0
1
0
فکرمحمود : سید محمود شیرازی

پاکستان کے ارد گرد جس تیزی سے حالات تبدیل ہو رہے ہیں اس حوالے سے پاکستان کو اپنی صفوں کو اازسر نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ امریکہ ایران کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنا چاہتا ہے تو دوسری جانب سعودی عرب بھی چاہتا ہے کہ وہ خطے سے ایرانی اثر و رسوخ کو ختم کرے اور اس مقصد کیلئے اسے پاکستان کا تعاون چاہئے کیوں کہ پاکستان مشرق وسطی کی اس گیم کا اہم مہرہ ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی حکومت کے درمیان حالات کچھ اچھے نہیں ہیں، امریکہ نے چین کی موبائل ساز کمپنی ہواوے پر اپنی ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے جس میں عارضی طور پر ابھی تعطل آیا ہے اور اگر تین ماہ بعد اس پر عمل ہو گیا تو چینی کمپنی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اسی طرح ہواوے کی سی ای او کی کینیڈا میں گرفتاری بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر امریکہ میں بھی دھوکہ دہی کے الزامات ہیں اور انہیں امریکی درخواست پر ہی حراست میں لیا گیا اور ان پر ایران میں امریکی مفادات کیخلاف کام کرنے کا بھی الزام ہے۔

 ایران سعودی عرب تنازع یا امریکہ سعودی عرب تنازع بنیادی طور پر ایران سعودی عرب تنازع ہے اور امریکہ اپنے اتحادی سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔امریکہ ایران جنگ کا ہونا یا نہ ہونا یا یوں کہہ لیں گومگو کی کیفیت تقریبا پچھلے بیس سال سے یوں ہی چلی آ رہی ہے کبھی اس میں اضافہ ہو جاتا ہے تو کبھی اس میں کمی ہو جاتی ہے۔ ایران کو اس کے ہمسائیہ ممالک میں سے عراق نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے جو امریکہ کیلئے ایک دھچکا ہے کیوں امریکہ عراق میں پچھلے 17 سال سے موجود ہے اور اس کی بنائی کٹھ پتلی حکومتیں وہاں بنتی اور ٹوٹتی رہیں ہیں لیکن اب عراقی وزیراعظم عادل عبدلمہدی  نے امریکہ جارحیت کیخلاف کھڑے ہونے کا اعلان کر کے امریکہ کو جھٹکا ضرور دیا ہے۔ ان تمام حالات کے تناظر میں پاکستان کیلئے پھونک پھونک کر قدم رکھنا انتہائی دشوار ہو جائے گا کیوں کہ یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایران کیخلاف امریکہ اگر طبل جنگ بجاتا ہے تو سعودی عرب اس کی مکمل حمایت کرے گا اور پاکستان سعودی عرب سے پہلے ہی تین سال کی موخر ادائیگی پر یا ادھار پر تقریبا تین سے نو ارب ڈالر کا تیل لے رہا ہے۔

اگر سعودی عرب بھی اس جنگ میں شریک ہوتا ہے تو لازمی طور پر سعودیہ پاکستان کو بھی اس جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کرے گا اور اس کے علاوہ ایک اسلامی اتحاد بھی بنا ہوا ہے جس کی سربراہی پاکستان کے سابق سپہ سالار جنرل راحیل شریف کر رہے ہیں۔سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والا یہ اتحاد بھی لا محالہ اس جنگ میں شریک ہوگا اس طرح پاکستان بلاواسطہ نہیں تو بل واسطہ اس جنگ میں ضرور شامل ہو گا جس سے بچنے کیلئے پاکستان کے مقتدر اداروں کو ابھی سے سوچ بچار کرنی پڑ رہی ہے اور اسی حوالے سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ملاقات بھی کی ہے۔افغان امریکہ جنگ کے زمانے میں تو پاکستان نے بغیر سوچے سمجھے یا غاروں کے دور میں جانے سے بچنے کیلئے اپنے اڈے امریکہ کے حوالے کر دیئے تھے تو کیا امریکہ ایران جنگ کے دوران بھی پاکستان سے اسی قسم کی کوئی ڈیمانڈ کی جا سکتی ہے یا ایران سے نمٹنے کیلئے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

 دوسری جانب کچھ حلقے  یہ بھی کہتے ہیں ایران کے بہانے امریکہ پاکستان پر بھی حملہ آور ہونے کی کوشش کرنا چاہتا ہے تا کہ اس خطے میں چینی مفادات کو نقصان پہنچایا جا سکے اور چین کا بغل بچہ بننے پر پاکستان کو سبق بھی سکھایا جا سکے۔ کیوں کہ افغان وار کے دوران امریکہ کی حمایت کرنے کی وجہ سے ہی پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی وارد ہوئی اور اگر ایران امریکہ جنگ ہوتی ہے توپاکستان میں ایک بہت بڑی مذہبی اقلیت ہے جو ایران کے ساتھ ہمدردیاں رکھتی ہے یا جن کیلئے ایران میں  روحانی و مذہبی لگاؤ کی وابستگیاں موجود ہیں۔ مذہبی وابستگی یا لگاؤ لسانی وابستگی اور لگاؤ سے بھی زیادہ خطرنک چیز ہے اور پاکستان کو پچھلے بیس سالوں میں اس چیز نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔

پچھلے کچھ عرصہ سے بلوچستان میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن کے ڈانڈے سرحد پار ایرانی سرزمین سے دریافت ہوئے ہیں اور بلوچستان میں دوسری جانب چین بھی اہم کھلاڑی ہے اس کے بھی پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں اہم مفادات ہیں وہ بھی نہیں چاہے گا اس کے مفادات کو نقصان پہنچے کیوں کہ وہ اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور گوادر بندرگاہ کو آپریشنل کرنا اس کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ ایران میں چاہ بہار بندرگارہ کی تعمیر بھارت کیلئے بھی بہت اہم ہے کیوں کہ دونوں بندرگاہیں صرف ایک سو ستر کلو میٹر کے فاصلے پر قائم ہیں اور دونوں ممالک اعلانیہ نہیں تو غیر اعلانیہ ہی سہی ان پراجیکٹ کو ایک دوسرے کا حریف سمجھ رہے ہیں۔

 بھارت نے چاہ بہار بندرگارہ پر تقریبا پچاس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور وہ بھی مودی کی سربراہی میں دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بننے جا رہا ہے اس کیلئے یہ بندرگاہ بہت اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ بھارت کی سمندری تجارت پاکستان سے گزرے بغیر ممکن نہیں تھی اس لئے اس نے اس کا متبادل ایران میں ڈھونڈا اور سی طرح چین کو بھی یورپی منڈیوں تک قریبی رسائی چاہئے تھی تو چین نے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں گوادر کو جگہ دی۔ امریکہ چین کا مخالف ہے اور چین پاکستان کا دوست ہے جبکہ بھارت ایران کا دوست ہے اور ایران امریکہ کا مخالف ہے اسی طرح بھارت امریکہ کا بھی دوست ہے اور چین و پاکستان کا بھی مخالف ہے۔ اس طرح یہ چومکھی لڑائی جوایک دوسرے کے مفادات سے جڑی ہے اس کیلئے پاکستا ن اس خطے میں نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے اور اسے نمٹنے کیلئے پاکستان کی سیاسی و عسکری اشرافیہ کو اپنے مقامی مفادات سے بالاتر ہو کر اس معاملے پریکسو ہو کر سوچنا ہو گا کیوں کہ فرد واحد کے فیصلے پہلے ہی اس ملک کو بہت نقصان پہنچا چکے ہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس