0
1
0
فکرمحمود : سید محمود شیرازی

جب سے حضرت انسان نے کائنات پر قدم رکھا ہے تو اس کی کوشش رہی ہے کہ وہ دنیا کو اپنے زیر کرے اور کامیابی کے زینے طے کرتا جائے۔ اگر کوئی انسان کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر اپنے بعد آنے والوں کیلئے وہ ایک مثال بن جاتا ہے اور اس طرح لوگ اس کی کامیابی کی راہ پرچلنا پسند کرتے ہیں کہ شاید اس راستے پر سفر کر کے میں بھی ایک کامیاب انسان بن جاؤں اور لوگ مجھے بھی اس طرح سراہنا شروع کر دیں جس طرح اس سے قبل کامیاب لوگوں کو سراہتے ہیں یا سراہتے تھے۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی کہ لوگ کامیاب لوگوں کا راستہ ناپتے تھے اور ناکام لوگوں کی کوشش کا  تذکرہ تک کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔

 لیکن آج کل صورتحال الٹ ہو گئی ہے کہ جو لوگ کامیاب ہو جاتے ہیں اول تو وہ اپنی کامیابی کا راز کسی کو بتانا پسند نہیں کرتے یا ان کے پاس لوگوں کیلئے ٹائم نہیں ہوتا کیوں کہ وہ کامیابیوں کی برکات و فیوض سمیٹنے میں مصروف ہوتے ہیں اس لئے ان کی اپنے سے نچلے درجے کے لوگوں پر کم ہی نظر پڑتی ہے وہ کامیابی کے افق پر مزید روشن ہونے کی جستجو کرتے رہتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں جو لوگ ناکام ہو جاتے ہیں وہ لوگوں کو کامیابی کے گر بتانا شروع کر دیتے ہیں اور اپنی طرح لوگوں کو مزید ناکام کرنے کی سعی کر رہے ہوتے ہیں.

 اس کی مثال ہم یوں لے سکتے ہیں کہ جیسے پاکستان میں سول سروس کا امتحان سب سے اعلی امتحان سمجھا جاتا ہے اور اس کے بعد فوج میں جانے کیلئے سیکنڈ لیفٹیننٹ کے امتحان کو بڑی فوقیت حاصل ہے مختلف مراحل سے گزر کر بندہ فوج میں داخل ہوتا ہے اور سیکنڈ لیفٹیننٹ یا سول سروس کا امتحان پاس کر کے اعلی ملٹری افسر یا اعلی بیورو کریسی کی دنیا میں شامل ہوتا ہے۔ جو کامیاب ہو جاتے ہیں وہ مزید کامیابیوں کیلئے اپنی نوکریوں یا اپنی فیلڈ میں مزید پڑھتے ہیں محنت کرتے ہیں اور رفعتوں کو چھوتے ہیں۔ پاکستان میں کیا ہوتا ہے کہ جو ناکام ہوتا ہے وہ اکیڈمی ڈال کر بیٹھ جاتا ہے اور لوگوں کو کامیاب ہونے کے گر بتا رہا ہوتا ہے، اب جو شخص خود سول سروس یا فوج کے اعلی امتحان میں فیل ہو گیا ہے وہ دوسروں کو کیسے کامیابی کے راستے پر گامزن کر سکتا ہے لیکن لوگوں نے پیسے کمانے کے ذرائع بنا لیے ہیں اور لوگ ان کے پاس جاتے ہیں اپنی جیبیں خالی کرا کر کامیابی کے ناکام گر سیکھنے کی کوشش کر کے اپنی زندگی کو مزید ناکامیوں میں دھکیلنے کی کامیاب سعی کر رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح کی ایک اور صنعت ہوتی تھی کسی زمانے میں ناکام عاشقوں کی جو لوگوں کو عشق کے کامیاب گر بتا رہے ہوتے تھے کہ یہ عمل کریں گے تو محبوب آپ کے قدموں میں ہو گا چاہے ان کے اپنے جوتے محبوب کی گلی کے چکر لگا لگا کر  گھس گئے ہوں لیکن دوسروں کو ایک ہی نظر میں محبوب کو تابع کرنے کے گر بتا رہے ہوتے تھے۔ ان سے ملتی جلتی قسم آج کل ایک تحریکی مقرر یا انگلش میں جسے motivational speaker  کہتے ہیں ان کی مارکیٹ میں آ چکی ہے۔ ویسے یہ لوگوں کو بیوقوف بنانے کا ہنر آیا تو مغرب سے ہے جہاں ان تحریکی مقررین کی بڑی مانگ ہوتی ہے ان کا ایک ایک سیشن لاکھوں کروڑوں میں جاتا ہے اور لوگ لائنوں میں لگ کر ٹکٹیں خرید کر ان کی بات کو سننے  کیلئے جاتے ہیں کہ شاید کہ دل میں اتر جائے ان کی کوئی نصیحت جس پر عمل کر کے ہم بھی اپنا شمار کامیاب لوگوں میں کرا سکتے ہیں۔ میرے ایک نہایت مہربان دوست کامران خان ہیں جو یوں تو خود سوشل میڈیا سٹار ہیں اور ان کے فرمودات کو لوگ دل و جان سے پسند بھی کرتے ہیں اور ان کے اقوال کو آگے صدقہ جاریہ سمجھ کر شیئر کرتے ہیں وہ بھی آج

کل ان تحریکی سپیکرز یا مقررین سے بڑے پریشان ہیں کہ جو شعبدہ بازی سے لوگوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں اور غریب لوگوں سے پانچ پانچ سو کے نام پر رجسٹریشن فیس کے وصول کرتے ہیں اور پھر انہیں زندگی میں کامیابی کے ناکام گر بتا رہے ہوتے ہیں (ویسے یہ لوگ جو موٹیویشنل سپیکرز کا خطاب سنتے ہیں اگر بروقت اپنے والدین یا اپنے بڑے بزرگوں کی نصیحت پر عمل کر لیتے تو انہیں یوں اپنی محدود سی کمائی شعبدہ بازوں کے ہاتھوں لٹانے کی ضرورت نہ پڑتی)۔ آج کل ان موٹیویشنل سپیکرز کی بڑی تعداد پاکستان میں متحرک ہے اور کامران خان کے بقول جو سادہ لوح لوگوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے گھیر رہے ہوتے ہیں جس طرح مداری اپنی لچھے دار باتوں سے مجمع کو قابو رکھتا ہے اسی طرح یہ لوگ بھی اپنی گفتگو کو خوشنما بنا کر پیش کرتے ہیں کہ یہ کریں گے تو کامیاب ہو جائیں گے اگرچہ خود اس پر عمل نہیں کرنا(یعنی دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت)۔ مزدور ڈے پر یہ کہنے والے کہ جو لوگ پسینے میں نہاتے ہیں وہ تقدیر بدلتے ہیں تو کامران خان کہتے ہیں کہ آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے تو جو لوگ ٹھنڈے اے سی میں بیٹھ کر کسی ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا کو فتح کر رہے ہوتے ہیں یہ ان کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے کیوں کہ آج کل پسینہ بہانے نہیں دماغی محنت کرنے  کا دور ہے اس لئے یہ موٹیویشنل سپیکرز مداریوں کی طرح چکنی چپڑی باتیں کر کے بس اپنی جیبیں گرم کر رہے ہوتے ہیں۔

 منفرد لہجے کی اینکر نیلم اسلم کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ موٹیویشنل سپیکرز کامیاب لوگوں کو ہونا چاہئے جنہوں نے اپنی زندگی میں ان بلندیوں کو چھوا جس کی عام لوگ تمنا کرتے ہیں نہ کہ ان لوگوں کو جو کامیابی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور پھر اپنی ناکامی کا غصہ موٹیویشنل سپیکر بن کر عام لوگوں کے ذہن کو بگاڑنے میں لگاتے ہیں۔ جو لوگ ناکام ہیں کسی فیلڈ میں ایڈجسٹ نہیں ہو پا رہے ہوتے وہ موٹیویشنل سپیکر بن کر کامیابی کے جھوٹے گر بتا رہے ہوتے ہیں اس لئے ان تحریکی مقررین سے بچ کر اپنی زندگی کو متحرک بنائیں اور خود کو کامیاب لوگوں کی صف میں شامل کرائیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس