0
1
0
فکرمحمود : سید محمود شیرازی

نوازشریف نے ضمانت کی منسوخی کے بعد جس طرح سے ریلی کے ذریعے جیل یاترا کی ہے اس سے ایک بار پھر مسلم لیگ ن کے کارکنان میں امید کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے کہ ان کی جماعت اصل اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔نوازشریف کے جیل جانے سے قبل مسلم لیگ ن کے اہم عہدوں پر تعیناتیاں بھی ہوئیں ہیں اور ردو بدل بھی ہوا ہے جس پر عوامی حلقوں سمیت سیاسی حلقوں میں یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ ایک بار پھر نوازشریف فیکٹر مسلم لیگ ن میں واضح نظر آیا ہے۔شہباز شریف پنجاب کے حکمران تھے تو اپنے بھائی کی وجہ سے انہیں کام کرنے میں آسانیاں تھیں لیکن جیسے ہی انہیں مرکز میں بھیجا گیا ان کی کارکردگی میں فرق آیا اور لوگوں نے واضح محسوس کیا کہ ان کی مفاہمت کی سیاست پارٹی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ 

ن لیگ سے وابستہ ممبران اسمبلی نجی محفلوں میں اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ شہباز شریف کی ٹھنڈی اپوزیشن اور مفاہمتی پھرتیاں پارٹی کو نقصان پہنچا رہی ہیں کیوں کہ عوام ہمیشہ مقبولیت کی طرف لپکتے ہیں یا عوام حقیقت سے زیادہ پرفریب نعروں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں انہیں زمینی حقیقتوں سے واسطہ نہیں ہوتا ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا لیڈر کچھ ایسا کرے کہ جس سے حریفوں کے دانت کھٹے ہو جائیں (جیسا کہ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے اپنے ووٹرز کو اتنے دلفریب خواب دکھائے کہ وہ اقتدار میں آئے تو پوری دنیا کے سرمایہ کار پاکستان کا رخ کر لیں گے، ملک کے قرضوں کا خاتمہ ہو جا ئے گا، آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، منتخب نمائندوں کو عزت دیں گے، ملک سے کرپشن کا خاتمہ کر دیں گے، اپوزیشن کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی نہیں دیں گے اور اب ہو اس کے برعکس رہا ہے)۔ زمینی حقائق کے مطابق شہباز شریف کا بیانیہ درست ہے کیوں کہ انہیں پتہ ہے کہ اصل طاقت کس کے پاس ہے اس لیے انہوں نے ہمیشہ سے کوشش کی کی طاقتوروں سے معاملات بنا کر رکھے جائیں تا کہ مشکل وقت میں کام آ سکے۔پالیسی نوازشریف کی بھی یہی تھی لیکن اب انہوں نے اپنے بیانئے کو بدل کر طاقتوروں سے متھا لگایا جس کی پاداش میں انہیں حکومت سے رخصتی  مول لیناپڑی اور جیل میں شب و روز گزارنے کا صلہ ملا۔

 جس طرح سے حکومت اپنے پرفریب وعدوں میں ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہے اس موقع پر مضبوط اپوزیشن انتہائی ضروری ہے جو پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر حکومت کے خلاف جارحانہ موقف اپنا سکے۔ اس لیے مسلم لیگ ن نے پارلیمان میں اپنا لیڈر خواجہ آصف کو چنا جو اکثر  عمران خان کے خلاف سخت لب و لہجہ استعمال کرتے رہتے ہیں کیوں کہ شہباز شریف ایک تو بیمار ہیں دوسرا ان کا ابھی لندن میں مزید رکنے کا پروگرام ہے جس کی وجہ سے ن لیگ کو یہ تبدیلیاں کرنا پڑیں، ن لیگ کو اب شہباز شریف سے نکل کر نئی نسل اور نئی قیادت کی جانب آنا ہو گا کیوں کہ ن لیگ کے اندرونی ذرائع کے مطابق شہباز شریف کی مفاہتی سیاست اور صحت انہیں پارٹی کی قیادت کرنے کی اجازت نہیں دیتی ۔اب کچھ ذکر ہو جائے سلامتی کونسل کا جس میں پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں سفارتی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔سلامتی کونسل نے جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعوداظہر کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔بھارت اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا جب کہ ہم یوں خوش ہو رہے ہیں جیسے آئی ایم ایف بغیر شرائط کے ہمیں قرضہ دینے پر تیار ہو گیا ہو۔ مسعود اظہر پر اقوام متحدہ نے پابندی عائد کر دی جس پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے عجیب بیان داغا کہ یہ پاکستان کی کامیابی ہے کہ

 مسعود اظہر کو پلوامہ حملہ کی وجہ سے دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا۔ دفتر خارجہ اور پاکستان حکومت کی خوشی سے ایک لطیفہ یاد آ گیا کہ ایک شخص کا کار حادثے میں وفات ہو جاتی ہے اور سب اہل محلہ، عزیز و اقارب ان سے تعزیت کر رہے ہوتے ہیں تو ایسے میں پاکستانی دفتر خارجہ کی طرح سوجھ بوجھ رکھنے والا ایک محلہ دار کہتا ہے آپ لوگ کیوں رو رہے ہیں حادثے میں مرنے والا تو مر گیا شکر کریں اس کی ٹانگ تو ٹوٹنے سے بچ گئی ہے۔ پاکستان کا دفتر خارجہ اور اس سے متعلقہ حکام یوں خوش ہو رہے ہیں جیسے اقوام متحدہ نے کسی بھارتی شہری کو دہشت گرد قرار دے دیا ہو۔ مسعود اظہر پلوامہ حملے میں ملوث نہیں جیسا کہ پاکستان کی حکومت کہتی ہے اور اقوام متحدہ نے بھی یہ الزام عائد نہیں کیا تو سوچنے کی بات ہے انہیں کیوں دہشت گرد قرار دیا گیا کیا وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے یا پاکستان سے باہر کسی کارروائی کی وجہ سے انہیں دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔

 اقوام متحدہ نے مسعود اظہر کو دہشت گرد نمبر 422 قرار دیا ہے یعنی کے اس سے پہلے 421 لوگ دہشت گرد قرار دیئے جا چکے ہیں جن میں سے کچھ پاکستانی بھی ہیں۔ہمیں سوچناچاہئے کہ ہمارے لوگ ہی دہشت گرد کیوں قرار دیئے جا رہے ہیں اور اس بار تو چین نے بھی قرار داد کو ویٹو کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی کیا پاکستان اور چین کی باہمی مشاورت سے یہ قرارر داد ویٹو نہ ہوئی یا صرف چین نے اس بار پاکستان کا بوجھ سہارنے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستان کہتا ہے ہماری سفارتی کامیابی ہے لیکن کاغذوں پر یہ پاکستان کی ناکامی محسوس ہوتی ہے کیوں کہ مسعود اظہر پاکستانی شہری ہیں اور ان کو دہشت گرد قرار دینا پاکستان کی ناکامی ہے یا پاکستان کے ماتھے پر بدنما داغ ہے کہ اس کے شہری کو پوری دنیا ایک دہشت گرد کے طور پر جانتی ہے۔مسعود اظہر کی راہ درست ہے یا غلط اس بحث میں پڑے بغیر بھی ایک عام پاکستانی جان سکتا ہے کہ ان کی وجہ سے پاکستان پر دہشت گرد ریاست کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ہماری سفارتی کامیابی تب گردانی جاتی اگر ہم کسی بھارتی شہری  کے بارے میں اقوام متحدہ سے چین کے ذریعے کوئی قرار داد پیش کرتے اور پھر سلامتی کونسل کی کمیٹی اسے دہشت گرد قرر دیتی،خیر اگر دفتر خارجہ والے کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کی کامیابی ہے تو ہم پاکستانی ہونے کے ناطے اس کامیابی پر مسرور ہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس