0
1
0
سرِ دست:شہباز سعید آسی

سابق وزیر اعظم بدترین حالات میں بہترین سودے بازی کے ماہرسمجھے جاتے ہیں

سیاست کے بھی رنگ نرالے ہیں۔ابھی کچھ دن پہلے تک کہا جارہا تھا کہ شہباز شریف کی طرح نواز شریف بھی باہرچلیں جائیں گے لیکن نواز شریف تو اپنی مرضی سے واپس” اندر“ چلے گئے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں باہر بھیجنے والی ”خواہش“ کسی اور کی تھی۔اور اسی نوازشریف کو جسے خود اپنی مرضی سے گھر بھی جانے کی اجازت نہیں اس نے عوام کو گھروں سے باہر نکال کر ملکی سیاست کا رُخ ایک بار پھر موڑ دیا ہے۔

 اس گومگو کیفیت میں عوام کی توجہ وزیر اعظم عمران خان سے ہٹ کر نواز شریف کی جانب ہو گئی ہے۔یوں بھی نواز شریف کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بدترین حالات میں بہترین سودے بازی کے ماہر ہیں۔ چنانچہ وہ تجزیہ کار اور سوشل میڈیا ”چال باز“جو نواز شریف کی خاموشی پر بغلیں بجا رہے تھے،خاموش ہوچکے ہیں۔ کیونکہ انہیں بھی معلوم ہوچکا ہے کہ اب بہت جلدنواز شریف دوبارہ بولنا شروع کردیں گے۔اوردوسری جانب حکومت کی کارکردگی اتنی ہے کہ عوام بس صبر کئے بیٹھے ہیں،لیکن یہ صبر زیادہ دیر تک چلنے والا نہیں کیونکہ بجٹ آنے کے بعد عوام بلبلا اٹھیں گے اور اکتوبر تک قوم پرانا پاکستان واپس مانگ رہی ہوگی ۔اور اسی پوائنٹ کو نوازشریف بھی خوب سمجھتے ہیں۔

 اس لئے موجودہ حالات میں ان کیلئے ملک سے باہر جانے سے جیل میں رہنا زیادہ سود مند ہے۔لہٰذا وہ گھاٹے کا سودا ہرگز نہیں کررہے۔نواز شریف کے بیٹے ملک سے باہر ہیں۔اور وہ سمجھتے ہیں کہ اب گنوانے کو ان کے پاس زیادہ کچھ نہیں البتہ جیل جا کر وہ سیاسی طور پر(ن) لیگ کو دوبارہ زندہ کررہے ہیں۔اور دوسری صورت میں فرض کرلیں کہ جیل میں اگر ان کی طبیعت اچانک زیادہ بگڑ گئی تو اس کی ذمہ داری مکمل طور پر عمران خان حکومت پر جائے گی۔ اور یہ بھی سچ ثابت ہورہا ہے کہ مہنگائی نے جہاں حکومت کو پریشان کیا ہوا ہے وہیں (ن) لیگیوں کیلئے راحت کا باعث بن رہی ہے۔اور تو اورعوام پوچھنا شروع ہو گئے ہیں کہ اگر نواز شریف کو کرپشن پر سزا کے باوجود مہنگائی پر قابو نہیںپایا جا سکا تو اس سزا کا ہمیں (عوام) کوکیا فائدہ ہوا؟اور تو اوروزیر اعظم عمران خان بھی اس بات کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔

حالات و واقعات صاف بتا رہے ہیں کہ نواز شریف کا بیانیہ کسی حد تک کامیاب ہورہا ہے اس بات کے برعکس کہ عوام کو اب ان کے بیانیہ سے زیادہ اس مسیحا چاہئے جو ان کے دکھوں کو کم کرسکے۔غالباً عوام کے ذہن میں یہ بات جم چکی ہے کہ سب اچھا اب ممکن نہیں رہا لہٰذا اس برے سے دوبارہ کام چلایا جائے جس سے کچھ راحت تو ملے۔بادی النظر میںدیکھا جائے تو اگر نواز شریف کو خدا ناخواستہ کچھ ہوگیا تو اس مرتبہ پنجاب میں ویسی بے چینی پیدا ہو سکتی ہے جیسی بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بالخصوص سندھ میں ہوئی تھی۔ اس بات کے برعکس کہ پنجاب میں جلاﺅ گھیراﺅ کا امکان تونہیں لیکن جیسے سندھ میں بھٹو زندہ ہے، ویسے پنجاب میں نواز شریف اگلی کئی دہائیوں کے لئے زندہ رہ سکتا ہے۔ویسے بھی پنجاب میں مظلوم کا ساتھ دینے کی روایت پرانی ہے۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کے لئے ایک سیاہ دن ہو گا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس