0
1
0
پگڈنڈی: عبدالرحمن رانا

پاکستانی ٹیم نے آج ایک با آسانی جیتا ہوا میچ پلیٹ میں رکھ کر انگلینڈ کے حوالے کر دیا.... پہلے محمد عامر کو باہر رکھ کر اور ٹیل اینڈ پر کوئی بڑا ہٹر رکھے بغیر ہی ٹیم گراونڈ میں اترانے کا مقصد کچھ یوں بھی سمجھ آتا ہے جیسے کہ قومی ٹیم کو پہلے سے ہی یقین تھا کہ آج ہارنے ہی جانا ہے. باولنگ سرے سے ہی فیل ہوئی پورے پچاس اور میں صرف 3 انگلش پلیئر آوٹ کر سکے اور آخری اوورز جہاں یارکر اور لائن اینڈ لینتھ پر بولنگ ہوتی ہے.

 وہاں پاکستان کی درگت دیکھنے والی تھی جو کہ دنیا میں بہترین بولنگ سائیڈ سمجھی جاتی ہے. بٹلر کا کھیل آخری  اوورز میں دیکھنے والا تھا جنھوں نے صرف 50 گیندوں پر 100 رنز جڑ کر میچ پاکستان کے ہاتھ سے پہلے ہی ہاف میں ایک طرف لے گئے. اپنی اننگز انہوں نے اشارے سے اپنی اولاد کے نام کی.  اس قدر فلیٹ وکٹ پر پہلے ٹاس جیت کر بیٹنگ نا کرنا بھی سمجھ سے بالاتر چیز لگی کیونکہ ہماری ٹیم تو سکور چیز کی ناکام ترین ٹیموں میں سے ایک ٹیم گردانی جاتی ہے جس کو پہلے ہی دنیا ان پرڈیکٹ ایبل (غیر متوقع) کہتی ہے اس کو ایسا چانس کیوں لینا پڑا. بیٹنگ سائیڈ آج کچھ اچھا کھیلی پر ایک بنا بنایا میچ انگلینڈ کو تھالی میں سجا کر دے دیا. اوپنر فخر آج چل پڑا سنچری بھی داغ ڈالی پر 150 نہیں کر پایا وجہ ایک باہر جاتی گیند سے غیر ضروری طور پر چھیڑ چھاڑ تھی یقین جانیے یہ موقع کسی اور ملک کے کھلاڑی کے پاس ہوتا تو وہ 200 بناتا یا روہت شرما کا ریکارڈ توڑنے کا سوچتا.

 پر خیر فخر کو کیا کہنا اس نے آج بہترین کھیل پیش کیا بہت جاندار شاٹ کے ساتھ آغاز ہی انہوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی پھر انہوں نے اپنا روایتی کھیل پیش کیا فلک شگاف چھکے بھی اور اوپننگ سٹارٹ بھی اچھا رہا. امام الحق نے ساتھ دیا پر قسمت نے آج ان کا ساتھ نہیں دیا. دوسرے نمبر پر آنے والے بابر اعظم کو اللہ کریم نے بے پناہ ٹیلنٹ سے نوازا ہے انہوں نے بھی فخر کا بلا چلتا دیکھ کر انکو ہی زیادہ کھیلایا اور 100 سکور سے زائد کی پاٹنرشپ دی حارث سہیل  کا آج دن نہیں تھا 14 رن بنا سکے. امیدوں کا محور آصف علی بس 50 پر ہی ہمت ہار گیا حالانکہ میچ کی پارٹی شروع ہی وہاں سے ہوئی تھی. ٹیم میں شامل 2 آل روانڈر اور ہارڈ ہٹر عماد وسیم اور فہیم اشرف 8 اور 3 سکور کر سکے جب ٹیم کو چھکوں کی سخت ضرورت تھی ایک اوور پچ بال پر آصف علی آسان سا کیچ تھما کر گھر چلے گئے اور ان کے پیچھے عماد وسیم صرف ایک چھکا لگا سکے فہیم اشرف نے تو اس کی زحمت بھی گوارا نہیں کی.

 ڈٹ کر کھڑا تھا دوسری جانب کپتان جس سے ایک چھکا نھی نہیں لگ سکا. آپ اندازہ کریں 5 اوور میں 50 رنز نہیں بن سکے اور کپتان جی دوسرے اینڈ پر سنگل ڈبل کے لیے بھاگتے رہے. اس موقع پر شاہد آفریدی، عبدالرزاق، مصباح الحق کی یاد ستاتی رہی جو اس طرح کے میچز کو چند گیندوں پر ہی بدل ڈالتے تھے. کپتان سرفراز حسرت کی تصویر بنے انگلش باولرز کے سامنے بس ایک دو رنز پر ہی اکتفا کرتے رہے اور میچ بنا کے انگلینڈ کی جھولی میں ڈال دیا. بہترین موقع تھا کہ پاکستان اپنے اوپر سے رنز چیز نا کرنے اور غیر متوقع ٹیم کا لیبل ہٹواتا. پر پاکستانی کپتان کی غیرت نے یہ قبول نا کیا بیچارے فخر کی محنت پر پانی ڈال کر ہستے ہوئے واپس ڈریسنگ روم کی راہ لی. اور ہم جیسے کرکٹ کے دیوانے نا جانے  کب تک یہ ہی سوچتے رہیں گے کہ اگر پاکستان جیت جاتا تو زیادہ سکور چیز کرنے کا اپنا منفرد ریکارڈ بنا لیتا پر خیر دیکھیے کب یہ دکھ جاتا ہے اور امید کرتے ہیں کہ پاکستان اگلے میچز میں انگلش ٹیم سے اسکا بدلہ ضرور لے گا. پاکستان زندہ باد

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس