0
1
0
فکرمحمود : سید محمود شیرازی


کرکٹ ورلڈکپ اس وقت انگلینڈ میں جاری ہے جہاں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی سمندر میں مدو جزر کی طرح ہے کبھی یہ نیچے جاتے ہیں تو کبھی اوپر آتے ہیں ایسے میں لگتا ہے کہ شاید ان کا ٹورنامنٹ میں سفر اختتام پذیر ہو گیا ہے لیکن 1992 کے کرکٹ ورلڈکپ کی طرز پر کھیلا جانے والا یہ آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ اب تک قومی کرکٹ ٹیم کیلئے ویسا ہی ثابت ہو رہا ہے اور اب تک پاکستان نے سات میچوں میں سات پوائنٹس حاصل کر لئے ہیں اور اس کے دو میچ باقی ہیں جو اس نے ہمسائیہ ملک افغانستان اور سابق مشرقی بازو بنگلہ دیش سے کھیلنے ہیں۔ بنگلہ دیش کے بھی سات میچوں میں سات پوائنٹس ہیں لیکن وہ بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر پاکستان سے آگے ہے۔ دوسری جانب پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے کیلئے انگلینڈ کی ہار کی دعا بھی کرنا ہے کیوں کہ انگلینڈ کی ٹیم بھی اس وقت سات میچوں میں آٹھ پوائنٹس کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے اگر انگلینڈ اپنے بقیہ میچ ہارتی ہے اور بنگلہ دیش اور سری لنکا کی ٹیمیں بھی اپنے اگلے میچوں میں ناکام ہوتی ہیں تو پاکستان اپنے دونوں میچ جیت کر سیمی فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

 یہ اگر مگر چوں کہ چناچہ کا کھیل کب کس کروٹ پلٹے گا کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا کیوں کہ بقول رکی پونٹنگ پاکستان دنیا کی کسی بھی ٹیم کو کسی بھی وقت ہرا سکتی ہے اور پاکستان جب چاہے دنیا کی کسی بھی ٹیم سے ہار بھی سکتا ہے  اس لئے پاکستان کا مقابلہ حریف ٹیموں سے نہیں پاکستان کا مقابلہ پاکستان سے ہی ہوتا ہے۔ہماری دعا ہے کہ پاکستان ایک اور ورلڈکپ وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں حاصل کرے۔دوسری جانب پاکستان میں سیاسی کرکٹ بھی جاری ہے کبھی عمران خان الیون کے مقابلے میں ن لیگ اپنی ٹیم کو اتارتی ہے کبھی پیپلز پارٹی اپنی الیون سے عمران خان الیون کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اب اقتدار کے اس کھیل سے باہر اہم کھلاڑی مولانا فضل الرحمن نے تمام ٹیموں کے کھلاڑیوں کو ایک ہی ٹیم میں شامل کر لیا ہے یعنی اپوزیشن الیون کا مقابلہ اب عمران خان الیون سے ہے۔ 

اپوزیشن نے اپنی پلیئنگ الیون کا علان کر دیا ہے لیکن پچ اپوزیشن الیون کیلئے سازگار نہیں دکھائی دیتی کیوں کہ پچ پر اسٹیبلشمنٹ نامی گھاس موجود ہے جو اپوزیشن کے بلے بازوں کیلئے غیر متوقع صورتحال ہے اور اس سے حکومتی باؤلرز کو فائدہ ہوگا کیوں کہ یہ گھاس ان کیلئے رحمت ثابت ہو رہی ہے اور حکومت کے بلے بازوں کی ناقص کارکردگی کے باجود یہ اسٹیبلشمنٹ کی یہ گھاس انہیں اب تک حریف ٹیم سے بچائے ہوئے ہے کیوں کہ یہ اسی طرح کی وکٹوں پر کھیلنے کے عادی بھی ہیں۔ اپوزیشن چاہتی ہے کہ چیئرمین سینیٹ کی اہم وکٹ حاصل کر کے حکومتی ٹیم کو دھچکا پہنچائے اور اس کیلئے اپنے بہترین باؤلرز بھی میدان میں اتار رہی ہے لیکن چیئرمین سینیٹ نامی بیٹسمین کیوں کہ گھاس والی پچ پر کھیل کر ہی ایک منجھے ہوئے بیٹسمین ثابت ہوئے ہیں اوپر سے انہیں اسٹیبلشمنٹ کی وکٹ پر کھیلنے کا تجربہ حاصل ہے اس لئے اس اہم وکٹ کو حاصل کرنا اپوزیشن کے باؤلرز کیلئے کڑا امتحان ہو گا۔ دوسری جانب اپوزیشن کے اہم بیٹسمین نوازشریف میدان سے ان فٹ ہو کر باہر ہیں، اس کے علاوہ زرداری جیسے منجھے ہوئے بیٹسمین بھی اس وقت کیریئر کے آخری مراحل پر ہیں اور حریف باؤلرز کیلئے ترنوالہ ثابت ہو رہے ہیں ان کی بیٹنگ میں اب وہ دلکشی نہیں رہی جو کسی زمانے میں وہ حریف باؤلرز کے چھکے چھڑایا کرتے تھے۔ میدان سے باہر بیٹھے مولانا فضل الرحمن اس وقت اپوزیشن کی ٹیم کیلئے کوچ کا کردار ادا کر رہے ہیں کیوں کہ اپوزیشن جس بے دلی سے حکومت کے خلاف میچ کھیل رہی ہے اس سے حکومت کی اننگز کا جلد خاتمہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا لیکن کوچ فضل الرحمن اپوزیشن کے بلے بازوں اور باؤلرز کی اس وقت دلجمعی سے کوچنگ کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح حکومتی اننگز کا خاتمہ کر دیا جائے اور اپوزیشن کو حکومتی کی وکٹ پر بیٹنگ کا موقع مل سکے۔ 

لیکن حکومتی وکٹ حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہے کیوں کہ حکومت کو اگرچہ وکٹ پر جمنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں لیکن ابھی ان کی باری کے پورے چار سال باقی ہیں اتنی جلدی حکومت کا آؤٹ ہو جانا ممکن نہیں دکھائی دے رہا ہاں حکومت کے کچھ شارٹس غیر معیاری ہیں جس پر اپوزیشن نے بروقت کیچ کر کے انہیں مشکلات میں ضرور ڈال دیا ہے لیکن ابھی بھی حکومت کے پاس ایسے بیٹسمین اور باؤلرز موجود ہیں جو کسی بھی وقت بازی پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں اسٹیبلشمنٹ کی وکٹ پر کھیلنے میں مہات حاصل ہے۔حکومت نے اپوزیشن کے سٹرائیک باؤلرز کیخلاف جو بال ٹمپرنگ کے الزمات عائد کئے ہیں اس نے اپوزیشن کو کافی مشکل میں ڈال دیا ہے اور اپوزیشن چاہتی ہے کہ کسی طرح اس بال ٹیمپرنگ کے الزامات سے ان کی جان چھوٹ جائے اور وہ کھل کر باؤلنگ کرنے کے قابل ہو سکیں۔ مولانا فضل الرحمن بھی اسلام آباد کی پچ پر ٹیسٹ میچ کھیلنے کا اعلان کر چکے ہیں اگر وہ اپنی ٹیم میں جب تک اپوزیشن کے مستند بلے بازوں اور باؤلرز کو شامل نہیں کریں گے ان کیلئے یہ ٹیسٹ میچ جیتنا آسان نہیں ہو گا۔حکومت نے اگر معاشی باؤنسرز کا ڈٹ کر مقابلہ کر لیا اور اس کے بلے باز ان باؤنسرز کو اچھے طریقے سے پل شاٹ لگانے میں کامیاب ہو گئے تو پھر جوں جوں وقت گزرتا جائے گا حکومت کیلئے یہ پچ اتنی آسان ہوتی جائے گی اگر حکومت ان باؤنسرز سے بچنے میں ناکام رہی اس کے بیٹسمین پل کھیلنے کے چکر میں  معاشی باؤنسر  سے سر زخمی کراتے رہے تو پھر اپوزیشن کے سپن باؤلرز بھی ان کیلئے کڑا امتحان ثابت ہوں گے اور ان کیلئے اگلے چار برس وکٹ پر پورے کرنا ناممکن ہو جائے گا اور فضل الرحمن کی کوچنگ میں اپوزیشن الیون کیلئے میچ جیتنا کچھ مشکل نہیں ہو گا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس