0
0
0
تحریر: سعید آسی

وزیراعظم عمران خان نے امریکہ کو دوٹوک الفاظ میں باور کرایا ہے کہ پاکستان کرائے پر لی ہوئی بندوق نہیں‘ پاکستان امریکہ کی جنگ بہت لڑچکا‘ اب ہم وہ کرینگے جو ملک کے مفاد میں بہتر ہوگا۔ اس سلسلہ میں امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے مزید باور کرایا کہ پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہیں نہیں‘ ڈرون حملے ہماری خودمختاری کیخلاف ہیں‘ کون سا ملک اپنے اتحادی پر بم پھینکتا ہے۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر باقاعدہ تعلقات چاہتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم امریکہ کے ساتھ چین جیسے تعلقات چاہتے ہیں۔ پاکستان نے امریکہ کی جنگ لڑتے ہوئے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ انکے بقول انہوں نے اقتدار میں آکر طالبان کی پناہ گاہوں سے متعلق امریکی الزامات پر سکیورٹی فورسز سے بریفنگ لی اور امریکہ سے بھی کہا کہ وہ ان پناہ گاہوں کی نشاندہی کرے مگر امریکہ پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا محض الزام ہی لگاتا ہے۔ اس نے کبھی اس کا ثبوت فراہم نہیں کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے ٹویٹ کا انہیں جواب دینے کا مقصد ریکارڈ درست کرنا تھا کہ ٹرمپ کو تاریخی حقائق کا علم ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ القاعدہ افغانستان میں ہے‘ اسکے باوجود پاکستان کو کہا گیا کہ وہ امریکی جنگ کا حصہ بنے۔ انکے بقول پاکستان میں انکے سمیت بہت سے لوگوں نے امریکی جنگ کی مخالفت کی۔ اگر ہم اس جنگ میں نہ پڑتے تو خود کو تباہی سے بچا سکتے تھے۔ اس جنگ میں شامل ہونے کی وجہ سے ہماری معیشت کو 150 بلین ڈالر کا نقصان پہنچا اور پاکستان نے80 ہزار سے زیادہ جانیں گنوائیں۔ ہم امریکہ کے ساتھ ایسے تعلقات نہیں چاہتے کہ وہ ہمیں بطور ہتھیار استعمال کرے۔ پاکستان امریکہ کی بندوق نہیں بنے گا۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارتی برسراقتدار جماعت بی جے پی پاکستان مخالف اور مسلم دشمن ہے۔ وہاں عام انتخابات ہونیوالے ہیں اسی لئے ہماری دوستانہ کاوشوں کو رد کیا جارہا ہے۔ ہم نے دوستانہ کاوشوں کے تحت ہی کرتارپور پر ویزہ فری راہداری کھولی‘ ہم توقع کرتے ہیں کہ بھارتی انتخابات کے بعد دوطرفہ مذاکرات کا عمل شروع کر سکیں گے۔ انکے بقول نظریہ کمزور ہو تو قوم ختم ہو جاتی ہے۔ آج بھارت میں مسلمانوں کا کوئی قائد نہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ نائن الیون کے بعد افغان جنگ میں امریکی فرنٹ لائن اتحادی بننا اس وقت کی جرنیلی حکومت کا ملکی اور قومی مفادات کے منافی فیصلہ تھا۔ مشرف نے قومی ہزیمت میں ڈوبا یہ فیصلہ کرتے وقت قوم کو اعتماد میں لینا بھی ضروری نہ سمجھا اور ایک جرنیلی آمر کی حیثیت سے محض اپنے یکاو تنہاء اقتدار کو بچانے کی خاطر پینٹاگون کی ایک ٹیلی فونک کال پر ایک خودمختار ایٹمی ملک کا سر جھکا دیا اور ملک و قوم کو پرائی جنگ کی آگ میں جھونک دیا۔ انہوں نے نیٹو فورسز کو لاجسٹک معاونت فراہم کی جس کے تحت پاکستان کے راستے سے افغانستان میں نیٹو فورسز کو اسلحہ‘ گولہ بارود اور خوراک و ادویات کی سپلائی فراہم ہونا شروع ہوئی اور پھر پاکستان کی خودمختاری کو مزید بٹہ لگاتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے تین ایئربیسز بھی امریکہ کے حوالے کردیئے جہاں سے نیٹو فوجوں کے جہاز اور ہیلی کاپٹرز اڑ کر افغانستان میں مزاحمت کار طالبان ہی نہیں‘ معصوم بچوں‘ خواتین اور دوسرے عام شہریوں پر بھی بمباری کرکے بے گناہ انسانوں کا قتل عام کرتے رہے جبکہ ہسپتال‘ تعلیمی ادارے‘ مساجد اور دوسرے پبلک مقامات بھی اس بمباری کی زد میں آکر ادھڑتے اجڑتے رہے۔ چنانچہ ہماری فرنٹ لائن اتحادی کے کردار نے ہی نیٹو فورسز کو افغانستان کا تورابورا بنانے کی سہولت فراہم کی۔ اسکے بدلے امریکہ کی جانب سے ہم پر ڈالروں کی برسات تو نہ کی گئی البتہ یہ طعنہ ضرور سننے کو مل گیا کہ پاکستانی تو ایک ڈالر کے عوض اپنی ماں تک کو فروخت کر دیتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ہماری غیرت ملی پر ایک تازیانہ تھا مگر جرنیلی آمر نے ’’قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند‘‘ کے مصداق ہزیمتوں کی انتہاء کر دی۔ پاکستان کے ایٹمی ہیرو ڈاکٹر قدیر خان کو امریکہ کے کہنے پر راندۂ درگاہ بنایا اور پھر پاکستانیوں کو چن چن کر امریکہ کے حوالے کرنا شروع کر دیا۔ یہی پاکستانی مسنگ پرسنز میں شمار ہوتے ہیں جن کے لواحقین آج بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور اقتدار و انصاف کے ایوانوں میں ٹکریں مار رہے ہیں۔

امریکہ نے نہ صرف یہ کہ ہمارے فرنٹ لائن اتحادی کے کردار کا کچھ صلہ نہ دیا بلکہ اس جنگ کے باعث ہمارے ہونیوالے نقصانات کی تلافی کیلئے نیٹو سپورٹ فنڈ سے منظور کئے گئے ساڑھے بارہ ارب ڈالر بھی روک لئے۔ اس میں سے صرف تین ارب ڈالر ہم پر کڑی شرائط عائد کرکے اور حیلے بہانے سے مطعون کرکے حقیر قسطوں میں ادا کئے اور ساتھ ہی ڈومور کے تقاضے بھی بڑھا دیئے گئے جس میں ہم پر بداعتمادی کے راستے ڈھونڈے گئے اور ہماری سرزمین پر مختلف فضائی اور زمینی کارروائیوں کے علاوہ ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا جس کے ردعمل میں طالبان اور دوسرے انتہاء پسند عناصر نے پاکستان میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں کا سلسلہ شروع کیا جن میں بطور خاص سکیورٹی فورسز کے اداروں‘ افسران‘ اہلکاروں‘ سیاست دانوں اور پبلک مقامات بشمول مارکیٹوں کو ہدف بنایا جانے لگا۔ اس طرح ہمیں افغان جنگ میں امریکی فرنٹ لائن اتحادی ہونے کا خمیازہ اپنے 80 ہزار شہریوں کی لاشیں اٹھا کر اور کئی ارب ڈالر کے مالی نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے انٹرویو میں اس امر کی ہی نشاندہی کی ہے۔

ھر طرفہ تماشا ہے کہ امریکہ نے اپنے اس فرنٹ لائن اتحادی کے دیرینہ مکار دشمن بھارت کو اپنا فطری اتحادی بنا کر اسکی سرپرستی شروع کر دی اور اسکے ساتھ جنگی‘ دفاعی تعاون اور ایٹمی و روایتی ہتھیاروں کی فراہمی کے متعدد معاہدے بھی کرلئے۔ اس سے ہماری سلامتی کے درپے اس دشمن بھارت کے حوصلے مزید بلند ہوئے جس نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم بڑھانے کے ساتھ ساتھ کنٹرول لائن پر ہمارے ساتھ سرحدی کشیدگی بھی انتہاء تک پہنچا دی اور ہمیں اعلانیہ سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جانے لگیں جبکہ پاکستان کے اندر سرجیکل سٹرائیکس کی بڑ بھی ماری جانے لگی۔ اسکے علاوہ بھارت نے ہماری اندرونی کمزوریوں اور سیاسی عدم استحکام سے فائدہ اٹھا کر یہاں دہشت گردی کی سنگین وارداتوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا جس کیلئے اسے افغان سرحد سے پاکستان کے اندر اپنے دہشت گرد بھجوانے کی سہولت ملی۔ اس طرح ہمیں ملک کے اندر بھی دہشت گردی کی جنگ لڑنا پڑی جبکہ امریکی ڈرون حملوں اور بھارتی دہشت گردی کا نشانہ بھی ہمارے معصوم عوام بننے لگے۔

اگر پاکستان کرائے کا قاتل بن کر امریکی مفادات کی جنگ میں اسکے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا نہ کرتا تو گزشتہ دہائی سے اب تک ملک و قوم کا جو شیرازہ بکھرا ہے‘ اسکی کبھی نوبت نہ آتی۔ حد تو یہ ہے کہ بھارتی جارحیت اور جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کیخلاف اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اور علاقائی فورمز پر پیش کئے جانیوالے اپنے کیس کی سب سے زیادہ مخالفت کا ہمیں امریکہ کی جانب سے ہی سامنا کرنا پڑا جس نے بھارت کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت دلوانے اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بنوانے کی بھی بھرپور کوشش کی تاہم ہمارے بے لوث اور پائیدار دوست چین نے ہماری سلامتی کیخلاف ہر امریکی کوشش کو ہر عالمی اور علاقائی فورم پر ناکام بنایا۔ اس تناظر میں امریکہ کے مقابل چین بلاشبہ ہمارا مخلص اور قابل بھروسہ دوست ثابت ہوا ہے جس نے ہمارے ساتھ راہداری منصوبے (سی پیک) کا آغاز کرکے ہماری معیشت کو استحکام دینے اور ہمارے لئے علاقائی اور عالمی منڈیوں کے راستے کھولنے کا بھی اہتمام کیا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے بھی بطور اپوزیشن لیڈر پاکستان کے امریکی فرنٹ لائن اتحادی والے کردار کی مخالفت کرتے اور اسے ملکی و قومی مفادات کے منافی قرار دیتے رہے ہیں۔ وہ امریکی ڈرون حملوں کے بھی سخت مخالف رہے جبکہ سلالہ چیک پوسٹوں پر امریکی گن شپ ہیلی کاپٹروں کے حملے کے بعد انہوں نے نیٹو فورسز کیلئے پاکستان کے اندر سے افغانستان میں سپلائی روکنے کی بھی مہم چلائی اور اس مقصد کیلئے پی ٹی آئی کا جلوس لے کر پاکستان افغان سرحد کے قریب جا پہنچے اور کئی دن تک سپلائی روکے رکھی۔ وہ اس تناظر میں امریکہ کے معاملہ میں ملکی اور قومی مفادات کی عکاس قومی خارجہ پالیسی کے بھی متقاضی رہے۔ چنانچہ اب بطور وزیراعظم انہوں نے پاکستان کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ اور مودی سرکار کو قومی مفادات و جذبات کی عکاسی کرنیوالا مسکت جواب دیکر درحقیقت پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ یقیناً ملک کی سیاست میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ بھارت کے علاوہ امریکہ کو بھی حکومت کی سطح پر باضابطہ طور پر ٹھوس جواب دیا گیا ہے اور اسکے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں اپنی قومی خارجہ پالیسی کی سمت درست کرنے کا بھی مضبوط عندیہ دیا گیا ہے۔ وزیراعظم سے یہی توقع ہے کہ وہ امریکہ اور بھارت کے معاملہ میں قومی جذبات کی عکاسی اور ملکی مفادات کی ترجمانی کرنیوالے اپنے موقف پر نہ صرف قائم رہیں گے بلکہ عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے قومی خارجہ پالیسی کی سمت بھی درست کرائینگے جس کے بعد کسی کو ہماری جانب میلی آنکھ سے دیکھنے اور ہمیں اپنا زرخرید غلام سمجھ کر ڈومور کے تقاضے کرنے کی جرأت نہیں ہوگی۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس