0
1
0
قلم قرینہ: ساجد عمر گِل

راقم کی گزشتہ تحریر ”پاک بھارت جنگ ایٹمی نہیں ہو گی“ کے عنوان سے تھی اور زیر نظر تحریر قریباً قریباً گزشتہ سے پیوستہ ہے۔ 

گو بھارتی سیکولرازم کے پردوں میں بھی ہمارے لئے زہریلی دشمنی ہی پنہاں تھی مگر مودی نے تو ہندو فاشزم کے سارے پردے ہی چاک کر دیے۔ اپنے اندر کی نظریاتی وحشت کو آشکار کر کے مودی نے سب راز فاش کر دیے۔ ظلم و ستم سے معمور سوچوں کو عملی شکل دے کر مودی نے بھارتی مکروہ غیر انسانی چہرے سے سارے نقاب نوچ لئے۔ ہندو مذہب کا بھیڑیاپن اس قدر اجاگر ہو چکا کہ انسانیت لرزنے لگی ہے۔ طاغوت کے عفریت نے بھارتی سیکولر سماج کی دھجیاں بکھیر دیں۔ گؤ ماتا کے پجاری دیوانے ہو کر وحشی کھلے سانڈ بن گئے۔ اقلیتوں کے حقوق کی پامالی جس حد تک بھارت میں بڑھ چکی اس کی مثال شاید تاریخ انسانی میں کہیں نہ ملے۔ کشمیر میں جو ظلم و ستم روا ہے اُس نے کربلا کا منظر پیدا کر دیا ہے۔ کشمیر اس قت گوانتانا موبے جیسی جیل بن چکا۔ پاکستان اس حوالے سے یقینا شدید تحفظات رکھتا ہے۔ پاکستانی سمجھتے ہیں کہ اُن کا کشمیریوں سے تعلق روح اور جسم کا سا ہے۔ 

کشمیر کی بدترین صورت حال نے پاکستان اور بھارت کو ہیجانی کیفیت کا شکار کر دیا ہے۔ اب جنگ جنگ کی صدائیں دونوں طرف بلند ہو رہی ہیں۔ جنگ بھارت کیلئے بھی نقصان دہ ہے مگر ذہن نشین رہے کہ پاکستان کے مخصوص اور مخدوش معاشی و سیاسی حالات جنگ کی صورت میں مزید زبوں حال ہو جائیں گے۔ چنانچہ پاکستان فی الحال عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کیلئے سفارتی محاذ پر ڈٹا ہوا ہے۔ قیادت اپنی بساط بھر کاوشیں بروئے کار لا رہی ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستانی قیادت کی تگ و دو نقش بر دیوار ہو رہی ہے مگر دشمن بہت مکار اور چا لاک ہے۔ ایک طرف وہ 370 اور 35A کا خاتمہ کر کے کشمیریوں کا بزور قتل عام کر رہا ہے اور دوسری جانب اُسی کی سپریم کورٹ میں اس غیر آئینی اقدام کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہو رہی ہے۔ عین ممکن ہے بھارتی سپریم کورٹ مودی کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دے کرمعطل یا منسوخ کر دے(جس کا امکان قومی ہے)۔ اگر ایسا ہوا تو قانونی طور پر کشمیر اپنی پہلے والی متنازعہ حیثیت پر واپس چلا جائے گا۔ یوں کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے پیدا کردہ عالمی تحریک کی حرکت تیز روی سے سست روی کا شکار ہو جائے گا۔ مسئلہ کشمیر ایسے کسی Cosmetic Measure کے باعث حل ہونے کی بجائے پھر سے تعطل کے گھاٹ اتر جائے گا۔ 

مودی البتہ مقامی سطح پر اپنی سیاسی بساط بچھائے رکھے گا اور کہے گا کہ ہندوستانیوں میں نے تو کشمیر ہمیشہ کے لئے حاصل کر لیا تھا تمہاری سپریم کورٹ نے میری کامیابی پر سیاہی پھیر دی۔ یعنی مودی کے لئے سیاسی طور پر وننگ سیچوئیشن بر قرار ہی رہے گی۔ سوال یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں پاکستان کو کیا کرنا چاہئے؟ کچھ عوام و خواص کی رائے یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ میں جانے اور خطاب کرنے سے پہلے وزیراعظم صاحب بھارت کے خلاف جنگی محاز کو محدود پیمانے پر خود گرم کر لیں تاکہ جب وہ اقوامِ متحدہ پہنچیں تو اقوامِ عالم کو عملاً احساس دلا سکیں کہ کشمیر کے حوالے سے پاک بھارت کشیدگی مزید بڑھی تو نقصان صرف فریقین ہی کا نہ ہو گا بلکہ دنیا بھر کو نقصان کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر پاکستان کشمیریوں کی فوجی مدد کا فی الحال متحمل نہیں تو پھر جذبہ جہاد اور حمیت سے معمور کشمیریوں کا سہارا لے۔ رضا کاروں کو رستہ فراہم کرے اور انہیں کشمیر میں جانے دے۔ گوریلا وار اور شب خون کی حکمتِ عملی اپنا کر دشمن کو نقصان پہنچائے اور مظلوم کشمیریوں کو تقویت دے۔ دشمن کی فوجی طاقت کو الجھائے اور ستائے۔ یہ معاملہ طول پکڑے۔ ایسے میں عالمی طاقتیں پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوششیں کریں تو سینہ تان کر ڈٹ جائے اور امریکہ بہادر سے کہے کہ اگر واقعی وہ افغانستان سے دم دبا کر بھاگنا اور دامن جھاڑ کر جانا چاہتا ہے تو پاکستان مدد کیلئے تیار ہے لیکن یہ امر کشمیر کی آزادی سے مشروط ہے۔ طالبان کو بھی کشمیر کی راہ دکھائی جا سکتی ہے۔ وہ افغانی محاذ سے ہٹ کر کشمیر کیطرف متوجہ ہوں گے تو امریکہ کو اپنے آپ افغانستان سے جانے کا پُر امن رستہ میسر آ جائے گا۔ 

ویسے ہمارے قبائلی علاقوں اور پلندری وغیرہ کے پٹھانوں میں کشمیریوں کی حالتِ زار پر کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ غم و غصہ کی اس کیفیت کو ذرا سے چنگاری دکھانے کی ضرورت ہے اور بھارتی دشمن کے بھسم ہونے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔ سفارتی محاذ پر پاکستان کی کوششیں تاحال اس لئے بھی قطعی طور پر کارگر نہیں کہ عالمی بساط پر کھیلے جانے والے مفاداتی کھیل میں پیمانے انسانیت کے نہیں بلکہ معیشت کے ہیں۔ پاپی پیٹ کی ہوس میں مبتلا زمین خور لوگ ظرف کی نہیں زر کی زبان سمجھتے ہیں۔ چنانچہ پاکستان کاوش کرے کہ ایران، چائنہ، روس اور شمالی کوریا کو ساتھ ملا کر ایک بلاک بنانے کا اعلان کرے۔ بے ضمیر عالمی طاقتوں کو انسانی اور سفارتی ذرائع سے بیدار کرنے کی بجائے دھمکی آمیز سخت رویہ اختیار کرے۔ یاد رہے کہ پاکستان اپنی کوشش اور جدوجہد سے کشمیر کو غاصبانہ بھارتی تسلط سے چھٹکارا دلانے میں کامیاب ہو گیا تو تھوڑا بھی بہت شمار ہو گا۔ اگر خدانخواستہ اب ایسا نہ ہو سکا تو پھر کچھ بھی کیا جائے بے سود ہی ہو گا۔ کشمیر جلتا رہے گا۔ کشمیری مظلومیت کے گھاٹ پر موت کی نیند سوتے رہیں گے اور پاکستان بھارتی چیرہ دستیوں سے کبھی مفرحاصل نہ کر پائے گا۔ ٹیپو کی ایک روزہ شیر جیسی زندگی کو ترجیح دینے کے اپنے بیانئے کو موجود حکمران عملاً ثابت بھی کریں کہ یہی وقت ہے۔ ورنہ ممکن ہے بعد ازاں تاسف سے ملنے کیلئے یہ ہاتھ بھی سلامت نہ رہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس