0
1
0
روشنی :محمد علی یزدانی

عالمی مالیاتی فنڈ سے وابستہ رہنے والے ماہر اقتصادیات ڈاکٹر رضا باقر نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کا عہدہ سنھبال لیا  ہے اور حکومت نے انہیں  تین سال کیلئے گورنر سٹیٹ بینک تعینات کیاہے۔

اس سے پہلے طارق باجوہ سٹیٹ بنک کے  گورنر تھے طارق باجوہ کو مسلم لیگ نواز کی حکومت میں اُس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سفارش پر گورنر اسٹیٹ بینک بنایا گیا تھا۔طارق باجوہ جون 2017 میں 60 سال کی عمر کو پہنچ کر سیکٹری خزانہ کے عہدے سے ریٹائر ہو گئے تھے اور ریٹائرمنٹ کے آگلے ہی مہینے اُنہیں تین سال کے لیے گورنر اسٹیٹ بینک لگایا گیا تھا۔طارق باجوہ کی تعیناتی کیوں کہ ن لیگ کے دور حکومت میں ہوئی تھی اور اس دوران موجودہ حکومت کے دور میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت اور شرح سود میں اضافے کی وجہ سے حکومت شدید تنقید کی زد میں تھی جس پر حکومت نے طارق باجوہ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تا کہ اپنی مرضی کا بندہ لا کر اپنی مرضی کے اقدامات کرائے جا سکیں اور واقفان حال کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت میں اکثر وزرا طارق باجوہ کو ہٹانے کے حق میں تھے لیکن اس کے بعد باقر رضا کی جو تعیناتی ہوئی ہے اس پر بھی تحریک انصاف کے وزرا حیران ہیں کہ انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ طارق باجوہ کے بعد کوئی پیرا شوٹ سے یہ سیٹ لے اڑے گا۔ اگست 2018 میں موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو ڈالر کی قدر 123 روپے تھی جو بڑھ کر 144 تک پہنچ گئی ہے۔تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کے مطابق اسد عمر کے وزیر خزانہ کا عہدہ چھوڑنے کے بعد ڈاکٹر حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ تعینات کیا گیااور ڈاکٹر حفیظ شیخ کے کہنے پر ہی سابق گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ سے استعفیٰ لیا گیا ہے۔

 یوں مشیر خزانہ کی سفارش پر ڈاکٹر رضا باقر کو اسٹیٹ بینک کا نیا گورنر مقرر کر دیا گیا ہے۔مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ بھی ماضی میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف سے وابستہ رہے ہیں اور حفیظ شیخ اور ڈاکٹر رضا باقر کے آپس میں اچھے مراسم رہے ہیں۔ڈاکٹر رضا باقر گزشتہ 18 برس سے بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے وابستہ ہیں اور اسٹیٹ بینک کے سربراہ کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے وہ مصر میں آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ اس سے قبل وہ بلغاریہ اور رومانیہ میں بھی آئی ایم ایف مشن کے سربراہ کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔ڈاکٹر رضا باقر نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں ڈیٹا پالیسی ڈویژن اور سٹریٹجی پالیسی ڈویژن میں کام کیا ہے جہاں وہ قبرص، گھانا، یونان، جمیکا اور یوکرائن جیسی بحران کی شکار معیشتوں کے لیے قرض دینے اور مالیاتی نظام بہتر کرنے کے لیے پالیسی سازی کرتے تھے۔

ماضی میں ڈاکٹر رضا باقر نے عالمی بینک اور یونین بینک آف سوٹزرلینڈ میں بھی خدمات سر انجام دی ہیں جبکہ وہ امریکہ کی یونیورسٹی ایم آئی ٹی میں درس و تدریس سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ڈاکٹر رضا باقر لاہور کے ایچیسن کالج سے فارغ التحصیل ہیں اور اُنہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجویٹ کیا جس کے بعد امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے سے اُنہوں نے اقتصادیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔پاکستان میں یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب کسی عالمی ادارے سے وابستہ شخص کو گورنر اسٹیٹ بینک بنایا گیا ہے۔اس سے قبل آئی ایم ایف سے وابستہ ماہر اقتصادیات ڈاکٹر محمد یعقوب کو اسٹیٹ بینک کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ 1993 سے 1999 تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر رہے۔

ڈاکٹر عشرت حسین عالمی بنک جبکہ ڈاکٹر شمشاد اختر ایشیائی ترقیاتی بنک سے وابستہ رہی ہیں۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ڈاکٹر باقر رضا پہلی شخصیت نہیں ہیں اس سے پہلے بھی آئی ایم ایف سے وابستہ شخصیات پاکستان میں کام کر چکی ہیں فرق صرف یہ ہے کہ خان صاحب دعوے کرتے تھے کہ وہ آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لیں گے لیکن اب نہ صرف وہ قرضہ لے رہے ہیں بلکہ آئی ایم ایف کے نمائندے کو سٹیٹ بنک کا گورنر بھی مقرر کر دیا ہے جو ان کے قول و فعل میں تضاد کی واضح نشانی ہے کیوں کہ اپوزیشن کے دنوں میں وہ ببانگ دہل کہا کرتے تھے کہ وہ آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لیں گے لیکن اب ان کے نمائندے کو نہ سٹیٹ بنک کا گورنر بنا دیا ہے، بعض لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ باقر رضا صاحب کا قومی شناختی کارڈ بھی ہنگامی بنیادوں پر تیار کیا گیا تا کہ ان کی تقرری کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ دوسری جانب حکومت نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا سربراہ اسد عمر کو بنا کر ان کی اشک شوئی کرنے کی کوشش کی ہے کیوں کہ وزارت خزانہ چھن جانے کے بعد وہ کافی دلبرداشتہ تھے۔ پاکستان کے حالات جس نہج پر جا چکے ہیں ان حالات میں صرف امید کی جا سکتی ہے کہ جو بھی ہو پاکستان کیلئے بہتر ہو کیو ں کہ مہنگائی کا جو طوفان ہے اس نے غریب آدمی کی چیخیں نکلوا دی ہیں اور آئی ایم ایف کا بیل آؤٹ پیکجملے گا تو اس کے بعد بجلی، گیس اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں جو اضافہ ہو گا وہ غریب آدمی کیلئے ناقابل برداشت ہو گاایسے میں حکومت کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کوئی ایسا اقدام نہ کرے جس سے لوگ تبدیلی سے تنگ آ کر پرانے پاکستان میں واپسی کی راہ ڈھونڈنے لگ جائیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس