تحریر: سعید آسی

وزیراعظم عمران کا یواین سیکرٹری جنرل سے کشمیریوں کا قتل عام رکوانے کا تقاضا اور وزیراعظم آزاد کشمیر کا چشم کشا بیان

وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوئٹرس سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوجوں کے مظالم سے آگاہ کیا ہے اور اس امر کا تقاضا کیا ہے کہ اقوام متحدہ کشمیریوں کا قتل عام رکوائے۔ گزشتہ روز انہوں نے یواین سیکرٹری جنرل سے ٹیلی فونک گفتگو میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خاتمہ کیلئے کردار ادا کرے کیونکہ بھارتی فورسز مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث اور کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہی ہیں۔ اس صورتحال میں اقوام متحدہ کو کشمیریوں کا قتل عام رکوانے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسی طرح دفتر خارجہ پاکستان نے بھی بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی اداروں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے ریاستی اداروں کے بدترین مظالم کی تحقیقات کرنے کی اجازت دے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اس سلسلہ میں گزشتہ روز اپنی پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری عوام کی نسل کشی کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ بھارت طاقت کے زور پر مظلوم کشمیریوں کی آواز دبا نہیں سکتا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی نئی لہر اور درجنوں کشمیریوں کی شہادت پر پانچ فروری کو لندن میں پاکستان کی جانب سے باضابطہ احتجاج کا اعلان کیا اور کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی میں بے گناہ کشمیریوں پر اپنے جاری مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری کی صورتحال کی نگرانی کرنے دے۔

پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے سے متعلق بھارتی ایجنڈا تو قیام پاکستان کے وقت ہی متعصب ہندو لیڈرشپ نے طے کرلیا تھا۔ اس ایجنڈے کے تحت ہی بھارت نے تقسیم ہند کے بعد خودمختار ریاست جموں و کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے دیا اور اسکے برعکس کشمیر پر خود ہی تنازعہ کھڑا کرکے اسکے تصفیہ کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع کرلیا جبکہ اقوام متحدہ کا کوئی فیصلہ آنے سے پہلے ہی بھارتی وزیراعظم نہرو نے جموں و کشمیر میں زبردستی اپنی افواج داخل کرکے اسکے غالب حصے پر اپنا تسلط جمالیا اور اس پر بھارتی اٹوٹ انگ کی رٹ شروع کردی۔ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے دینے کا مقصد ہی اس نوتشکیل شدہ مسلم ریاست کی خودمختاری اور سلامتی کمزور کرنا تھا کیونکہ بھارتی لیڈر شپ کا گمان یہی تھا کہ وہ کشمیر کے راستے سے پاکستان جانیوالے دریائوں کا پانی روک کر اسکی زرخیز دھرتی کو صحرائوں میں تبدیل کردینگے اور اس طرح بھوک سے مرتا اور پیاس سے بلکتا پاکستان مجبور ہو کر اپنی بقاء کی خاطر واپس ہندوستان کی گود میں آگرے گا تاہم بانیٔ پاکستان قائداعظم نے نوتشکیل شدہ ملک خداداد کو اقوام عالم میں نمایاں اور سرخرو کرنے کی اپنی کمٹمنٹ کی بنیاد پر پاکستان کے واپس بھارت کی گود میں جانے کے ہندو لیڈر شپ کے خواب شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیئے تاہم اس ملک خداداد کے انگریز فوجی سربراہ جنرل ڈگلس گریسی نے قائداعظم کے احکام کی تعمیل سے انکار کرکے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی فوجوں کا قبضہ اور تسلط برقرار رکھنے کا موقع ضرور فراہم کردیا۔ اگر جنرل گریسی قائداعظم کے احکام کے تابع پاکستان کی افواج کشمیر میں داخل کرکے وہاں سے غاصب بھارتی فوجوں کو مار بھگاتے جیسا کہ بعدازاں چین نے بھارتی فوجوں کو ریاست اروناچل پردیش سے مار بھگایا تھا تو کشمیر کا کبھی تنازعہ ہی پیدا نہ ہوتا اور نہ ہی مکار ہندو لیڈر شپ کو کشمیر کو بھارتی اٹوٹ انگ قرار دینے کا موقع ملتا۔ جنرل گریسی کو یقیناً اپنی برطانوی ہائی کمان کے علاوہ بھارتی آشیرباد بھی حاصل تھی اس لئے اس نے پاکستان کی بنیاد کمزور کرنے کی بھارتی سازشوں کو کشمیر پر بھارتی فوجوں کے تسلط کا موقع فراہم کرکے تقویت پہنچائی جبکہ اس سے پہلے برطانوی وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن اور ہندو لیڈر شپ نے باہمی گٹھ جوڑ کے تحت پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جس کے تحت پہلے امرتسر سمیت پاکستان کے حصے میں آنیوالے زرخیز اور صنعتی علاقے اس سے کاٹ دیئے اور پھر پاکستان کے وسائل میں بھی نمایاں کمی کردی۔ اسکے باوجود ایک آزاد اور خودمختار مملکت کی حیثیت سے پاکستان کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا قائداعظم کی فہم و بصیرت اور تعمیر وطن کیلئے انکی لگن سے ہی ممکن ہوا تھا جبکہ ہندو لیڈر شپ نے کشمیر پر اپنا فوجی تسلط برقرار رکھنے کی خاطر وہاں نہتے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ دراز کر دیا تاہم کشمیری عوام نے‘ جو پاکستان کے ساتھ الحاق کی لگن سے سرشار تھے بھارتی فوجوں کے آگے سینہ سپر ہو کر بھارتی عزائم ناکام بنانے کا پرعزم سلسلہ شروع کر دیا۔

یہ طرفہ تماشا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ میں کشمیر کا کیس خود لے کر گیا تاہم جب یواین جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے کشمیریوں کا حق خودارادیت تسلیم کیا اور بھارت کو مقبوضہ وادی میں استصواب کے اہتمام کی ہدایت کی تو بھارت یواین قراردادوں سے ہی منحرف ہوگیا اور پھر اپنے آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ وادی کو باقاعدہ اپنی ریاست کا درجہ دے دیا۔ کشمیری عوام نے اس بھارتی سازش کی بھی سخت مزاحمت کی اور مقبوضہ وادی کی کٹھ پتلی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کرکے اقوام عالم میں بھارتی عزائم اجاگر کرنا شروع کر دیئے۔ بھارت نے اس پر نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوجوں کا تسلط مضبوط بنایا اور نہتے کشمیریوں پر ہر طرح کے مظالم کی اجازت دی بلکہ پاکستان پر بھی 65ء کی جنگ مسلط کرکے کشمیریوں کی حمایت میں اسکی آواز دبانے کی کوشش کی مگر پاکستانی افواج نے پوری قوم کی حمایت کے ذریعے تمام بھارتی توسیع پسندانہ منصوبے ناکام بنادیئے۔ 1971ء میں بھارت نے پاکستان پر دوبارہ جنگ مسلط کی اور اپنی پروردہ عسکری تنظیم مکتی باہنی کے ذریعے مشرقی پاکستان میں ’’پاکستان توڑو‘‘ مسلح تحریک چلا کر بنگالیوں سے پاکستانی افواج کی مزاحمت کرائی اور اس طرح وہ سقوط ڈھاکہ کے تحت پاکستان کو دولخت کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج بھی مکتی باہنی کی پاکستان توڑو تحریک میں عملاً حصہ لینے کا فخریہ اعلان کرتے ہیں جبکہ اب انہوں نے بطور وزیراعظم باقیماندہ پاکستان کی سلامتی کمزور کرنا بھی اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا ہے۔ اسی کے تحت انہوں نے اپنے اقتدار کے آغاز ہی میں پاکستان کے ساتھ کنٹرول لائن پر سرحدی کشیدگی بڑھا ئی اور بھارتی فوجوں نے کنٹرول لائن پر پاکستان کی چیک پوسٹوں اور ملحقہ سول آبادیوں پر بلااشتعال اور یکطرفہ فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کرادیا۔ اب انکے اقتدار کی میعاد پوری ہونے کو ہے مگر انہوں نے جہاں پاکستان بھارت کشیدگی بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی وہیں انہوں نے گزشتہ تین سال سے مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی فوجوں کو اسرائیلی ساختہ پیلٹ گنوں اور دوسرے جدید اسلحہ سے لیس کرکے نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی راہ پر لگا رکھا ہے جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندوں اور اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین سمیت انسانی حقوق کی کسی عالمی یا علاقائی تنظیم کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے مظالم کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ گزشتہ دور حکومت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک وفد نے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے دوران وہاں اجتماعی قبروں کی نشاندہی کی تھی جو بھارتی فوجوں کے ہاتھوں شہید ہونیوالے کشمیریوں کی تھیں۔ انکی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ انہیں الگ الگ قبر میں دفنانا ممکن نہیں تھا چنانچہ ایک ایک قبر میں بیسیوں کشمیریوں کو دفن کرکے شرف انسانیت کی بھی تذلیل کی گئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے ذریعے یہ بھارتی مظالم اقوام عالم میں اجاگر ہوئے تو دنیا کو اصل مکروہ بھارتی چہرے سے آگاہی ہوئی۔ یہ حقیقت ہے کہ تحریک آزادیٔ کشمیر کے دوران بھارتی فوجوں نے 1947ء سے اب تک لاکھوں کشمیریوں کو شہید کرکے ان میں جذبہ حریت دبانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ یہی بھارتی چہرہ گزشتہ روز صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ لاہور میں منعقدہ کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید بے نقاب کیا ہے اور اقوام عالم کو اس چشم کشا حقیقت سے آگاہ کیا ہے کہ بھارتی فوجوں کے مظالم برداشت کرتے ہوئے 1947ء سے اب تک پانچ لاکھ سے زائد کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔ انکے بقول بھارتی فوجوں کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں مسلسل ہولوکاسٹ ہو رہا ہے اس لئے عالمی قیادتیں بھارتی جنونیت روکنے کیلئے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں اور بھارت کو کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے پر مجبور کریں۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی مسئلہ کشمیر کے یواین قراردادوں کے مطابق حل کے ساتھ ہی مشروط ہے مگر بھارت اس مسئلہ کے دوطرفہ مذاکرات کے ذریعہ حل پر آمادہ ہونے کے بجائے کنٹرول لائن پر کشیدگی اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم بڑھا رہا ہے جبکہ اسکے توسیع پسندانہ عزائم اب پاکستان سے ملحقہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات تک بھی پہنچ گئے ہیں جنہیں وہ پاکستان کے مقبوضہ علاقے قرار دے رہا ہے اور اس تناظر میں وہ پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے کی منصوبہ بندی کرتا بھی نظر آرہا ہے۔ اسی بنیاد پر وہ پاکستان کے ساتھ ہر سطح کے مذاکرات کی میز الٹاتا ہے اور علاقائی امن کیلئے پاکستان کی بے لوث کوششیں سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔


یہ خوش آئند امر ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی کشمیر پر پاکستان کے بہترین مفاد‘ اسکی سلامتی اور عوام کی امنگوں کے علاوہ کشمیریوں کی قربانیوں کو پیش نظر رکھ کر کشمیر پر ٹھوس اور جاندار موقف اختیار کیا‘ بھارت کو دوطرفہ مذاکرات کی دعوت دی اور کرتارپور سرحد کھولنے میں پیش رفت کی جس پر مودی سرکار کی بلی تھیلے سے باہر آگئی اور اس نے پاکستان کی سلامتی کیخلاف گیدڑ بھبکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔

کشمیری عوام نے اپنی طویل اور صبرآزما جدوجہد میں اپنے لاکھوں پیاروں کی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اپنی جدوجہد آزادی جس نہج پر پہنچادی ہے جس کیلئے آج انہیں پاکستان کی حکومت اور عوام کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے‘ انہیں اب اپنی اس جدوجہد کے بارآور ہونے میں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑیگا۔ بھارت اپنے مظالم کی بنیاد پر آج اقوام عالم کے سخت دبائو میں ہے اس لئے اسکے پاس کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہے گا۔ کشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی ہی ان کا مقدر ہے جو اب نوشتۂ دیوار ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس