0
1
0
قلم قرینہ : ساجد عمر گل

تقسیمِ ہند سے قبل تو سنا ہے کہ ٹرین سٹیشنوں اور بس اڈوں وغیرہ پر ہندو پانی اور مسلم پانی کی آوازیں لگا کرتی تھیں۔ بلاشبہ مذہبی منافرت کی یہ بھونڈی ترین شکل تھی۔ ہمارے ہاں ”اسلامک شہد“ اور ”مدنی کھجور“ کے علاوہ ”مکہ مدینہ فیبرک“ وغیرہ جیسے نام بھی کاروباری طور پر خوب برتے جاتے ہیں۔ صد حیف کہ ہم نے خدائی نعمتوں کو سب مخلوقِ خدا میں بٹی رہنے دینے کی بجائے انہیں بھی ”مسلمین“ کے لیے مخصوص کر لیا۔ اسلامک شہد کا صیغہ سن کر گمان ہوتا ہے گویا کوئی غیر مسلم شہد بھی ہو گا۔ ہمارے سندھ اور جنوبی پنجاب میں بہت سی بہترین پاکستانی کھجور پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح مکہ مدینہ میں تو کہیں کپڑا نہیں بُنا جاتا۔ پھر مکی مدنی فیبرک؟ چہ معانی دارد؟ ایسے تعصبات کی کاروباری حقیقتوں سے راقم کو گھن آتی ہے۔ رب العزت یقینا رب العالمین ہے اور اُس کی نعمتوں پر اُس کی تمام تر مخلوقات کے یکساں حقوق ہیں۔ لیکن ہم اسقدر محدودیت کے مارے ہوئے ہیں کہ ماضی کیطرح اب بھی پانی جیسی عظیم آسمانی نعمت کے پینے پلانے پر بھی جھگڑتے ہیں۔ مذاہب کی منافرت بھری تقسیم سے باہر نکل کر ہم اعلیٰ انسانی اوصاف کے حامل کب بنیں گے؟ خدا ہی جانے۔ کاش ہمیں بھی نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاکینڈا کیٹ لارل آرڈن جیسے ظرف مند رہنما اور عوام میسر آتے۔ کاش ہم اپنی ذات سے اُوپر اٹھ کر حشر اٹھا دینے کے لائق بن پاتے۔ خیر یہ جو ”جانے کب؟“ والی آہ ہوتی ہے یہ عملاً عرش تک کم ہی پہنچ پاتی ہے۔ عموماً زمین و آسمان اور انفس و آفاق کے درمیان مذید فغاں کا باعث بن کر کہیں لٹکتی ہی رہتی ہے۔ چنانچہ فی الحال اِن معاملات کا ذکر مختصر کرتے ہوئے بات کرتے ہیں مہمند ڈیم کے قیام پر۔ صد شکر کہ آخر کار جس کا سنگِ بنیاد رکھ ہی دیا گیا ہے۔ 

پچاس برس قبل اس ڈیم کی سٹڈی مکمل ہو چکی تھی مگر ماضی کی تمام حکومتوں کی مجرمانہ غفلت کے باعث یہ تب سے اب تک تشنہئ تعمیر ہی رہا۔ اب بھی قریباً پانچ برس کا عرصہ درکار ہے اس کے مکمل اور رُوبہ عمل ہونے میں۔ تکنیکی تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کثیر المقاصد مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے۔ ڈیم سے 800 میگاواٹ روزانہ سستی بجلی پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ 2.1 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت بھی حاصل ہو گی جس سے چارسدہ، مہمند اور خیبر پختونخواہ کے دیگر اضلاع اور ملحقہ علاقوں کے رہائشی مستفید ہوں گے۔ یہ منصوبہ تین ارب ڈالر سے زائد لاگت میں مکمل ہو گا۔ دورانِ تعمیر اور بعد ازاں یہ منصوبہ ہزاروں کی تعداد میں نوکریاں اور نئے ذرائع آمدن بھی پیدا کرے گا۔یعنی پاکستان مضبوط، مستحکم اور خوشحال ہو گا۔ 

یقینا یہ منصوبہ ملکی ترقی و سلامتی کیلئے ایک سنگِ میل کا درجہ رکھتا ہے۔ بد قسمتی سے کالاباغ ڈیم منصوبے کی طرح یہ بھی عرصہئ دراز تک مجرمانہ تعطل کا شکار رہا اور اب جاکے کچھ امید بنی ہے۔ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار بھی اس منصوبے کیلئے پیش پیش رہے۔ کاش وہ اپنے عدالتی فرائض میں بھی اسی طرح پیش پیش رہتے تو بہت کچھ زیر و زبر ہونے سے بچ رہتا۔ مہمند ڈیم کے سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی نمایاں دکھائی دیئے۔ کاش ایسی عسکری اور سیاسی تال میل پاکستان کو ہمیشہ سے میسر ہوتی تو آج پاکستان ترقی کی شاہراہ پر کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہوتا۔ بہرحال دیر آید درست آید۔ 

آخر میں ایک اور کاش۔ کاش ہمیں یہ شعور آجائے کہ ہم قوم سلامتی کے تمام منصوبوں کو علاقائی اور لسانی تعصباتی تقسیم سے بچا پائیں اور اِس منصوبے کو بھی سندھی پانی، پنجابی پانی یا خیبر پختونخواہی پانی مت گردانیں۔ یہ پاکستانی پانی ہے اِسے سب مل کر پئیں اور پورے پاکستان کو سیراب ہونے دیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس