0
1
0
قلم قرینہ : ساجد عمر گل

آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا ایک بار پھر معاہدہ طے پا گیا۔ بے پناہ مقروض پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا مزید قرضہ 39 مہینوں میں قسطوں کی صورت دستیاب ہو گا۔ جناب حفیظ شیخ کا فرمانا ہے کہ ورلڈ بنک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی دو سے تین ارب ڈالر قرضہ دیں گے۔ آئی ایم ایف معاہدہ کے بعد لازم ہے کہ بجلی، گیس اور پٹرول وغیرہ مزید مہنگے ہوں گے۔ بہت سی دیگر مصنوعات اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی آسمان کو چھوئیں گی۔ عوام الناس کی زندگی مزید اجیرن ہو گی۔ یعنی نئے پاکستان میں پرانے غریبوں کی کوئی گنجائش نہ رہے گی۔ احساسِ گدائی ہمیں کھا جائے گا اور مقروض قوم کبھی ابھر نہ پائے گی۔ کپتان تو شائد میچ ڈرا کر کے گھر چلا جائے مگر ماضی کے بھاری بوجھ تلے دبا یہ ملک خاکم بدھن ہار جائے گا۔ پروڈکشن اور ٹیکسیشن ہے نہیں۔ ڈویلپمنٹ کہاں سے ہو گی؟ اگر آج بھی ہم صحیح سمت پر سفر آغاز کر لیں تو ابتلا کی منزلیں اسقدر ہیں کہ گنتی سے باہر۔ یعنی کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک؟ میرے ملک پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے کہ ہر شاخ پہ بیٹھا اُلو اسے کھائے جا رہاہے۔ حال کی تصویر اسقدر بدحال ہے کہ سر دیواروں سے پھوڑنے کا من ہے۔ حال کا رونا اپنی جا پر۔ ماضی بھی کون سا شاندار تھا؟ قرض، بھیک اور خیرات کی یہ داستان طویل ہے۔ اس پر نگاہ کیجئے کہ نشانِ عبرت ہے۔

16 مارچ 1965 سے 2016/17 تک کے قرضوں کی تفصیل ہوش رُبا ہے۔ 37.5 ملین ڈالرز کا پہلا قرضہ آئی ایم ایف سے ایوب خان حکومت نے لیا۔ 17 اکتوبر 1968 کو 75 ملین ڈالرز کا قرضہ ایوب خان حکومت نے دوبارہ لیا۔ 11 اگست 1973 کو 75 ملین، 11 نومبر 1974 کو 75 ملین اور 9 مارچ 1977 کو 80 ملین ڈالرز کا قرضہ بھٹو حکومت نے لیا۔ 24 نومبر 1980 کو جنرل ضیاء نے 1.2 بلین ڈالرز Extended Fund Facility کے طور پر لئے۔ 2 دسمبر 1981 کو جنرل ضیا نے 919 ملین کا قرضہ پھر لیا۔ 28 دسمبر 1988 کو بے نظیر حکومت نے 273.1 ملین Standby Loan کے طور پر لئے۔ 22 فروری 1994 کو 985.7 ملین Extended Fund اور Extended Credit کے طور پر پھر لئے اور 13 نومبر 1995 کو بے نظیر حکومت نے 362.5 ملین ڈالرز بطور Standby Loan پھر سے وصول پائے۔ 20 اکتوبر 1997 کو نواز شریف حکومت نے 1.13 بلین ڈالرز Extended Fund اور Extended Credit کے طور پر لئے۔ 29 نومبر 2000 کو جنرل پرویز مشرف نے 465 ملین ڈالرز کا قرضہ لیا۔ 6 دسمبر 2001 کو جنرل صاحب نے ایک بلین ڈالرز کا قرضہ پھر لیا۔ 24 نومبر 2008 کو زرداری جمع یوسف رضا گیلانی حکومت نے 7.2 بلین کا قرض لیا۔ 4 دسمبر 2013 کو نواز شریف نے 4.3 بلین ڈالرز Extended Fund کے طور پر حاصل کئے۔ 2014-15 میں 24.9 بلین جبکہ 2016-17 میں 10.1 بلین ڈالرز کا قرضہ نواز شریف نے پھر لیا اور اس مقروض ملک کی مجبور قوم پر اسقدر بوجھ لاد دیا کہ اب جسے اٹھانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں عمران خان نے بھی 6 بلین ڈالرز کا قرضہ لے لیا ہے۔ سود در سود کی ادائیگیوں کے منحوس چکر نے پاکستان کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ مریض جاں بلب ہے اور مرض بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ 

تازہ قرضے کے بعد اس سال کے آخر تک ڈالر کی قیمت ڈیڑھ سو سے ایک سو پینسٹھ تک متوقع ہے۔ حکومت کی طرف سے عوام کو فراہم کی جانے والی بیشتر سبسڈی کا خاتمہ ہو گا۔ گیس، بجلی اور پٹرول کی قیمتیں بڑھیں گی۔ بہت سے نئے ٹیکس لگائے جائیں گے۔ آنے والا بجٹ قیامت خیز ہو گا۔ ممکن ہے نیپرا اور اوگرا کو بجلی، گیس کی قیمتوں میں ازخود اضافہ کا اختیار ملے۔ یعنی جس کی لاٹھی بھینس بھی اُسی کی۔ معلوم نہیں آئی ایم ایف کا یہ نیا پروگرام تکمیل کے مراحل مکمل کر پائے گا کہ نہیں؟

ریاستِ مدینہ کے داعی وزیراعظم صاحب! آپ چاہے جس قدر بھی ٹیکس بڑھائیے اور سبسڈی ختم کیجئے مگر خیال رہے کہ عوام الناس کے ٹیکس سے چلنے والے انصاف کے اداروں میں قانون کے بخیئے ادھڑ چکے۔ پولیس تحفظ دینے میں ناکام مگر کرپشن میں کسی سے کم نہیں۔ سرکاری تنخواہ دار ڈاکٹر ہسپتال میں علاج کرنے کی بجائے نجی کلینک چلاتے ہیں۔ اساتذہ نے ذاتی ٹیوشن سینٹر کھول رکھے ہیں اور سرکاری سکول رزقِ خاک ہوتے جا رہے ہیں۔ آئی پی پیز کیوجہ سے بجلی کی فراہمی نہیں بڑھی بلکہ سرکاری اخراجات بڑھے ہیں یعنی بوجھ در بوجھ۔ بیوروکریسی بے لگام اور کرپٹ ترین۔ اخلاقیات کا جنازہ گلی گلی اور ہر چواہے پر بے کفن۔ قرض کی مے پیتے ہوئے فاقہ مستی کے رنگ لانے کی امیدیں عبث۔ چہار جانب ستیاناسی کا راج۔ واضح ہوا کہ جدید غلام زنجیروں میں نہیں قرضوں میں جکڑے ہوتے ہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس