس علی ؑ کو دیکھا، برتا، پرکھا، اُس علی ؑ کے بارے فرمانِ رسولؐ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کیوں رُک جاتے ہو؟ یہ کیا دوغلاپن ہے۔ اتنا ظلم کرو گے تو یہی حال ہوگا۔ 

ذلت، رسوائی اور غلامی مقدر ہوئی۔ جاہ و جلال، مالِ دنیا اور مسند و اقتدار کیا کچھ نہیں تمہارے پاس؟ بس بدن روح سے عاری اور جذبہئ ایمانی سے حمیت رخصت۔ بادشاہتیں محکوم۔ اسلام کی بادِ بہاری گئی اور مسلمانوں کی بادِ سموم سے مرتے ہوئے معصوم۔ بس ایک حسینؑ کا نوحہ تمام تاریخِ مسلمانان پہ بھاری۔ مسلمانو! حسین ؑ کا غم کھاؤ۔ محمدؐ و آلِ محمدؐ سے حقیقی وفا نبھاؤ اور دیکھو پھر دنیا کی تاجداریاں قدموں کی دھول کیسے بنتی ہیں۔ امام ؑ نے فرمایا تھا ظلم کے خلاف جسقدر دیر سے اٹھو گے اُسی قدر قربانی بھی دینا پڑے گی۔ امام ؑ کے فرزند امام ؑ نے فرمایا تھا جہاں جہاں ظلم ہو گا اور لوگ خاموش رہیں گے وہ مقام کربلا اور کوفہ ہوں گے۔ ذلت کی زندگی چھوڑو اور حیدر ؑ و حسنین ؑکریمین سے اطوار اپناؤ۔ تاریخ مسلمانان سے گریز اور تاریخ اسلام میں اپنی جگہ بناؤ۔ امر ہو جاؤ گے۔ ورنہ لاریب ذلتوں کی اتھاہ گہرائیاں منتظر اور مقدر ہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس