0
1
0
مکالمہ:سلمان عابد

یہ واقعی پاکستان کی سیاسی جمہوری تاریخ کا اہم دن ہے جب فاٹا سے تعلق رکھنے والے قبائلی لوگوں نے پہلی بار ملکی تاریخ میں براہ راست انتخابی عمل میں حصہ لے کر نہ صرف ووٹ ڈالا بلکہ اپنی مرضی او رمنشا کے مطابق اپنے امیدواروں کا خود فیصلہ کیا ۔یہ عمل حقیقی معنوں میں اہم اور ان مقامی قبائلی لوگوں کو قومی سیاسی دھارے میں لانے کے لیے ایک بڑی پیش رفت سے جڑا ہے ۔یہ احساس وہاں کے مقامی اور قبائلی لوگوں کو ہی ہوسکتا ہے جن کو ووٹ کا حق ملا ہے کہ یہ کتنا بڑا فیصلہ ہے جو ان کی سیاسی او رسماجی زندگی پر براہ راست مثبت اثر ڈال کر ان کو ترقی کے نئے دور میں داخل کرسکتا ہے۔جنگ زدہ ، شورش زدہ اور مسلسل فوجی آپریشنوں کا شکار یہ علاقہ اگر پرامن ،سیاسی او رجمہوری عمل سے گزرا ہے تو یہ واقعی ایک تاریخی کامیابی ہے ۔

20جولائی کو ہونے والے قبائلی علاقہ جات میں 16صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر براہ راست انتخاب مقامی لوگوں کے لیے بڑی خوشی سے کم نہ تھا ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان انتخابات میں لوگوں کو بطور ووٹر دلچسپی بھی نظر آئی اور جوش خروش بھی ۔سیاسی جماعتوں سمیت آزاد امیدوار بھی بڑی تعداد میں اس عمل کا حصہ بنے ۔ زیادہ جوش خروش نئی نوجوان نسل میں نظر آیا جو انتخابی مہم میں بھی پیش پیش تھے اور ووٹ ڈال کر بھی انہوں نے ثابت کیا کہ وہ واقعی جمہوری نظام پر یقین رکھتے ہیں ۔ وہ علاقے جہاں بندوق کے زور پر نظام چلایا جاتا رہا ہو اب وہاں بندوق کی بجائے ووٹ کی طاقت یا بیلٹ سے نظام کو چلانا ایک نئے جمہوری دور کانکتہ آغاز ہوسکتا ہے ۔

جمہوریت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں کمزور او رمحروم طبقات کے لیے سیاسی ، سماجی سمیت معاشی مواقعوں کو پیدا کرتی ہے اور لوگوں میں یہ احساس دیتی ہے کہ سیاسی جمہوری نظام ہی ان کی ترقی کی کنجی ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں موجود نظاموں میں عملا جمہوری نظاموں کو دیگر نظاموں کے مقابلے میں فوقیت یا اہمیت حاصل ہے ۔یہ ہی واحد سیاسی نظام ہے جو لوگوں کی زندگیوں ،مسائل کے ساتھ جڑا ہے اور لوگوں کو مسائل کے حل کی طرف لاتا ہے ۔اگرچہ جمہوری نظاموں میں بیشترمسائل ہیں او رلوگ ان پر آوازیں بھی اٹھاتے ہیں مگر اسی نظام کے اندر رہ کر ہی لوگ مسائل کا حل بھی تلاش کرتے ہیں ۔کیونکہ یہ نظام بنیادی طور پر براہ راست لوگوں کو حق دیتا ہے کہ وہ اپنی مرضی او رمنشا کے مطابق اپنے سیاسی نظام سے جڑے افراد کا خود اپنے ووٹ سے انتخاب کریں ۔

فاٹا کے قبائلی علاقہ جات کو قومی سیاسی دھارے میں لانے کے لیے کئی دہائیوں سے آوازیں اٹھ رہی تھیں اور سب اس نکتہ پر زور دیتے تھے کہ ان علاقوں کو قومی سیاسی دھارے کا حصہ بنایا جائے ۔ بنیادی نکتہ یہ تھا کہ اس تاثر کی نفی کی جائے کہ قبائل کے مقامی لوگوں کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں او ران کے فیصلے مقامی انتظامیہ او رجرگہ کے ماتحت ہونگے اور ان کو چیلنج کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوگا ۔فاٹا سے خیبر پختونخواہ کا سفر فاٹا کے مقامی قبائلی لوگوں کا ایک بڑا سفر ہے او راس سفر میں ان کو بے پناہ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔بہت سے لوگوں کو یہ خوف تھا کہ کیا ان قبائلی علاقوں میں پرامن انتخاب ممکن ہوسکیں گے ۔ بالخصوص وہ علاقے جو دہشت گردی کی لپیٹ میں رہے ہیں وہاں پرامن طور پر انتخاب کا عمل کوئی آسان مرحلہ نہ تھا ۔لیکن یہاں انتظامیہ سمیت فوج کا مثالی کردار تھا او رفوج نے مقامی لوگوں کے تعاون سے جو پرامن انتخابی عمل کو یقینی بنایا وہ بڑا سیاسی معرکہ ہے ۔

فاٹا سے جڑی براہ راست16صوبائی نشستوں پر تین سو سے زیادہ امیدواروں نے حصہ لیا جس میں تقریبا 90کے قریب سیاسی جماعتوں کے امیدوار تھے ، جبکہ باقی آزاد امیدوار تھے ۔ ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی اور جے یو آئی مولانا فضل الرحمن گروپ نے حصہ لیا ۔مرد ووٹرز کی تعداد 16لاکھ 71ہزار305ہے ، جبکہ عورتو ں کے ووٹوں کی تعداد 11لاکھ 30ہزار529ہے ۔فاٹا کی 16صوبائی نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوئے جبکہ پانچ مخصوص نشستیں بھی ہیں جن میں چار خواتین او رایک اقلیت کی ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان حالیہ انتخاب میں مقامی عورتوں نے بھی بڑی پرجوش ہوکر انتخابی عمل میں حصہ لیا او راپنا ووٹ ڈالا جو خود ایک بڑی سیاسی کامیابی ہے ۔ کیونکہ یہ تاثر کہ وہاں کے مقامی قبائل مقامی عورتوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے ، اس کی موثر نفی کی گئی ہے جو نئے امید کے پہلووں کو اجاگر کرتا ہے ۔

اس بات سے قطع نظر نہ اس انتخابی معرکہ میں کون سی جماعت جیتی اور کون ہارا ۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ علاقہ اب قومی سیاسی دھارے کا حصہ بنا ہے اور ایک قبائلی نظام سے سیاسی او رجمہوری نظام کی طرف پیش رفت ممکن ہوسکی ہے ۔یہ سیاسی او رجمہوری عمل اگر تسلسل سے چلتا رہا اور لوگوں کو سیاسی او رجمہوری مواقع ملتے رہے تو یہاں سیاسی نظام موثر او رمضبوط بن سکتا ہے ۔اس سیاسی او رجمہوری نظام کی کامیابی کی کنجی عملا اب نئی نوجوان نسل کے کندھوں پر ہے کہ وہ اس نظام کو اپنی شمولیت سے کیسے موثر اور شفاف بنا کر مقامی ترقی کی حقیقی بحث کو آگے بڑھاتے ہیں ۔ان انتخابات میں زیادہ نشستیں آزاد او رحکمران جماعت تحریک انصاف نے جیتی ہیں ، جبکہ جے یو آئی ، جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔

اس صوبائی انتخابات کے بعد اگلا سیاسی معرکہ مقامی حکومتوں کے انتخاب کا ہوگا ۔ یہ وہ مرحلہ ہوگا جہاں نوجوان نسل کو زیادہ سیاسی نمائندگی کا موقع مل سکتا ہے اور وہ مقامی نظام میں اپنی موثر شمولیت کی مدد سے اپنی مرضی کے نظام کو آگے بڑھاسکتے ہیں ۔اگر ان مقامی انتخابات کو عملا جماعتی بنیادوں پر کروایا گیا تو اس سے مقامی سطح پر سیاسی جماعتیں اور سیاسی نظام بھی مضبوط ہوگا اور سیاسی جماعتوں کا دائرہ کار ان علاقوں میں موثر کردار ادا کرے گا ۔سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ابھی سے مقامی حکومتوں کے انتخابات پر زور دیں اور اس عمل میں حصہ لے کر اس علاقہ کی محرومی کی سیاست کے خاتمہ میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں ۔کیونکہ وہاں کے مقامی لوگوں کا اب نئے سیاسی نظام اور سیاسی جماعتوں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں ۔ ان کے بقول جو کام محرومی کی سیاست کے خاتمہ میں ماضی کے نظام میں نہیں ہوسکا او ریہ کام اب اس نئے نظام میں ممکن ہوگا ۔اب اس نئے سیاسی نظام کے تحت قبائل کے لوگوں کی توجہ کا مرکز جہاں اسلام آباد ہو گا وہیں ان کا دارلخالفہ پشاور بھی مرکزی حیثیت حاصل کرے گا۔

اس نظام کی کامیابی کی ایک کنجی ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے ۔کیونکہ اگر ان قبائلی علاقہ جات میں سیاسی او رجمہوری سرگرمیو ں کو فوقیت دی جائے گی تو اس کا براہ راست اثر دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے میں ایک بڑی کامیابی کی صورت میں سانے آئے گا ۔ کیونکہ سیاسی ، سماجی او رمعاشی محرومی سوائے انتہا پسندی کے کچھ نہےں پیدا کرتی او راس کا عملی نتیجہ دہشت گردی کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔

اصل اور بڑا چیلنج ان علاقوں کی سیاسی ، سماجی ، معاشی اور انتظامی ترقی کا عمل ہے ۔ یہ کام محض صوبائی انتخابات کے انعقاد سے ممکن نہیں ہوگا بلکہ یہ انتخاب مقامی ترقی کے لیے ایک سیڑھی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس نظام کی باقی سیڑھیاں بھی ہیں او ران پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت وہاں کے اب جو لوگ منتخب ہوئے ہیں ان کا کردار بڑھ جاتا ہے ۔ سیاست او رجمہوریت کی کامیابی کا عمل اصلاحات سے جڑا ہوتا ہے اور اب ان علاقوں کے لیے بنیادی سہولیات اور ترقی کے تناظر میں ایک بڑی اصلاحات اور وسائل درکار ہیں او راس پر اب حکمران طبقہ کی بڑی توجہ ہونی چاہیے ۔یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم نے بطور ریاست دہشت گردی سے نمٹنے کی جو کوششیں کی ہیں اس کے بہتر نتائج ملے ہیں او ر اب ان نتائج کو بنیاد بنا کر مقامی لوگوں کو قومی ترقی کے دھارے میں لانا ہوگا ۔کیونکہ سیاسی، معاشی او رسماجی انصاف ہی کسی بھی سیاسی نظام کی کامیابی کی دلیل ہوتا ہے ۔

حکمران طبقات سمیت ریاستی اداروں کو سمجھنا ہوگا کہ ان علاقوں میں روائتی طریقوں سے تبدیلی لانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی او ر اس کے لیے ہمیں ان علاقوں کے لیے انتخابات سمیت نئے غیر معمولی اقدامات اٹھانے ہونگے ۔یہ ایک اچھا موقع ہے ان علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے میں لایا جائے او راسے کسی بھی صورت میں ضائع نہیں کیا جانا چاہیے ۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس