0
1
0
مکالمہ :سلمان عابد

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بدترین جمہوریت اور کمزور حکمرانی کا علاج بھی صرف اور صرف جمہوریت ہی ہے ۔ لیکن جب جمہوریت پر زور دیا جاتا ہے تو اس سے مراد بہتر اور حقیقی جمہوریت کے تقاضے ہوتے ہیں ۔یہ بات بجا کہ جمہوری تجربے کا تسلسل ہی جمہوری اقدار اور طرز عمل کو تقویت دیتا ہے ۔لیکن جمہوری سفر میں آنکھیں بند کرکے اس پر اندھا اعتماد کرنے کی بجائے جمہوریت سے وابستہ افراد او راداروں کو اپنی آنکھیں کھلی رکھنی پڑتی ہیں ۔ کیونکہ جو جمہوریت کا عمل چل رہا ہے یا چلایا جارہا ہے وہ جمہوریت کی حقیقی تصویر نہیں اور ہمارے جیسے سماج میں جمہوریت او رقانون کی حکمرانی طاقت ور طبقات کے لیے ایک مضبوط سیاسی ہتھیار ہے ۔وہ اسی جمہوریت کو ہتھیار بنا کر اپنی ذاتی اور مفاد پر مبنی سیاست کو تقویت دیتے ہیں ۔

ایک مضبوط او رمربوط معاشرہ سیاسی تنہائی میں پروان نہیں چڑھتا ۔ اس میں ریاست او رحکمرانی سمیت معاشرے کے تمام فریقین کو باہمی اتفاق رائے کی مدد سے شفافیت پر مبنی نظام قائم کرنا ہوتا ہے ۔ لیکن ایک سماج جو بکھرتا ہوا سماج ہو او رجہاں سماج کو جوڑنے کے بجائے تقسیم کرنے کے کھیل کو بنیاد بنایا جائے گا تو وہاں مربوط معاشرے کی بحث کمزور ہوجاتی ہے ۔کیا معاشرے کسی سیاسی تماشہ کی بنیاد پر پروان چڑھ سکتے ہیں تو جواب نفی میں ہوگا ۔ ریاستی ، حکمرانی، انتظامی ، قانونی او رمعاشی اداروں کا جو سیاسی چال چلن ہے وہ ایک بڑے سیاسی تماشہ کے گرد گھومتا ہے ۔ اس تماشہ کا بنیادی مقصد لوگوں کو سیاسی او رسماجی طو رپر گمراہ کرنا اور اداروں کی بجائے افراد کو طاقت ور بنانا ہوتا ہے ۔جبکہ مضبوط معاشرے کی بنیاد کمزور طبقات کے مفاد میں سماج کے تمام ریاستی اور غیر ریاستی اداروں او رافراد کا ان کی حمایت او رمدد میں کھڑا ہونا ہوتا ہے ، یہ ہی منصفانہ معاشرے کا حسن ہوتا ہے ۔

کیا ریاست کو کمزور کرکے ہم ایک مربوط معاشرے کی طرف پیش قدمی کرسکتے ہیں ؟کیونکہ یہ جو ہم اپنے طرز عمل سے خود ریاستی اداروں کو کمزو رکرنے یا ریاستی اداروں سے وابستہ افراد خود ریاستی عمل کو کمزو رکرنے کے کھیل کا حصہ بن جائے تو ریاست کا کمزور ہونا ایک فطری امر بن جاتا ہے ۔مسئلہ کسی ایک فریق پر الزام تراشی کا نہیں بلکہ یہاں تمام فریقین ذمہ دار ہیں کہ وہ ریاست کو کمزور کرنے کے کھیل کا حصہ بنے ہوئے ہیں ۔ ریاست کی مضبوطی کا بڑا تعلق افراد کی مضبوطی سے ہوتا ہے ۔ یعنی ریاست او ر عوام کا مثبت باہمی تعلق ہی بنیاد بنتا ہے کہ ہم ایک مضبوط معاشرے کی طرف پیش قدمی کرسکیں ۔لیکن یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ ہمارا ریاستی او رحکمرانی کا نظام غیر منصفانہ اور غیر شفاف ہے جو عملا ریاست اور عوام کے درمیان خلیج یا بداعتمادی کو قائم کرتا ہے ۔

ریاستی امر کی بڑی کامیابی کی کنجی عوام کی طاقت ہوتی ہے ۔ یہ طاقت بنیادی طور پر 1973کے دستور میں دیے گئے پہلے بنیادی حقوق سے جڑے باب میں موجود ہیں۔ریاست عام آدمی کے بنیادی حقوق جو زندہ رہنے کے لیے ان کا حق سمجھا جاتا ہے جن میں تعلیم ، صحت، علاج ، روزگار، تحفظ، انصاف، اظہار آزادی ، نقل و حمل جیسے امور شامل ہیں ۔لیکن یہ کہنا بجا ہے کہ یہاں جو سیاسی ، سماجی ، معاشی ، انتظامی اور قانونی تفریق کے پہلو ہیں وہ کافی نمایاں او رگہرے ہیں ۔ایک طبقاتی بنیاد پر چلنے والا معاشرہ عملی طو رپر سماج کی حکمرانی کے مقابلے میں خاص طبقہ یعنی طاقت ور طبقات کی حکمرانی کے گرد گھومتا ہے ۔ایسے سماج میں عام آدمی کا مختلف حوالوں سے استحصا ل زیادہ ہوتا ہے او ریہ فرق ہمیں اپنے ہی سماجی اعداد وشمار میں موجود تفریق کے تناظر میں دیکھنے کو ملتے ہیں ۔

ایک مضبوط اور مربوط معاشرے کی تشکیل کے بنیادی جز سیاسی و سماجی نظام ، سیاسی جماعتیں او ران کی قیادتیں ، زرائع ابلاغ یعنی میڈیا ، اہل دانش، استاد ، علمائے کرام کا انفرادی یا اجتماعی کردار سے جڑے ہوتے ہیں ۔لیکن بدقسمتی سے یہاں خارجی قوتوں نے ان اداروں کو اول تو طاقت ور نہیں بننے دیا او رجو موقع جمہوری قوتوںکو بھی ملا اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا گیا ۔اس سماج میں عملی طو رپر تبدیلی سے جڑے یہ ادارے ابتداہی سے مضبوط نہیں ہوسکے ۔ اس کی وجہ خود ان اداروں کے اپنے مفاد اور ترجیحات بھی ہیں۔ تبدیلی کے یہ ادارے کسی قانون کے تابع ہونے کی بجائے خاندان اور ذاتی دوستوں کا قبیلہ بن کرحکمرانی کے نظام کو عملا سیاسی خانوادوںکی طرح چلانا چاہتے ہیں ۔یہ بات بجا کہ اسٹیبلیشمنٹ نے بہت سے امور کو کمزور کیا ، لیکن جو کمزوری یا نالائقی و نااہلی جمہوری قوتوںنے بھی دکھائی ہے اس کو بھی ہر سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے ۔

جب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ جمہوریت ہی بہتر نظام حکومت ہے تو اس سے مراد جمہوری اصول ، قوائد و ضوابط، طرزعمل ، داخلی جمہوریت کی مضبوطی سمیت قانون کی حکمرانی کا تصور ہوتا ہے ۔ جمہوریت کوبنیادی طور پر کمزور افراد کی طاقت سمجھا جاتا ہے جس میں کمزور طبقات کا مفاد سب سے اہم ہوتا ہے ۔ اس کو جانچے کا نکتہ وسائل کی منصفانہ اور شفاف تقسیم سمیت شفافیت پر مبنی حکمرانی کا نظام ہوتا ہے جہاں سب ایک دوسرے کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں ۔سیاسی اداروں سمیت پارلیمنٹ ریاستی ، عوامی مفادات کے تابع ہوتی ہے او ران کا پورا نظام عوام کی حکمرانی سے جڑا ہوتا ہے ۔لیکن جو طرز عمل ہم نے جمہوریت کو چلانے کے لیے اختیار کیا ہوا ہے اس سے یہ سمجھنا کہ جمہوری نظام مضبوطی کی طرف بڑھ سکے گا ، ممکن نہیں ہوگا۔

یہ جو منطق پیش کی جاتی ہے کہ ہم جوابدہی یا احتساب کے نظام کو پس پشت ڈال کر جمہوری عمل کو آگے بڑھائیں خود ایک بڑا فکری مغالطہ ہے ۔ کیونکہ جمہوریت او رجوابدہی یا احتساب ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں او ران پر سختی سے عملدرآمد کیے بغیر جمہوری عمل کا خواب بے معنی ہوگا۔ایک مضبوط مزاحمت کرنی ہوگی ان بدعنوان او رکرپٹ طبقہ کے خلاف جو سیاسی ، قانونی او رانتظامی نظام کو بنیاد بنا کر کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کو مضبوط بناتے ہیں ۔لوگوں کو شخصیات کے مقابلے میں اداروں کی بالادستی پر فوقیت دینی ہوگی او راداروں کی بالادستی ہی سیاسی نظام کا حسن ہوتا ہے ۔ فوج ، عدلیہ ، انتظامیہ ، سیاست دان ، حکمران طبقہ ، پارلیمان ، سیاست ، میڈیا ، کاروباری طبقہ یہ سب کو سمجھنا ہوگا کہ ریاست کو چلانے کا موجودہ طریقہ کار سے اس سماج کی کوئی خدمت نہیں ہوسکے گی ۔ ہمیں اپنے موجودہ طرزعمل ، حکمت عملی سے جڑ ی حکمت کو خود سے چیلنج کرنا ہوگا اور ایک ایسی حکمت عملی کی طرف پیش قدمی کرنی ہوگی جو ہمیں نئے حالات او رنئے تقاضوں میں ایک جدید ریاست کی تشکیل میں مدد فراہم کرسکے ۔

لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے سے موجود روائتی اور فرسودہ حکمرانی کے نظام اور ریاستی طور طریقوں کو قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے چیلنج کریں اور عوامی رائے عامہ کو بیدار کریں کہ ہمیں ایسے معاشرے کی تشکیل نو کرنی ہے جو سب کو سماج میں یکجا کرسکے ۔اس تاثر کی نفی کرنی ہوگی کہ یہ سماج سب کا نہیں بلکہ ایک مخصوص طبقے او ران سے جڑے مفادات کا ہے ۔یہ سمجھنا ہوگا کہ جب ریاست او رحکمرانی کا نظام عام لوگوں سمیت سب کے ساتھ کھڑا ہوگا تو پھر سماج بھی ریاست کے مفاد کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑا نظر آئے گا ، وگرنہ پہلے سے موجود خلیج میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوگا۔

یہ سماج اعتدا ل پسندی ، جدیدیت کے نئے تقاضوں سمیت دنیا مےں حکمرانی کے نظام کو مربوط بنانے والے تجربات سے سیکھنے اور اس پر چل کر ہی آگے بڑھ سکتاہے ۔مرکزیت کے مقابلے میں عدم مرکزیت پر مبنی نظام ہی ہماری اولین ضرورت ہے ۔انتہا پسند رجحانات کو طاقت دینے کی بجائے ان کو کمزو رکرنا او ران کے مقابلے میں ترقی کے نئے متبادل بیانیہ کو ہی طاقت دینی ہوگی ۔اس بیانیہ میں تعلیم کو فوقیت دینی ہوگی اور پورے تعلیمی نظام کا پوسٹ مارٹم کرکے اس کی اصلاح کرنی ہوگی ۔کیونکہ تعلیمی اداروں سے اٹھنے والی متبادل بیانیہ کی جنگ ہی ہمیں آگے لے کر جاسکتی ہے ۔

ریاست کو بھی سمجھنا ہوگا کہ اظہار آزادی اور فکری بنیادوں پر کام کرنے والے افراد او راداروں کو آزاد کرکے ہی کسی نئے علم و فکر کو تلاش کیا جاسکتا ہے ۔ یہ تاثر کہ ریاست متبادل آوازوں کو دبانا چاہتی ہے درست حکمت عملی نہیں ہوگی ۔مربوط معاشرہ زندہ معاشروں کی مدد سے ہی ممکن ہوتا ہے ۔ اس لیے سماج میں موجود تبدیلی کے حقیقی کارندوں کو حقیقی تبدیلی کے لیے خود کو بھی منظم کرنا ہے اور دوسروں کو بھی ترغیب دینی ہوگی کہ وہ معاشرے کی اصلاح کے لیے آگے بڑھیں کیونکہ منصفانہ سماج کی تشکیل میں سماج کو ان کی مدد او رحمایت درکار ہے ۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس