0
1
0
مکالمہ:سلمان عابد

عملی طور پر ایسا ہی لگتا ہے کہ جیسے مسلم لیگ ن کی سیاست پر مریم نواز کی سیاست کو غلبہ ہے ۔ اگرچہ شہباز شریف نواز شریف کی عدم موجودگی میں پارٹی کے صدر ہیں ، مگر عملا معاملات نواز شریف او رمریم نواز کے کنٹرول میں ہیں ۔شہباز شریف کو مفاہمتی سیاست کا جادوگر سمجھا جاتا ہے ، مگر تاحال ان کی سیاسی جادو نواز شریف او رمریم نواز کو کوئی بڑا سیاسی ریلیف نہیں دے سکا ۔ نواز شریف کی مشکلات کم ہونے کی بجائے تسلسل کے ساتھ بڑھ رہی ہیں ۔ وہ قانونی اور سیاسی دونوں محاذوں پر سیاسی تنہائی کا شکار ہیں او ران کی اپنی جماعت ان کی رہائی کے لیے کوئی بڑی سیاسی جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز میں مایوسی کی کیفیت بھی ہے او راس مایوسی کا ایک بڑا نتیجہ غصہ اور نفرت یا مزاحمت کی سیاست کے طور پر دیکھنے کو مل رہا ہے ۔

مریم نواز کی آخری پریس کانفرنس جس میں ان کی جانب سے ویڈیو جاری کی گئی ہے ایک دلچسپ کہانی ہے ۔ کیونکہ یہ پریس کانفرنس انہوں نے پارٹی صدر شہباز شریف ، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، خواجہ آصف او راحسن اقبا ل کے درمیان بیٹھ کر خود کی ہے اور تاثر دیا ہے کہ وہ ہی پارٹی کی حقیقی جانشین ہیں او رنواز شریف کی ان کو پوری حمایت حاصل ہے ۔یہ کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ پارٹی صدر سمیت بڑے راہنماوں کی موجودگی میں پارٹی کی ایک نائب صدر خود پریس کانفرنس کی قیادت کرے او روہ سب کچھ بولے جو وہ بولنا چاہتی ہے ۔ یہ امر بھی سب نے دیکھا کہ پریس کانفرنس کے دوران ایک چٹ مریم نواز کو شہباز شریف کی طرف سے دی گئی لیکن انہوں نے پڑھے بغیر اسے اپنے سے دور کردیا اور جو پریس کانفرنس میں بیٹھے ہوئے دیگر راہنما بشمول شہباز شریف سب کی باڈی لینگویج ظاہر کرتی تھی کہ وہ بہت زیادہ خود آسان محسوس نہیں کررہے ۔

مریم نواز کے سامنے بنیادی طور پر تین بڑے چیلنجز ہیں ۔ اول وہ ہر صورت اپنے والد کی رہائی او ران کی علاج کی غرض سے ملک سے باہر لے جانا چاہتی ہیں او راس کا اظہار وہ اور ان کی جماعت ایک سے زیادہ بار برملا کہہ چکے ہیں کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ۔ دوئم وہ سیاسی محاذ پر خود کو اپنے والد کے متبادل کے طو رپر پیش کرچکی ہیں او رچاہتی ہیں کہ پارٹی ان کو اپنا متبادل قائد تسلیم کرے ۔ سوئم وہ اپنی پارٹی پر سیاسی کنٹرول بڑھانا چاہتی ہیں او راس کی وجہ صاف ہے کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے مقابلے میں شہباز شریف بھی پارٹی پر اپنا کنٹرول چاہتے ہیں او ر مریم شہباز شریف سمیت حمزہ شہباز کا بالادست کردار دیکھنے کی خواہش مند نہیں ۔چہارم وہ سمجھتی ہیں کہ قانونی محاذ پر ان کے لیے نواز شریف کے لیے آسانیاں پیدا کرنا آسان کام نہیں ہوگا اور وہ سمجھتی ہیں کہ پس پردہ قوتوں کی مدد سے ہی وہ اپنے والد کے لیے کوئی بڑا ریلیف حاصل کرسکتی ہیں ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ مریم نواز کی مزاحمتی سیاست کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس پس منظر کو بھی سمجھا جائے کہ ان کا فوری طور پر بنیادی نکتہ اپنے والد کو سیاسی ریلیف دلوانا ہے ۔ ماضی میں یہ کام مرحومہ کلثوم نواز صاحبہ کرچکی ہیں جب جنرل مشرف کے دور میں انہوں نے نواز شریف کو ریلیف دلوانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا ۔ فرق صرف یہ ہے کہ کلثوم نواز کے کوئی بڑے سیاسی عزائم نہیں تھے وہ صرف نواز شریف کو مشکل سے نکالنا چاہتی تھیں ، جبکہ مریم نواز مشکل سے بھی نکالنا چاہتی ہیں او رخود بھی سیاسی عزائم رکھتی ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف مریم نواز نے مزاحمتی سیاست کا روپ دھارا ہوا ہے تو دوسری طرف وہ او ران کا خاندان مختلف لوگوں کی مدد سے پس پردہ مفاہمت یا کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر سیاسی ڈیل کی بھی کوشش کررہا ہے ۔ لیکن اس ڈیل میں جو سیاسی پیچیدگیاں ہیں اس نے مریم نواز کو مجبور کیا ہے کہ وہ اسٹیبلیشمنٹ اور حکومت دونوں پر دباو بڑھانے کے لیے مزاحمتی سیاسی کارڈ کا استعمال کیا جائے ۔

مریم نواز کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جو مزاحمتی کردار وہ پیش کررہی ہیں او ریہ تاثر دے رہی ہیں کہ وہ کوئی بڑ ی سیاسی او رجمہوری حکمرانی کی جنگ کو لڑنا چاہتی ہیں ، محض خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں ۔ جمہوریت او رجمہوری جدوجہد محض ایک ایسا سیاسی ہتھیار ہے جو اکثر سیاست دان اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔اس وقت کوئی سیاست جمہوریت کو مضبوط بنانے کی نہیں ہورہی بلکہ ساری لڑائی کا مقصد طاقت ور فریقین کے درمیان اپنے اپنے لیے سیاسی اختیارات کی جنگ ہے او رجنگ میں عوام کا سوائے استحصال کے کچھ نہیں ہوگا ۔مریم نواز یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں اگر وہ واقعی یہ لڑائی لڑنا چاہتی ہیں تو ان کی جماعت کہاں کھڑی ہے اور اگر وہ سمجھتی ہیں کہ آسانی سے شہباز شریف او ران کے قریبی ساتھی ان کی مزاحمتی سیاست کے سامنے سرنڈر کردیں گے تو وہ غلطی پر ہیں ۔مریم نواز جس انداز میں اپنی لڑائی پیش کررہی ہیں اور اس لڑائی میں اپنے سیاسی مخالف عمران خان سمیت اداروں کو شامل کررہی ہیں اس سے ان کی حیثیت او رزیادہ متنازعہ ہوگی او رپارٹی میں موجود لوگ اس لڑائی میں کودنے کے لیے تیار نہیں ۔ یہ جو فاورڈ بلاک کی باتیں سامنے آرہی ہیں اس بحران کو بھی اسی مزاحمتی کارڈ کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ مسلم لیگ ن کا مجموعی مزاج مزاحمتی سیاست کا نہیں ہے او رنہ ہی عوامی سطح پر مسلم لیگ کا ووٹر مزاحمت پر مبنی سیاست کی کوئی بڑی طاقت رکھتا ہے ۔

شہباز شریف پہلے بھی کھل کر اپنی سیاست کے لیے سامنے نہیں آئے اور وہ ایک مفاہمتی انداز میں ہی پارٹی یا خاندان کے اندر موجود تقسیم پر اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔ لیکن اس کردار نے عملی طو رپر پارٹی کو دو مختلف بیانیوں میں تقسیم کردیا ہے او راب ایک بیانیہ کی قیادت مریم نواز کے پاس ہے تو دوسرے بیانیہ کی قیادت خود شہباز شریف کررہے ہیں ۔ ایک لڑائی مریم نواز او رحمزہ شہباز کے درمیان بھی ہے ۔ دونوں فریق اپنا اپنا سیاسی کنٹرول بھی چاہتے ہیں ۔حمزہ شہباز خود کو پنجاب کی سیاست میں اپنے والد کا متبادل سمجھتے ہیں او ران کو لگتا ہے کہ مریم کے سیاسی عزائم ان سے کافی مختلف ہیں ۔مریم نواز یہ جو سوچ رہی ہیں کہ اگر ان کے والد پاکستان سے باہر چلے جاتے ہیں اور وہ خود کو باآسانی یہاں ان کا متبادل بن سکتی ہیں ، یہ بھی کوئی آسان چیلنج نہیں ، کیونکہ مریم نواز کو پہلے پارٹی کے اندر مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا اور دوسرا ان کے لیے سیاسی اور قانونی مشکلات ختم نہیں بلکہ او ربڑھیں گی ۔ حالیہ نیب کی طلبی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جائے ۔

مریم نواز کی ایک خوش فہمی یہ بھی ہے کہ وہ یہ لڑائی پیپلز پارٹی کی مدد سے لڑیں گی ۔ حالانکہ پیپلز پارٹی زیادہ سمجھ دار اور سیاسی پیچیدگیوں کو سمجھتی ہے او راپنے کارڈ مریم نواز کی سیاست کی بجائے اپنے ذاتی مفاد کو سامنے رکھ کر کرے گی ۔ پیپلز پارٹی بھی پس پردہ اسٹیبلیشمنٹ کی مدد سے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر معاملات طے کرنا چاہتی ہے او راگر کچھ طے ہوا تو مسلم لیگ ن او ربالخصوص مریم نواز کو سیاسی تنہائی کے اور کچھ نہیں ملے گا ۔یہ جو احتساب کا سیاسی ریلا ہے اس میں ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے ۔ یہ عمل چلنا ہے او راس میں بہت سے سیاسی لوگوں کی پکڑ ہونی ہے او راسی بیچ بچاو کی سیاست میں کوئی بھی بڑی جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں ہوگا ۔مریم نواز بنیادی طور پر جلدی میں ہیں او رجلدی میں وہ یہ بھول رہی ہیں کہ ٹکراو کی سیاست ان کے حق میں ہوگی ، حالانکہ ایسا ممکن نہیں ۔

یقینی طور پر مریم نواز میں لیڈر بننے کی صلاحیت ہے ۔لیکن جو بھی ان کے سیاسی مشیر یا وہ خود جارحانہ انداز میں خود کو متنازعہ بنا کر ضائع کررہی ہیں وہ ان کو کچھ نہیں دے سکے گا۔ایک بات طے ہے کہ وہ اب قانونی محاذ پر کوئی لڑائی لڑنے کے لیے تیار نہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس کی بجائے سیاسی میدان میں لڑائی لڑی جائے او رلوگوں کو قائل کیا جائے کہ ان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے او ریہ حالیہ پریس کانفرنس بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ قانونی جنگ کے مقابلے میں سیاسی میدان میں ماحول کو گرم کرکے کچھ لو او ر کچھ دو کی سیاست کرنا چاہتی ہیں تاکہ ان پر اور ان کے والد پر جو مشکلات ہیں ا س کو کم کیا جاسکے

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس