0
1
0
سرِ دست:شہباز سعید آسی

پیپلزپارٹی اور (ن)لیگ کی جمہوریت میں ”شراکت داری“اور آنے والے وقت کی سیاسی پشین گوئی،خصوصی تجزیہ

پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے لیکر اب تک،ان 70سالوں میں کتنی ہی حکومتیں آئیں چلی گئیں لیکن کوئی حکومت بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس نے عوام کے لئے دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں۔ اس کی ایک تو وجہ خود ”جمہوریت“ ہے۔ کیونکہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں ہمیشہ جمہوریت کو بچانے کیلئے یا تو اکھٹی ہوجاتی ہیں یا الگ الگ ہوکر لڑتی ہیں لیکن مجال ہے کبھی یہ جماعتیں بیچاری عوام کیلئے متحد ہوئی ہوں۔پچھلے 70سال سے عوام یہی طرفہ تماشہ دیکھ رہے ہیں کہ، جمہوریت آگئی،جمہوریت چلی گئی، جمہورت کو کوئی خطرہ نہیں، جمہوریت خطرے میں ہے، جمہوریت بہترین انتقام ہے،جمہوریت کھپے،زندگی کا مزہ تو جمہوریت میں ہے، جمہوریت نہ رہی تو کچھ بھی نہیں بچے گا، وغیرہ وغیرہ۔سیاستدان بھی کتنے سیانے ہیں پاکستانیوں کیساتھ جمہوریت جمہوریت کھیل کر انہیں ” مصروف“ رکھا ہوا ہے۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو پاکستان کو اتنا نقصان کرپشن،مہنگائی ،لوڈشیڈنگ نے نہیں پہنچایا جتنا اس ایک جمہوریت نے پہنچایا ہے۔اب یہی دیکھ لیجئے! جمہوریت کا سفر ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہو چکا ہے جبکہ اسی جمہوریت کے سائے تلے تیسری نسل بھی پروان چڑھ رہی ہے۔اور یوں پاکستانیوں کے” لاشعور“ رہنے تک یہ جمہوری تماشہ لگا رہے گا۔

قارئین! پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز یوں تو سیاسی حریف جماعتیں ہیں۔ لیکن دکھ سکھ کے موقع پر ان کی آپسی خلوص بھری ملاقاتیں ہمیشہ زبان زد عام رہی ہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے موقع پر میاں نواز شریف نے پی پی پی جیالوں کیساتھ جس طرح رنج وغم سانجھاکیا تھاوہ منظر ہر جیالے کے دل پرآج بھی نقش ہے،یوں اس وقت پیپلزپارٹی یہ بھول گئی تھی کہ ماضی میں نوازشریف کے دورِ حکومت میں بی بی شہید کی کردارکشی کیلئے باقاعدہ مہم چلائی گئی۔اسی طرح پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت بھی نواز شریف کی اہلیہ کی رحلت کے بعد جاتی عمرا میں تعزیت کیلئے چلی آئی تھی۔ غم کی گھڑی کے علاوہ مشکل وقت میں بھی دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ نبھایا۔وہ ساتھ میثاق جمہوریت کی شکل میں اتنا مضبوط رہا کہ دونوں جماعتوں نے آگے پیچھے پورے دس سال ”جمہوریت“ کے مزے لئے۔اب اسی پرانے میثاقِ جمہوریت کو غلاف میں سے باہر نکال کر ہلکی پھلکی ”جھاڑ پونجھ“ کے بعد ایک بار پھر عوام کے سامنے رکھنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔کیونکہ رمضان کا مہینہ ہے اور اسی بابرکت مہینے کی مناسبت سے دونوں بڑی جماعتوں کے ”چھوٹوں“ کے درمیان افطار ڈنر کے موقع پر ایک بار پھر اسی میثاق جمہوریت پر اتفاق ہوچکا ہے۔یہی اتفاق تقریباً 12سال قبل ایک چھوٹے کی والدہ اور دوسری چھوٹی کے والد کے درمیان طے پایا تھا۔ یوں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بڑوں کے بعد چھوٹوں کے درمیان بھی میثاق جمہوریت ہوا ہے۔بہرحال ، چھوٹوں کی ملاقات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں کے بڑے حکومت سے باہر اورشدیدمشکلات کا شکارہیں۔ ویسے ہمیشہ ایسی ملاقاتیں تب ہی ہوئی ہیں جب دونوں جماعتوں کی حکومت میں واپسی کا ارادہ ہو۔اگر حمزہ شہباز کواس ملاقات کی خوبصورتی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا حالانکہ محفل مریم نواز نے لوٹ لی پھر بھی حمزہ شہباز کی موجودگی نے اس ملاقات کو رونق بخشی۔ اگر حمزہ شہباز کی اس ملاقات میں شمولیت نہ ہوتی تو یہ ملاقات کبھی بھی عوامی توجہ حاصل نہ کر پاتی۔

بلاول بھٹو کی جانب سے دیئے گئے افطار ڈنر میں شمولیت کیلئے جانے والے مسلم لیگ (ن ) کے وفد کی قیادت مریم نوازکررہی تھی۔جبکہ حمزہ شہباز کے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کے باوجود مریم نواز ”گاڑی “ کا کنٹرول سنبھالے ہوئی تھیں۔ مریم نوازبلاول بھٹو سے ابتدائی کلمات کا تبادلہ کرتے ہوئے بھی آگے آگے رہیں جبکہ حمزہ شہباز بجھے بجھے دکھائی دیئے۔ایک ویڈیو جو وائرل ہوئی اس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ بلاول بھٹو سے مختصر رسمی گفتگو کے بعد مریم نواز، حمزہ شہباز کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر انھیں آگے بلاول کی طرف بڑھاتی ہیں جس کے بعد حمزہ بلاول سے مصافحہ کرتے ہیں۔ڈائننگ ہال میں بلاول بھٹو نے مریم نواز کو اپنی برابر والی نشست پر بٹھایا جب کہ حمزہ شہباز بلاول سے ذرا فاصلے پر بیٹھے نظر آرہے ہیں۔اس دوران مریم پرجوش نظر آ رہی ہیں اور کسی معاملے پر اظہارِ خیال بھی کر رہی ہیں، جبکہ حمزہ کی باڈی لینگوئج سے ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ کچھ کھوئے کھوئے سے ہیں۔ایک موقع پرتوحمزہ شہباز اپنی گردن بھی کچھ اس طرح دوسری طرف گھماتے دکھائی دیتے ہیں جیسے انہیںمحفل سے اکتاہٹ محسوس ہورہی ہے یا پھر وہ خود اس میں زیادہ متحرک نہیں ہو پا رہے ہیں۔یہ مناظر سامنے آنے کے بعدحکومتی ارکان کیساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی خوب ہلچل رہی۔اور تبصرے کئے گئے کہ 20سالہ سیاسی تجربے کے حامل حمزہ کامریم کے سامنے قد چھوٹا لگ رہا تھا،جبکہ مریم نواز حمزہ کی بڑی بہن لگ رہی تھی۔بہرحال، مریم نواز کی سرگرمیوں دیکھ کر یہی لگ رہا ہے کہ پارٹی کے سینئررہنماں نے مریم کی پارٹی پر بڑھتی گرفت کو قبول کرلیا ہے۔اور(ن)لیگ کے ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بھی مریم نواز کی پہلی باضابطہ موجودگی اوران کی بطور نائب صدر تقرری کے بعد پارٹی میں ان کے” موثر “کردار سے کسی رہنماتو دور کی بات خود حمزہ کو بھی کوئی اعتراض نہیں۔

مریم نواز پارلیمانی سیاست کیلئے تیار ہو چکی ہیں جبکہ بلاول پہلے ہی پارلیمنٹ میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔اب دونوں کا مستقبل صاف نظرآرہا ہے۔پارٹی کے اندر سینئر رہنما مریم نواز کی قیادت پر مطمئن ہیں،اور کوئی بھی اس بات سے اختلاف نہیں کررہا کہ مریم نواز ایک سیاسی حقیقت اور نہایت طاقتور سیاسی آواز ہیں، ایک ایسی پوزیشن کہ جسے انہوں نے اپنی جدوجہد سے حاصل کیاہے۔یہ بات بھی تسلیم شدہ ہے کہ مریم نواز نے اپنی جماعت کیلئے مہینوں گلیوں میں احتجاج کیا ہے ،اور اپنے موقف اور جھوٹے الزامات پر اپنی قید کے ذریعے بھی ،سیاسی میدان اور پارٹی میں عہدہ حاصل کیا ہے۔اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ مریم نے بہادری کے ساتھ جیل کا سامنا کیا اور اپنے ساتھ کئے جانے والے سلوک کے بارے میں چھوٹی سی بھی شکایت کبھی نہیں کی۔اسی طرح بلاول کی سیاسی بلوغت کوبینظیر بھٹو کی تربیت کاہی نتیجہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سیاسی مخالفین بھی بلاول کی سیاسی حکمت عملی کی تعریف کرتے نظرآتے ہیں۔اور جس طرح وہ پیپلزپارٹی کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے کوشاں ہیں،اور جدوجہد کررہے ہیں،اسے پرعالمی میڈیا بھی ان کی دانشمندی کی تعریف کرچکا ہے۔کسی بھی لمحے انہوں نے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ پیپلزپارٹی صرف زرداری خاندان کی جاگیر ہے بلکہ بلاول نے پارٹی کے اندر بھٹو ازم کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔بلاول نے اپنے والد کو بھی کور کیا لیکن کمال مہارت کیساتھ پارٹی پر والد کی ”چھاپ “ نہیں پڑنے دی۔میری ادنیٰ سی ذاتی رائے کے مطابق اگر مریم اور بلاول پی ٹی آئی حکومت پرآنے والے سخت دنوں کو ”کیش“ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ دونوں چھوٹے بھی ”میثاق جمہوریت“ کے تحت پاکستان کے ”باری باری“ حکمران بنتے نظرآرہے ہیں۔اب دیکھتے ہیںجون کے مہینے میں سیاسی درجہ حرارت کتنا بڑھتا ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس