0
1
0
قلم قرینہ : ساجد عمر گل

پاکستان تحریک ِ انصاف کے اہم ترین رہنما اور کپتان عمران خان کی ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین اسد عمر کو وزارت خزانہ کی ذمہ داریوں سے ماضی قریب میں جبراً سبکدوش کر دیا گیا تھا اور باوثوق ذرائع کے مطابق وجہ اس امر کی بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا جناب حفیظ شیخ کے حق میں دباؤ تھا۔ موجودہ حکومت یہ دباؤ برداشت نہ کر پائی جناب حفیظ شیخ وزیرِ خزانہ کے منصب پر فائز کر دئیے گئے۔ اب جناب اسد عمر کو پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی سربراہی کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ یہ عہدہ حکومتی نہیں پارلیمانی ہے جبکہ جناب حفیظ شیخ عوامی نمائندگی سے محروم اور غیر منتخب ہیں۔ جناب حفیظ شیخ وزیرِ خزانہ کی حیثیت میں جب مذکورہ کمیٹی کے اجلاسوں میں شریک ہونگے تو سامنے وہی اسد عمر بھی بیٹھے ہونگے۔ دونوں کے مابین کسی ممکنہ مناقشے کو مدنظر رکھتے ہوئے تصور کیجئے کہ قطرے پر گہر ہونے تک کیا بیتے گی؟ آنے والے وقت کے دامن میں ابھی بہت کچھ پوشیدہ ہے۔ 

13 مارچ 2006 وزیر نجکاری حفیظ شیخ نے وزیر اعظم شوکت عزیز کے ساتھ PTCL بیچنے کے معاہدہ پر دستخط کر دئیے، 2.6 ارب ڈالر میں اس بڑے ادارہ کو جس میں اس وقت 70,000 افراد کام کرتے تھے اتصالات کے ہاتھوں فروخت کیا گیا۔ آج پی ٹی سی ایل میں نجکاری کے 13 سال بعد صرف سات ہزار ورکرز کام کر رہے ہیں۔ اتصالات کو فائدہ دینے کے لئے طے کیا گیا کہ وہ 1.8 ارب ڈالر فوری ادا کریں بقیہ 9 قسطوں میں ادا کریں، اتصالات نے بقیہ 800 ملین ڈالر دینے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ پی ٹی سی ایل کی تمام جائیداد ان کے نام کی جائے۔ یہ معاہدہ کا حصہ نہ تھا۔ دس اپریل 2012 کو جب حفیظ شیخ خزانہ کے وفاقی وزیر تھے پی پی پی حکومت میں تو انہوں نے اتصالات کے وفد سے پھر کہا کہ وہ اپنی بقیہ 800 ملین رقم ادا کریں۔ مگر یہ صرف گفتگو ہی رہی۔ اب 19 اپریل 2019 کو جب حفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب پر فائز کئے گئے ہیں تو ان کا فریضہ ہے کہ وہ پھر اتصالات کو بقیہ رقم کی ادائیگی کا کہیں، کیونکہ تاحال اتصالات نے یہ رقم ادا نہیں کی ہے۔ اتصالات نے پی ٹی سی ایل کی کل قیمت کا صرف 26 فیصد حصہ خرید کر اس کی جائیدادوں کو اپنے نام کرانے کا جو نا معقول مطالبہ کیا ہے اس کے خالق یہی حفیظ شیخ ہیں۔ اب تو لگتا ہے حفیظ شیخ وہ بھی کریں گے جو اسد عمر نہ کر سکے، نجکاری اسی طرح کی تیزی سے ہو گی جس طرح انہوں نے پی ٹی سی ایل کو بیچا تھا۔ 

ممکن ہے سب سے پہلے یہ سٹیٹ لائف انشورنس کا گھونٹ بھریں۔ کراچی سٹیل مل بھی دوبارہ نجکاری کے کلہاڑے کے نیچے آئے گی۔ آئی ایم ایف کی وہ تمام شرائط مان لیں گے جو شاید اسد عمر نہ مان رہے تھے۔ اب تو حفیظ شیخ کھل کر کھیلیں گے، جس مقصد کے لئے انہیں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دباؤ پر لایا گیا ہے وہ اُسے ضرور پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ یعنی بیشتر ریاستی اداروں کی خیر نہیں۔ حفیظ شیخ کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ وہ زیادہ دیر ایک کشتی کے سوار نہیں رہتے۔ پیپلز پارٹی کے گذشتہ دورِ حکومت میں بھی یہ امورِ خزانہ کے ذمہ دار تھے مگر آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل نہ کر پائے تھے اور پیپلز پارٹی کی ڈگمگاتی کشتی کو بیچ منجدھار چھوڑ کر وقت پورا ہونے سے قریباً ایک ماہ قبل ہی اپنے عہدے سے خود سبکدوش ہو گئے تھے۔ 

حقیقتِ احوال کا علم رکھنے والے کہتے ہیں کہ حفیظ شیخ عبوری دور میں کسی بہت ہی اہم عہدے کی تلاش میں تھے۔ افسوس کہ پاکستانی اقتصادیات کے مسائل حل کرنے کیلئے آج تک کوئی حقیقی اور محبِ وطن پروفیشنل میسر ہی نہیں آیا۔ پاکستان میں تمام حکومتوں کے سامنے بڑا چیلنج ہمیشہ سے اقتصادیات ہی کا رہا ہے۔ آئندہ بھی رہے گا۔ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے انتہائی زیرک اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ماہرین کی اشد ضرورت ہے۔ حب الوطنی ایک ایسی خصوصیت ہے کہ جو بیشتر دستیاب ماہرین میں نایاب ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے محض انہی ماہرین پر اعتماد کرتے ہیں کہ جو اُن کے مفادات کی آبیاری بخوبی کر پائیں۔ جب جہاں کسی نے پاکستان کے مفاد کی حفاظت کا سوچا، اُس کی نوکری فوری غیر محفوظ ہو گئی۔ ایسے میں کون ہے جو پاکستان کی ڈوبتی اقتصادی کشتی کو پار لگانے کی تسلی بخش سعی کر پائے؟ اندرونی سطح پر ہماری سٹاک ایکس چینج میں بھی ایسے بھیڑیا نما گروپوں کی اجارہ داری قائم ہے کہ جو جب چاہتے ہیں اسے مندی کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں اور جب چاہیں اپنے مفاد کی خاطر اسے بے پناہ منافع کے ساحلوں تک پہنچا دیتے ہیں۔

 سب کچھ مصنوعی اور وقتی۔ پائیدار اور تادیر سود مند رہنے والی منصوبہ بندی کا فقدان بھی ایک ایسا مرض ہے کہ جس میں مبتلا مریض کبھی شفایاب نہیں ہو سکتا۔ مرض حد سے بڑھ جائے تو مریض لاعلاج ہو جاتا ہے۔ آپ اس جملہ میں لفظ ”مرض“ کو قرض جان کر پڑھیں تو اقتصادی محاذ پر درپیش تمام تر مخدوش صورتحال روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے گی۔ احساسِ گدائی کا مارا پاکستان کب سر اُٹھا کر باوقار انداز میں منصہ شہود پر ظاہر ہو گا اس بابت کچھ بھی اعتماد سے کہا نہیں جا سکتا۔ ابتلا اور آزمائش کا ایک ایسا طویل مرحلہ درپیش ہے کہ گویا صدیوں پہ بھاری۔ ریاستِ مدینہ کے قیام کے داعی وزیرِاعظم پاکستان جناب عمران خان جب کہتے ہیں کہ حکومت کرنا آسان ہے تو انہیں خلیفہ دوئم کا یہ قول بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔ خلیفہ دوئم نے کہا تھا کہ دجلہ کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا پیاسا مر گیا تو یومِ آخر مجھے پوچھا جائے گا۔ حضرت! یہ حکومت کی مسند دراصل کانٹوں کی وہ سیج ہے کہ جو دنیا اور آخرت میں سوائے آزمائش کے اور کچھ بھی نہیں دیتی۔ خدارا حکومت کو آسان مت جانئیے کیونکہ بے پناہ معاشی مسائل میں گھری خلقِ خدا کی حالت بھوکے پیاسے کتوں سے بھی بدتر ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس