0
1
0
مکالمہ:سلمان عابد

salmanabidpk@gmail.com

 معروف شاعر عباس تابش کا یہ شعر جب بھی پڑھتا ہوں تو واقعی ماں یاد آجاتی ہے ۔ اس کے بقول :

ایک  مدت   سے  میری  ماں  نہیں   سوئی   تابش

میں  نے   ایک  بار  کہا  تھا  مجھے  ڈر لگتا  ہے 

ماں کی جدائی کا دکھ ایک ایسا دکھ ہے جو آج بھی میری زندگی کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ ماں کا رشتہ ہی ایک ایسا عجیب و غریب رشتہ ہے جس میں سوائے محبت، احساس ، درد، مددگار، خلوص، اپنائیت،جذبہ ، قربانی ، ایثار کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ اسے اولاد سے کچھ ملے نہ ملے لیکن اس کے اپنے خلوص او رمحبت میں کوئی کمی نہیں دیکھی جاسکتی ۔اگست2009کو والدہ محترمہ اس دنیا سے رخصت ہوئی تھیں ، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے کل ہی کی بات ہے ۔ان کی وفات سے لے کر آج تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس دن والدہ کی محرومی کا احساس نہ ہوا ہو، بس ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہ میرے ساتھ ہی کھڑی ہیں ۔ والدہ کی خوبی یہ تھی کہ ا س کے پاس سوائے محبت کے کچھ نہ تھا ۔اگر کبھی کبھی ڈانتی تھیں تو اس میں بھی سوائے محبت کے احساس کے علاوہ کچھ نہ تھا ۔ بقول بونا پارٹ :

حسرتوں کے ہجوم میں اور خوشیوںکے طلاطم میں اپنی ماں کی عظمت کو دیکھو

والدہ کا رشتہ ہی ایسا ہے جو سب کے لیے اہم ہوتا ہے ۔ جو لوگ والدین او ربالخصوص والدہ کی محرومی کا شکار ہیں و ہ ہی یہ دکھ وہی محسوس کرسکتے کہ ان کی جدائی کے بعد کی زندگی کیا ہے ۔ اگرچہ موت تو برحق ہے او رہر کسی نے دنیا سے جانا ہے لیکن بعض رشتوں کی اہمیت یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا سے چلے بھی جاتے ہیں ، مگر رہتے آپ کے ساتھ ہی ہیں ۔یہ میرایقین ہے کہ جولوگ اپنے والدین سے حقیقی محبت کرتے ہیں وہ اگر دنیا میں بھی نہ ہو تو بچوںکے لیے دعائیں ہی کرتے رہتے ہیں ۔ یہ ہی وہ احساس ہے جو میرے اندر بھی موجود ہے او رمحسوس کرتا ہوں کہ آج جو کچھ بھی ہوں اس میں والدین کا حصہ زیادہ ہے ۔ آج بھی جب ہمت ہارتا ہوں تووالدہ کی تصویر کی طرف دیکھ کر ان سے ہی باتیں کرتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہمت دلاتی ہے او ردعا دے کر حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے کھڑا کرتی ہے ۔

بقول شاعر:

جہاں جہاں  ہے  میری  دشمنی  اس کا  سبب میں  ہوں

جہاں جہاں  ہے میرا  احترام  وہ  ماں  سے   ہے 

میری والدہ ایک بہت ہی نیک سیرت، سادہ اور عاجزی و انکساری کی اعلی مثال تھیں ۔ ہم نے ہمیشہ ان کو سخت حالات میں بھی مایوس ہونے کی بجائے حالات سے مقابلہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ میرے والد عبدالکریم عابد مرحوم ایک عجیب شخصیت کے مالک تھے ۔ اپنے مزاج اور انا پرستی یا خودداری کی وجہ سے کئی ملازمتوں کو خود ہی چھوڑ دیتے تھے ۔ایسے میں میرے والد کا حقیقی نفسیاتی سہارا میری مرحومہ والدہ ہی ہوا کرتی تھیں ۔ جو ہمت ہارنے کی بجائے خود کو بھی حوصلہ دیتی اور میرے والد کے ساتھ کھڑے ہوکر ان کو بھی حوصلہ دیتی تھیں ۔ میرے والد کہا کرتے تھے اگر تمہاری والدہ میرے ساتھ نہ ہوتیں تو یہ مشکل زندگی آسان آنداز میں نہ گزرتی ۔

مجھے یاد ہے کہ جب بھی گھر میں پیسوں کی کمی ہوتی اور والد پریشان ہوتے تو میری والد ہ چٹکی بجا کر اپنے بچائے ہوئے پیسوں میں سے کچھ پیسے میرے والد کو دے کر ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتی تھیں ۔ والد کہا کرتے تھے کہ ان کو حیرانگی ہوتی تھی کہ اتنی کم تنخواہ میں سے بھی پتہ نہیں تمہاری والدہ کیسے پیسے بچاکر رکھ لیتی ہیں ۔پیسے بچانا او ربچا کر ماہانہ کمیٹیاں ڈال کر وہ گھر کے لیے کچھ نہ کچھ کرتی رہتی تھیں اور گھر میں جو کچھ بھی نیا آتا اس کی وجہ والدہ کی بچائی ہوئی رقم ہوا کرتی تھی ۔ فالتو پیسے خرچ کرنا اور بلاوجہ پیسوں کے ضیاع کی وہ کبھی حامی نہیں تھی او ر وہ کہا کرتی تھیں کہ حال سے زیادہ مستقبل کی فکر مندی کرتی تھیں ۔اپنی ذات پر پیسے کم خرچ کرنا او راپنے بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا ان کی سب سے بڑی خوشی ہوتی تھی ۔گھر اور خاندان کے مسائل میں کبھی نہیں الجھتی تھیں او رنہ ہی خاندانوں کے باہمی جھگڑوں کا حصہ بنتی تھیںاور نہ ہی ہمیں ان معاملات میں الجھنے دیتی ۔ 

مجھے یاد ہے کہ میرے والد کام سے بہت دیر سے آیا کرتے تھے اور والدہ جاگ کر ان کا انتظارکرتیں اور خود دروازہ کھولتی تھیں اور جب ہم جوان ہوئے اور دیر سے گھر آنا ہوتا تھا تو دروازہ والد ہ ہی کھولتی اور ہمارا استقبال کرتی تھیں ۔ گھر میں داخل ہوتے ہوئے پہلی ملاقات ہی والدہ سے ہوتی تھی۔ آج جب اسی گھر میں داخل ہوتا ہوں تو دروزاہ کھلتے ہوئے والدہ کی یاد آتی ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ۔مجھے یاد ہے کہ گھر سے نکلتے ہوئے ان کا پیار اور خاص طور پر سفر میں ہمارے بیگ میں سفری دعائیں لکھ کر ڈالنا ان کی خاص عادت تھی ۔ آج جب یہ سب کچھ یاد آتا ہے تو والدہ کی جدائی کا احساس او رزیادہ بڑھ جاتا ہے ۔مجھے اس موقع پر برناڈ شاہ کا ایک جملہ یاد آگیا جو ماں کی عظمت کو اور زیادہ اجاگر کرتا ہے ۔ اس کے بقول ”مجھے ماں اور پھول میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا “ 

واقعی ایسا ہی ہے ماں اور پھول دونوں ہی خوشبو کی مانند ہوتی ہیں او ران کا مقصد اپنے عمل سے خوشبو پھیلانا ہوتا ہے ۔

مولانا محمد علی جوہر کے بقول ” میری ماں دنیا کی حسین ترین عورت ہے “ واقعی ہر ماں ہی حسین ہوتی ہے او راس کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا اور وہی ہے جو اولاد کا واحد سہارا ہوتی ہے او راس کے بغیر دنیا واقعی ادھوری سی لگتی ہے ۔ مجھے یاد دہے کہ ہماری والدہ نے ہمیشہ چار باتوں کی نصیحت کی ۔اول سادگی اور قناعت پسندی ، دوئم عاجزی او رانکساری ، سوئم تعصب اور نفرت سے دور رہنا اور چہارم اپنے مال میں سے لوگوں کی حمایت او رمدد کرنا ۔ مجھے یاد ہے کہ گھر میں جو بھی کھانا پکتا کم ازکم دوسے تین ضرورت مند لوگوں کو کھانا دینا اور افطاری سے قبل روزے دار لوگوں کو روزہ کھلوانا ، پرانے کپڑے ضرورت مند لوگوں کو دینا ان کی خاص عادت تھی او ریہ کام مجھے اپنے بہن بھائیوں میں بھی غالب نظر آتا ہے ۔نماز روزے او رقران کو باقاعدگی سے پڑھنا ان کی خاص عادت تھی او رجب بھی وقت ملتا تو وہ تسبیح ہاتھ میں لے کر مختلف قرانی دعائیں اور وظیفہ پڑھا کرتی تھیں ۔میرے والد کینسر کے مریض تھے اور 35برس اس کا مقابلہ کیا لیکن یہ مقابلہ میری ماں کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھا ۔ وقت پر دوائیں دینا اورخیال رکھنا ان کی اہم خوبی ہوتی تھی ۔

بقول شاعر:

لبوں  پہ  اس   کے  بدعا   نہیں  ہوتی    

بس  اک  ماں  ہے جو کبھی  خفا  نہیں  ہوتی 

میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بس ماں کی وہ خدمت نہیں کرسکا جو میرا حق اور فرض بنتا تھا ۔ زندگی کی بھےڑ میں ایک مسافر کی طرح گھومتا ہی رہا ، لیکن جب ٹھراو آیا تو وقت بہت گزرگیا تھا ۔ لیکن مجھے یاد ہے کہ میری بہن نازیہ کامران ، بھائی ریحان ، رضوان اور بالخصوص بڑے بھائی احمد ناصر نے جو ماں کی بیماری کے دوران خدمت کی وہ کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ بڑا بھائی رات دن ماں کے ساتھ ہی رہا اور آخری سانس تک وہ ہی ہی پیش پیش تھا ۔ سچ پوچھیں تو ہم سب بہن بھائی جو کچھ بھی ہیں وہ ہمارے والدین کی وجہ سے ہے اور ان کی محبت ہی زندگی کا بڑا اثاثہ ہے ۔

کبھی ان بوڑھے والدین کی طرف دیکھتا ہوں جو اولاد ہونے کے باوجود خود کو نہ صرف تنہا محسوس کرتے ہیں بلکہ جو دکھ ان کو اولاد سے ملتا ہے وہ بھی اور زیادہ دکھی کردیتا ہے ۔ کاش اولاد زندگی میں ہی اپنے ماں او رباپ کی قدر سیکھ سکیں ، مرنے کے بعد یاد کرنا اتنا اہم نہیں ہوتا جتنا ان کی زندگی میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوتا ہے ۔اولاد یہ بھو ل جاتی ہے کہ کل اس نے بھی والدین کا درجہ حاصل کرنا ہے ، کاش وہ یہ بات سمجھ سکے تو کوئی والدین اولاد سے ملنے والا دکھ زندگی میں نہ دیکھ سکیں ۔

برحال ماں تو ہمیشہ ایک خوشبو کی طرح ہمیں یاد رہے گی او رتجھے بھولنا اس زندگی میں تو ممکن نہیں ۔ تو اگر دنیا میں نہیں لیکن ساتھ ہے میرے اپنی یادوں کے ساتھ اور وہی ہمارا کل سرمایہ یا اثاثہ ہے ،ماں تیری عظمت کو سلام ۔

وصی شاہ کے بقول 

یہ  کامیابیاں  عزت  یہ  نام  تم  سے  ہے 

خد ا نے  جو  بھی  دیا ہے  مقام تم سے ہے

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس