0
1
0
قلم قرینہ:ساجد عمر گِل

خصوصاً کشمیر اور ہندوستان بھر میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف جاری مودی کے اس سارے وحشیانہ کھیل کے پس منظر میں ممکنہ طور پر کئی مقامی اور بین الاقوامی عوامل پوشیدہ ہیں۔ مقامی اور سیاسی حوالے سے جنونی مودی نے یہ ثابت کیا کہ جو وہ کہتا ہے بغیر حیل و حجت کے کر گذرتا ہے۔ 370 اور 35A کو ختم کر کے کشمیر کی عالمی متنازعہ اور مسلسل لاینحل صورت حال کا اپنے تئیں خاتمہ کر کے مودی نے ہندو اتہ کی بنیاد پر ستانہ سیاست کو رائج اور مزید فروغ دیا۔ اسی بنا پر ہندوستان بھر میں مقبولیت اور مزید سیاسی قوت حاصل کی۔ نہرو، گاندھی سیکولر نظامِ سماج کو تاخت و تا راج کر کے ہندو، ہندی، ہندوستان کے نظریے کو عملاً آگے بڑھایا۔ تنگ نظری، وحشیانہ پن اور اقلیتوں پر بے دریغ ظلم و ستم کی داغ بیل ڈالی۔ وہ ہندو جو تعداد میں ہمیشہ زیادہ ہونے کے باوجود اقلیت کی غلامی صدیوں تک کاٹتے رہنے کے باوجود سر جھکا کر اور ہاتھ جوڑ کر پر نام کرتے رہنے ہی کو صائب جانتے آئے، اب وہ چاقو، خنجر اور تلوار اٹھائے سرِ عام اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہانے پر اُتر آئے ہیں۔ بھارتی سماج جس ہذیانی کیفیت کا شکار ہے وہ مودی کی سیاست کا طرہ امتیاز ہے۔ 

بظاہر مودی نے اپنے تمام حریفوں کو چاروں شانے چت کر کے میدان مار لیا ہے۔ کشمیر تو کشمیر آسام میں صدیوں سے بسنے والے مسلمانوں سے بھی شہریت کا حق چھین لینا انتہائی درجے کی زیادتی اور حق تلفی ہے۔ رہی بات اس وحشیانہ کھیل کے بین الاقوامی عوامل کی تو عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ بہادر کی اس حوالے سے منفی کاوشوں سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ عرصہ دراز سے امریکہ کی خواہش ہے کہ ہمارے اس خطے میں کوئی ایسی جنگ ضرور شروع کروائی جائے جس میں چین بہر طور شامل ہو۔ مودی کا لداخ کو انڈین یونین میں شامل کرنا یقینا چین کو بھڑکانے کا موجب ہو گا۔ اس لئے کہ چین نے لداخ کو مکمل طور پر کبھی بھارتی علاقہ تسلیم نہیں کیا۔ امریکہ کی طرح کچھ دیگر عالمی قوتیں بھی حتمی طور پر یہ جاننا چاہتی ہیں کہ چین کہاں تک وار انڈسٹری میں ترقی کر چکا ہے۔ یعنی مودی کے اس وحشیانہ کھیل میں کس قدر خطے کی تباہی و بربادی کے امکانات پوشیدہ ہیں اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان، بھارت اور چین اگر کسی آگ اور خون کے میدان میں عملاً مد مقابل ہوتے ہیں تو یہ امر خطے کیلئے کیسی کیسی بربادی کا باعث نہ بنے گا۔ نقصانات کا حقیقی تخمینہ ابھی شاید کسی بھی ذہنِ رسا کے بس میں نہیں۔ کیونکہ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو ایران اور روس کسی طور پر بھی غیر جانبدار نہ رہ پائیں گے۔

 افغانستان کا دم پہلے ہی آہن و آتش کے زہریلے ماحول میں گھٹ رہا ہے۔ عالمی مکاروں نے فریب کی بساط خوب بچھائی ہے۔ سوال یہ کہ مودی کو کون سمجھائے؟ 70 برسوں سے جلتے ہوئے کشمیر اور مرتے ہوئے کشمیریوں کے الم عالمی ضمیر کو بیدار کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات، دنیا بھر کے عام مسلمانوں کا نصیب ہے۔ کس قدر بدنصیبی ہے کہ یہ نصیب خود مسلمان بادشاہوں اور حکمرانوں کے ہاتھوں لکھا گیا ہے۔ مسند نشینوں کی ہوسِ اقتدار نے انہیں مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ بے حمیتی کی دیمک اُن کی غیرتِ ایمان کو بھی چاٹ گئی۔ مگر ہزار ہا سلام کشمیریوں کے جذبہ حریت کو۔ وہ آگ میں جلے اور خون میں نہائے۔ اُن کی عفتیں اور عصمتیں لٹیں۔ جانیں گئیں۔ حتیٰ کہ مردانہ پشتوں اور زنانہ پیٹ میں پروان چڑھنے والی آئندہ نسلیں بھی موت کے گھاٹ سو گئیں مگر صد ہا سلام اُن ماؤں کو کہ جو ظالموں اور غاصبوں کے ہاتھوں شہید کروانے کیلئے اپنے جگر گوشوں کو جنم دیتی ہیں۔ یقینا وہ وقت دور نہیں کہ جب مودی اور اس کے وحشیانہ نظریے پر کار بند گماشتوں کو کشمیریوں کا جذبہ حریت بہا لے جائے گا۔ ہندو کا ظالمانہ نظریہ بحیرہ ہند میں غرق ہو جائے گا۔

 کشمیریوں کو ترنوالہ جاننے والے یاد رکھیں کہ امام خمینیؒ بھی بارہ مولا کے ایک قریبی قصبہ کے خاندان کی نسل میں پیدا ہو کر ایک عالمی شہرت یافتہ اسلامی انقلاب کے داعی بنے تھے۔ دیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ فصیح و بلیغ اردو پر عبور رکھتے تھے۔ خود تو وہ ایران میں پیدا ہوئے مگر اُن کی رگوں میں دوڑنے والا حریت پسند کشمیری لہو انہیں تاریخ کے اوراق میں ہمیشگی کے مقام پر فائز کر گیا۔ بھری جوانی میں جس دلیری اور ایمانی قوت سے شاہِ ایران جیسے قاہر و جابر کو انہوں نے ایک خط کے ذریعے للکارا وہ آج بھی تاریخ کے اوراق کی زینت ہے۔ ایک کشمیری یعنی امام خمینیؒ ایران میں انقلاب لا سکتے ہیں تو پھر کشمیری خود اپنے کشمیر کیلئے کیا کیا نہ کر گزریں گے؟ بے پناہ ظلم ڈھانے والے بھارتی سورمے اس تاریخ کو بھی ملحوظ رکھیں تو شاید کچھ سبق سیکھیں۔ ظلم سے باز آئیں اور عالمی طاقتوں کے اس خطے کیلئے زہریلے ایجنڈے کے مددگار نہ بنیں۔ متشدد نظریات ملکوں ہی کو نہیں بلکہ قوموں کو بھی برباد کر دیا کرتے ہیں۔ کشمیریوں پر ظلم ڈھانے والے امام خمینیؒ کے ہم نسلوں اور ہم وطنوں کو ترنوالہ نہ جانیں تو اُن کے حق میں بہتر ہو گا۔ ورنہ جلتا ہوا کشمیر سب کو ایسی آگ میں جھونکے گا کہ جس پھر کوئی مداوانہ ہو سکے گا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس