0
1
0
مکالمہ:سلمان عابد

پاکستان افغانستان تعلقات کی بہتری سمیت خطہ کی سیاست میں امن ، ترقی اور خوشحالی کے ایجنڈے کی تقویت کے لیے افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کا دورہ پاکستان خصوصی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس دورے کی ٹائمنگ بھی اہم ۔کیونکہ اس وقت افغانستان کے تناظر میں پوری دنیا کی نظریں افغان حکومت، افغان طالبان او رامریکہ کے درمیان جاری مزاکرات کے نتیجہ خیز ہونے پر ہے ۔ پاکستان کا کردار امریکہ ، افغان حکومت او رطالبان کے درمیان ایک بڑی سیاسی ثالثی کا ہے اور سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے موثر اور فعال کردار کے بغیر افغان مسئلہ کا حل کی تلاش ممکن نہیں ۔ ماضی میں بڑی طاقتوں نے پاکستان کو نظر انداز کرکے افغانستان کا حل تلاش کرنے کی جو کوشش کی تھی وہ ناکامی سے دوچار ہوئی او راس کے بعد امریکہ سمیت دیگر طاقتوں کو بھی اس بات کا اندازہ ہے کہ پاکستان کی حمایت اور عملی تعاون کے بغیر کچھ ممکن نہیں ہوگا۔

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل ذاد افغان مسئلہ کے حل میں بہت زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں ۔افغانستان ، قطر ، پاکستان سمیت دیگر ممالک میں وہ بلواسطہ یا بلاواسطہ اسی مشن پر کام کررہے ہیں کہ افغان مسئلہ کا ایسا حل سامنے آئے جو سب فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔ زلمے خلیل ذاد کا بہت زیادہ انحصار پاکستان پر ہے ۔کیونکہ افغان حکومت کے ساتھ حالیہ دنوں میں ان کے تعلقات کافی پیچیدہ ہیں اور ان کو افغان حکومت کے ساتھ افغان طالبان کی شرائط پر مزاحمت کا سامنا بھی ہے ۔ زلمے خلیل ذاد سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا افغان طالبان پر بہت زیادہ اثر ہے اور وہ طالبان کو ہر شرائط پر راضی کرسکتے ہیں ۔جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ ہم نے سب فریقین کو ایک میز پر بٹھادیا ہے او رطالبان کے بارے میں اس سوچ اور فکر سے باہر نکلیں کہ وہ ہمارے لیے پتلی تماشہ ہیں او رجیسے ہم کہیں گے وہ سرجھکا کر ہمارا فیصلہ تسلیم کرلیں گے ۔ پاکستان کے بقول ہمیں افغان طالبان کی حیثیت کو قبول کرنا ہوگا ۔کیونکہ افغان طالبان کووہ تمام شرائط قبول نہیں جو افغان حکومت ان پر مسلط کرنا چاہتی ہے ۔

امریکی نمائندہ زلمے خلیل کے بقول افغانستان کا جو بھی حل نکلے گا وہ محض امریکہ ، افغان حکومت او رطالبان تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس مسئلہ کے حل میں ایک اور ماہدہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان ہوگا جس کا مقصدپاکستان میں افغانستان کا تعمیری کردار ہوگا ۔کیونکہ پاکستان کی موثر اور فعال کردار کے بغیر افغان امن ممکن نہیں ہوگا۔لیکن زلمے خلیل ذاد کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جس طرح افغانستان کا حل براہ راست عملا پاکستان کی داخلی سلامتی سے جڑا ہوا ہے ، اسی طرح پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور اعتماد سازی کے بغیر بھی پاک افغان حل کا کوئی بڑا مثبت نتیجہ نہیں نکل سکے گا۔کیونکہ افغان او ربھارت انٹیلی جنس ایجنسی سمیت بھارت او رافغانستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی بھی طور پر پاک افغان مسئلہ کے حل کے حامی نہیں ۔

افغانستان کے حل میں ایک بڑا چیلنج افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان بداعتمادی کی فضا ہے ۔ طالبان سمجھتے ہیں کہ ایسے موقع پر جب ان کی اہمیت زیادہ ہے تو وہ افغان حکومت پر بہت زیادہ انحصار کرنے کی بجائے براہ راست معاملات امریکہ سے کریں جو خاص طور پر ان کے مفاد میں ہو۔کیونکہ طالبان کے بقول افغان حکومت کی کوئی حیثیت نہیں اوریہ امریکی مدد سے بیٹھے ہوئے ہیں او راصل حیثیت اس وقت امریکہ کی ہی ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ افغان طالبان بھی مسئلہ کا حل چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ کوئی ایسا حل نکلے جو ان کے مفاد میں ہو ۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان مزاکرات کا اگلہ مرحلہ دوحہ میں شروع ہوچکا ہے او رامریکہ سمیت فریقین کو یقین ہے کہ کہ مسئلہ کا حل نکلے گا۔ مگر یہ بات امریکہ بھی سمجھتا ہے کہ مزاکرات کا نتیجہ خیز ہونا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے او رجو بھی فارمولہ طے ہوگا اس پر عملدرآمد کا ہونا بھی خود فریقین کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا ۔امریکہ ہر صورت جو مزاکرات کی میز سجائے بیٹھا ہے وہ اس کی مدد سے نتیجہ چاہتا ہے لیکن اصل مسئلہ بداعتمادی کی وہ فضا ہے جو پہلے سے موجود ہے او رفریقین آسانی سے ایک دوسرے پر اعتبار کے لیے تیار نہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ بعض سیاسی پنڈتوں کے بقول افغان حل اتنا سادہ نہیںجتنا بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں ۔بداعتمادی کو اعتماد سازی میں بدلنے کے لیے ابھی بہت سے موثر اقدامات کی ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا سازگار ماحول جو مزاکرات کے عمل کو بھی جاری رکھے اور اس عمل کے نتیجے میں کوئی مفاہمتی عملی شکل سامنے آئے جو مسئلہ کے حل میں پیش قدمی کرسکے ۔

پچھلے دنوں سنٹر فار پیس اینڈ ریسرچ لاہور کے تعاون سے مری بھوربن میں پاک افغان تعلقات میں بہتری کے تناظر میں ایک بڑی میز کو سجایا گیا ۔ اس تقریب کے اصل روح رواں سابق سیکرٹری خارجہ اور معروف بین الااقوامی امور کے ماہر دانشور شمشاد احمد خان تھے جو ملک کے سیاسی ، علمی او رفکری حلقوںمیں ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس کانفرنس میں افغانستان کی 18ممتاز شخصیات سمیت 57مندوبین شامل تھے۔ افغانستان سے جو لوگ آئے ان میں گلبدین حکمت یار، کریم خلیلی، عطا نور محمد ،فوزیہ کوفی ، محمد محقق، محمد یونس قانونی ، اسماعیل خان او رحنیف اتمار نمایاں تھے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں شریک بیشتر شرکا پاک افغان تعلقات کی بہتری میں پاکستان کے کردار پر تحفظات رکھتے تھے او ران میں سے بیشتر کا تعلق غیر پشتون سے تھا ۔لیکن گلبدین حکمت یار سمیت بہت سے لوگوں نے اس کانفرنس میں یہ اعتراف کیا کہ افغانستان میں جاری کشیدگی کے خاتمہ کے لیے پاکستان کا کردار اہم ہے اور وہ بہت آگے جاکر معاملات کو درست کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔گلبدین حکمت یار نے کہا کہ نہ صرف ہم بلکہ امریکہ بھی پاکستان کے کردار کی نہ صرف تعریف کررہا ہے بلکہ اس کا حد سے زیادہ انحصار بھی پاکستان پر ہی ہے ۔

سابق سیکرٹری خارجہ او رکانفرنس کے روح رواں شمشاد احمد خان کے بقول ان کی کوشش تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح پاکستان او رافغانستان کے درمیان امن کے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں ۔ اگرچہ یہ کام دونوں حکومتوں نے کرنا ہے لیکن ہماری کوشش ہے کہ ہم پاک افغان تناظر میں خطہ سمیت ملک میں ایک ایسے کلچر کو فروغ دیں جو تمام فریقین کے درمیان مکالمہ کے کلچر کو فروغ دیں ۔کیونکہ ابھی بھی دونوں اطراف میں ایک دوسرے کے بارے میں بہت زیادہ بداعتمادی پائی جاتی ہے او راس مسئلہ کا حل مزاکرات او رمکالمہ سے ہی جڑا ہوا ہے ۔شمشاد احمدکے بقول اس حالیہ کانفرنس میں پاکستان او رافغانستان کے لوگوں نے جو واضح او رشفاف پیغام دیا ہے وہ دونوں ممالک میں تعلقات کی بہتری سے جڑا ہوا ہے ۔یہ کام ریاستی اور حکومتی سمیت سول سوسائٹی یا تھنک ٹینک کی سطح پر بھی بھی ہونا چاہیے او رخاص طور پر میڈیا کا اہم کردار ہے کہ وہ معاملات کے حل میں اپنا موثر او رمثبت کردار پیش کرے ۔

بنیادی طور پر پاک افغان مسئلہ کا حل دو باتوں سے جڑا ہوا ہے ۔ اول ریاستی و حکومتی سطح پر دو طرف بات چیت او رمزاکرات سمیت عملی طو رپر ایسے اقدامات کو فروغ دینا جو مثبت ہوں ۔ دوئم سول سوسائٹی ، میڈیا ، پارلیمنٹرین او رسیاسی جماعتوں سمیت مختلف تھنک ٹینک اور دانشوروں کی سطح پر دو طرف بات چیت اور باہمی رابطوں کا فروغ درکار ہے ۔ کیونکہ بدقسمتی سے بھارت کا عمومی رویہ او رخاص طو رپر اس کے میڈیا کا جارحانہ اور سخت گیر مزاج تعلقا ت میں اعتماد سازی کی بحالی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔دونوں ممالک براہ راست دہشت گردی کا شکار ہیں او ر ان کے درمیان مشترکہ انسداد دہشت گردی میکنزئم کی تشکیل او رتعاون کے بغیر کچھ ممکن نہیں ہوگا ۔الزامات دونوں اطراف سے موجود ہیں اور اس کا حل سیاسی الزام تراشی یا ایک دوسرے کے لیے دروازے بند کرنا نہیں بلکہ مزاکرات اور راستے کھولنے سے جڑا ہوا ہے اور یہ ہی حکمت عملی ہمیںدرکار ہے ۔

پاکستان او رافغانستان کے حالیہ مزاکراتی عمل میں افغان صدر کا دورہ پاکستان اہمیت کا حامل ہے ۔ دونوں اطراف کی سیاسی او رعسکری سطح پر موجود قیاد ت کو سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ کا حل مزاکرات سے جڑا ہے او رافغان طالبان سمیت افغان حکومت کے درمیان معاملات کا طے ہونا ہی افغان امن لیے کنجی کی حیثیت رکھتا ہے ۔افغان صدر کو یہ کہہ کر کہ پاکستان کی پالیسی افغان مداخلت سے جڑی ہے درست حکمت عملی نہیں ۔ کیونکہ مسئلہ افغانستان کا ہی نہیں خود پاکستان کی داخلی سلامتی کا ہے جو افغان حل سے جڑا ہوا ہے ۔ اس لیے پاکستان اس مسئلہ کا پرامن حل چاہتا ہے او رافغان فریقین اس مسئلہ میں پاکستان کے ساتھ مل کر خطہ کی سیاست میں ایک بڑا مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں ۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس