0
1
0
فکرمحمود : سید محمود شیرازی

پرانے زمانے میں بادشاہ اپنے شہزادوں کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرنے کیلئے  اتالیق مقرر کرتے تھے جسے ہم جدیدزبان میں ہوم ٹیوشن کا نام بھی دے سکتے ہیں کیوں کہ اس دور میں یونیورسٹی یا سکول کالج تو ہوتے نہیں تھے مدارس ہوتے تھے جہاں غریب غربا کے بچے پڑھ کر درباری بننے کی جستجو کرتے تھے اور جو لوگ صاحب حیثیت ہوتے تھے وہ اپنے بچوں کیلئے اتالیق مقررکر لیتے تھے یا یوں کہہ لیں اپنے بچوں کیلئے ہوم ٹیوشن کا بندوبست کر لیتے تھے، شہزادے چوں کے بادشاہ وقت کے بیٹے ہوتے تھے تو اس طرح انہیں پڑھانے کیلئے محل میں استاد آتے اس طرح شہزادے گھر رہ کر ہی دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ سپاہ گری، گھڑ دور، تلوار چلانا، تیز اندازی یعنی  ہر فن وہ محل کی چار دیواری کے اندر رہ کر سیکھ جاتے اور جب انہیں تخت پر بٹھایا جاتا تو وہ اکثر اپنے استادوں کو ہی اپنے مشیر مقرر کر لیتے تا کہ انہیں حکمرانی کے اسرار و رموز چلانے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

 کئی اتالیق بڑے زمانہ ساز ہوتے تھے وہ شہزادوں کو اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے یا انہیں رام کرتے رہتے تھے تا کہ کل کو یہ شہزادے بادشاہ بنیں تو انہیں یاد رکھیں یا ان کی اولادوں کو دربار میں کوئی اعلی مقام مل جائے۔کئی بادشاہ جو خود پڑھے لکھے نہیں ہوتے تھے اپنے ارد گرد ایسے درباری یا مشیر رکھ لیتے تھے تو پڑھے لکھے ہوں جو بیرونی دنیا سے آنے والے سفیروں سے ملاقات بھی کرتے تھے اور  چٹھیوں کا جواب بھی لکھ کر دیتے تھے اور بادشاہ سلامت صرف اس پر اپنی مہر ثبت کر دیتے تھے تا کہ سند رہے کہ یہ بادشاہ سلامت ہی کی جانب سے لکھی گئی تحریر ہے۔ مغل بادشاہ اکبر کے مشیر تاریخ میں بڑے مشہور ہوئے جنہیں نورتن کہا جاتا ہے نو رتن بنیادی طور پر موتیوں کی لڑی کو کہتے ہیں کہ نو موتی جو ایک لڑی میں پروئے گئے ہوں انہیں نو رتن کہا جاتا ہے۔ اکبر بادشاہ کے یوں تو سینکڑوں مشیر اور درباری تھے لیکن یہ نو رتن اپنے کارناموں اور صلاحیتوں کی بنا پر بادشاہ اکبر کے زیادہ نزدیک سمجھے جاتے تھے اکبر اعظم کا نورتن راجہ مان سنگھ طاقت و شجاعت میں یکتا تھا اور اکبر کی فوج کا سپہ سالار بھی تھا جس نے اکبر کو بے شمار مہمات میں فتوحات دلائیں، اس طرح اکبر اعظم کا ایک اور نو رتن راجہ بیربل دانشور آدمی تھے اور سنسکرت کے بہت بڑے عالم تصور کئے جاتے تھے ایک جنگ میں مارے گئے۔

 ابولفیض فیضی اپنے زمانے کے شاعر اور مفسر قران تھے، انہی کے چھوٹے بھائی ابولفضل بھی اکبر بادشاہ کے نو رتن میں شامل تھے اکبر کے دین الہی کی ایجاد میں ان کا ہاتھ تھا۔ تان سین مشہور زمانہ موسیقار ہیں اور ان کے ایجاد کئے ہوئے راگ اب تک الاپے جاتے ہیں وہ بھی اکبر کے نو رتن تھے عبدالرحیم بھی اکبر کے نورتنوں میں ایک ہیرا تھے جو سپاہیانہ جوہر کے ساتھ ساتھ فلسفیانہ خیالات کے بھی مالک تھے،ابوالحسن عرف ملا دو پیازہ بھی اکبر کے نورتنوں میں شامل تھے جو تھے تو عرب النسل  تھے لیکن حادثات زمانہ نے انہیں ہندوستان پہنچا دیا اور پھر اکبر کے مشیر مقرر ہوئے،مرزا عزیز کوکلتاش جو اکبر کے رضاعی بھائی بھی تھے اور فن سپاہ گری  سمیت مختلف علوم کے بھی ماہر تھے اس طرح راجہ ٹورڈمل اکبر کے اہم تو رتن تھے جن کے ذمہ خزانہ کی بھی ذمہ داریاں تھیں اور بڑے معاملہ فہم اور زمانہ ساز تھے۔اب بھی کئی ملکوں میں بادشاہ سلامت موجود تو ہیں لیکن ان کا کردار اب واجبی سا رہ گیا ہے سوائے سعودی عرب کے جہاں ابھی بھی بادشاہوں اور شہزادوں کی مانگ ہے۔ورنہ ملکہ برطانیہ بے چاری تو اب صرف فوٹو سیشن کیلئے رہ گئی ہے جہاں کہیں کوئی موقع آیا ملکہ کو نہلا دھلا کر تصویر کیلئے بلا لیا یا خود اس کے محل 

میں چلے گئے۔اب پاکستان کیوں کہ جمہوری ملک ہے اور یہاں عوام کے ووٹوں سے عوامی حکمران منتخب ہوتے ہیں جو اپنی ذمہ داریاں ایک مخصوص وقت تک نبھا کر چلتے بنتے ہیں یا انہیں محلاتی سازشوں کے ذریعے محل سے بے دخل کر کے کسی اور کو عوامی ووٹوں سے سنگھاسن پر براجمان کرادیا جاتا ہے۔ اب پنجاب حکومت جہاں کبھی راجہ رنجیت سنگھ جیسے حکمران تھے جنہوں نے پنجاب کی سرحدیں ایک جانب افغانستان سے ملا دیں تھی تو دوسری جانب وہ سندھ کی دھرتی کو چھو رہے تھے یہ کامیابیاں راجہ رنجیت سنگھ نے اکیلے حاصل نہیں کیں ان کے ساتھ بھی سکھوں کی بارہ اہم مثلوں کے سردار تھے جنہوں نے رنجیت سنگھ کو پنجاب کا راجہ بنوایا۔ اب پنجاب بھی دو ملکوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور پاکستان کا پنجاب جو مغربی پنجاب بھی کہلاتا ہے اس پر سردار عثمان بزدار کی حکمرانی ہے۔ 

سردار عثمان بزدار بھی چونکہ ایک قبائلی شخص ہیں اور شہری بود وباش سے اب واقف ہوتے جا رہے ہیں کبھی گاڑی میں بیٹھ کر فوٹو بنواتے ہیں تا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام بھی آئے اور کبھی لاہور میں گھر کیلئے اسمبلی میں بل بھی لاتے ہیں لیکن اب انہوں نے وزیراعظم کے حکم سے یا مشاور ت سے پنجاب کے 38 کے قریب ترجمان مقرر کئے ہیں جو ان کی حکومت کے کارنامے عوام میں بیان کریں گے۔ پنجاب کے ویسے 36 اضلاع ہیں اور ترجمان 38 مقرر کر دیئے گئے ہیں اب پتہ نہیں یہ فی ضلع مقرر کئے گئے ہیں یا سب یک بارگی ایک ساتھ صرف عثمان بزدار کی ہی ترجمانی کا کام دیں گے اور باقی بچنے والے دو ہنگامی صورتحال میں کام آئیں گے۔ کیوں کہ پرانے زمانے میں بادشاہ اپنے رتن یا اتالیق مقرر کرتے تھے اب حکومت نے سوچا کہ بادشاہ سلامت والا دور تو گزر چکا ہے کیوں نہ ترجمانوں سے کام چلایا جائے اور ان میں سے کچھ ایسے ترجمان بھی ہیں جو عام انتخابات میں اسمبلیوں میں پہنچنے میں ناکام رہے اس لئے اب وہ اسمبلی میں پہنچنے والے ممبران  کے کاموں کی ترجمانی کے فرائض سر انجام دیں گے۔ اب ان 38 رتنوں میں کتنی صلاحیت ہے یہ تو آنے والے چند دنوں تک واضح ہو جائے گا لیکن ان کی تعیناتی پر یہ جگت ضرور صادر آتی ہے کہ انہیں کہا کارکردگی بڑھائیں انہوں نے کارکردگی بڑھانے کی بجائے بندے بڑھا لئے، اب دیکھتے ہیں یہ 38 نورتن مل کر عثمان بزدار کو پنجاب کا راجہ بنوانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا تاریخ کے ناکام رتنوں میں اپنا نام لکھواتے ہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس