تحریر: سعید آسی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کیخلاف نئی ہرزہ سرائی کرتے ہوئے گزشتہ روز تقسیم ہند کے تاریخی حقائق کو بھی مسخ کردیا اور درفنطنی چھوڑی کہ 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت کرتارپور کو پاکستان کے حوالے کرنا کانگرس کی بہت بڑی غلطی تھی۔ انہوں نے راجستھان میں حکمران بی جے پی کی انتخابی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے کانگرس کو زیر کرنے کیلئے یہ کٹ حجتی پیش کی کہ 1947ء میں کانگرسی رہنمائوں کی وجہ سے کرتارپور پاکستان کے حصے میں چلا گیا۔ انکے بقول کانگرس کی 70 سال پر محیط غلطیوں کو ٹھیک کرنا میری قسمت میں لکھا تھا۔ ہمیں کانگرس سے سوال کرنا چاہیے کہ انہوں نے کرتارپور پاکستان کے پاس کیوں جانے دیا۔ انکے خیال میں کانگرس نے سکھ کمیونٹی کیلئے باباگرونانک کی اہمیت کو جانا ہی نہیں تھا۔ بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کھولنے اور سکھ برادری کا اعتماد حاصل کرنے پر بوکھلاہٹ کا شکار بھارتی وزیراعظم نے اپنی ہرزہ سرائی سے کانگرس کی قیادت اور بھارت کے بانی کہلائے جانیوالے مہاتما گاندھی کو بھی نہیں بخشا۔ تاریخ سے نابلد مودی کا مزید کہنا تھا کہ تقسیم ہند کے بعد کانگرس کی حکومتوں نے بھی 70 برسوں میں کرتارپور تک بھارت کی رسائی کیلئے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے یہ بڑ بھی ماری کہ آج کرتارپور راہداری کھل گئی ہے تو یہ بی جے پی کو ملنے والی عوامی حمایت کا نتیجہ ہے۔

یہ مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ ہندوستان پر مسلمان بادشاہوں کی ہزار سالہ حکمرانی اور اپنی ہزار سالہ غلامی پر جلنے کڑھنے والے ہندو بنیاء کے مسلمانوں کے ساتھ پرلے درجے کے تعصب نے ہی ہندوستان میں دو قومی نظریے‘ تحریک پاکستان‘ تقسیم ہند اور قیام پاکستان کی راہ ہموار کی تھی۔ اس وقت متعصب ہندو کی ترجمانی اور نمائندگی کرنیوالے تمام ہندو لیڈران کانگرس ہی کے پلیٹ فارم پر موجود تھے جو ہندوستان میں استحصالی ساہوکارانہ نظام کے موجد اور ہندو انتہاء پسندی کو فروغ دینے میں پیش پیش تھے۔ انہوں نے ہی غیرمنقسم ہندوستان میں مسلمانوں پر ملازمتوں کے دروازے بند کئے‘ ان کا اقتصادی استحصال کیا اور ان کیلئے آزادی کے ساتھ مذہبی عبادات کرنا بھی ناممکن بنا دیا۔ ان ہندو لیڈران کی شہہ پر ہی گائے کی قربانی کرنے اور اس کا گوشت کھانے والے مسلمانوں کے قتل عام کا سلسلہ شروع ہوا اور ہندوستان میں ان کیلئے آزادی اور آبرومندی کے ساتھ زندگی گزارنا عملاً ناممکن بنادیا گیا۔ چنانچہ جبر و گھٹن کے اس ماحول میں برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں اپنے لئے ایک الگ خطۂ ارضی کے حصول کی سوچ پیدا ہوئی جس کیلئے انہیں علامہ اقبال اور قائداعظم محمد جناح کی شکل میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر بااصول‘ باوقار اور بے بدل قیادتیں میسر آئیں۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے قائد کی حیثیت سے علامہ اقبال نے اپنے خطبۂ الٰہ آباد میں مسلمانوں کے مجوزہ الگ خطے کے خدوخال اجاگر کئے اور واضح کیا کہ ہندو کے تعصب کے باعث مسلمانوں کا انکے ساتھ گزارا ممکن نہیں۔ انکے انتقال کے بعد قائداعظم محمدعلی جناح نے جو علامہ اقبال کے تحرک پر ہی جلاوطنی ترک کرکے برطانیہ سے ہندوستان واپس آئے تھے‘ علامہ اقبال کے خطبہ الٰہ آباد کو گائیڈ لائن بنا کر آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی اور اسکے پلیٹ فارم پر انگریز اور ہندو سے آزادی کی تحریک کا آغاز کیا جو 23؍ مارچ 1940ء کی قرارداد لاہور کے بعد تحریک پاکستان کے قالب میں ڈھلی جس کیلئے انہوں نے دو قومی نظریہ کو بنیاد بنایا اور باور کرایا کہ مسلمانوں اور ہندوئوں کا مذہب ہی نہیں تاریخ اور ثقافت بھی الگ الگ ہے۔ ہندو مسلمانوں کا اقتصادی استحصال ہی نہیں کررہا بلکہ انکے آزادی کے ساتھ عبادات کے راستے بھی مسدود کرچکا ہے اس لئے برصغیر کے مسلمانوں کا متعصب ہندو کے ساتھ گزارا ممکن ہی نہیں ہے۔ جب انہوں نے اسی فلسفہ کے تحت انگریز اور ہندو سے نجات کی تحریک کا آغاز کیا تو متعصب ہندو پریس بھی ان کیخلاف زہر اگلنے لگا جس کے توڑ کیلئے قائداعظم نے 23؍ مارچ 1940ء کو منٹوپارک لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن پنجاب کے صدر حمید نظامی کو مسلمانوں اور مسلم لیگ کا ترجمان اخبار نکالنے کا حکم دیا جس کی تعمیل کرتے ہوئے حمید نظامی نے اسی وقت پندرہ روزہ ’’نوائے وقت‘‘ کے اجراء کا اعلان کردیا جسے 1942ء میں روزنامہ کے قالب میں ڈھالا گیا چنانچہ اس اخبار نے جہاں متعصب ہندو پریس کا مقابلہ کیا وہیں تحریک پاکستان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ جب قائداعظم کی زیرقیادت تحریک پاکستان کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب گامزن نظر آنے لگی اور قیام پاکستان کے خدوخال نمایاں ہونے لگے تو شکست خوردہ ہندو بنیاء لیڈر شپ نے جن میں مہاتما گاندھی اور نہرو پیش پیش تھے‘ کانگرس کے پلیٹ فارم پر نئی سازشوں کا سلسلہ شروع کیا اور برطانوی وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن کے ساتھ سازباز کرکے تشکیل پاکستان کو ناممکن بنانے کیلئے تحریک پاکستان کی راہ میں روڑے اٹکانا شروع کر دیئے تاہم برصغیر کے مسلمانوں کی مدد و حمایت سے قائداعظم نے تحریک پاکستان اس نہج پر پہنچا دی کہ ہندوستان چھوڑ کر واپس جانے کا فیصلہ کرنیوالے برطانوی سامراج کیلئے تحریک پاکستان میں شامل مسلمانوں کو نظرانداز کرنا ممکن نہ رہا۔ چنانچہ تخت برطانیہ نے آل انڈیا مسلم لیگ کے دبائو پر ہندوستان کو آزاد کرنے کے ساتھ ساتھ اسے ہندو اور مسلمانوں کے الگ الگے خطے میں تقسیم کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا جس کیلئے باضابطہ طور پر ایک بائونڈری کمیشن تشکیل پایا اور پھر مسلمانوں اور ہندوئوں کے نمائندوں کی مشاورت سے تقسیم ہند کا فارمولا طے کیا گیا جس کے تحت بائونڈری کمیشن کو ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں کے تعین کی ذمہ داری تفویض کی گئی۔

تقسیم ہند کے فارمولے کی بنیاد پر تحصیل فاضلکا سے امرتسر تک کے علاقے بھی پاکستان کا حصہ بننے تھے جہاں ہندوئوں کی آبادی کم اور سکھوں اور مسلمانوں کی آبادی ایک دوسرے کے مساوی تھی۔ اسی طرح مسلم اکثریتی آبادی کی بنیاد پر خودمختار ریاست کشمیر کا بھی پاکستان کے ساتھ الحاق ہونا تھا اور ریاست حیدرآباد دکن کا فیصلہ بھی وہاں کی اکثریتی آبادی کی بنیاد پر ہونا تھا۔ اول تو ہندو لیڈر شپ کو تقسیم ہند قبول ہی نہیں تھی کیونکہ اس سے انکے اکھنڈ بھارت کے خواب چکناچور ہوتے تھے تاہم جب انہیں پاکستان کی تشکیل نوشتۂ دیوار نظر آنے لگی تو انہوں نے وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن سے ملی بھگت کرکے تقسیم ہند کے فارمولے میں نقب لگانا شروع کردی اور بائونڈری کمیشن کی جانب سے متعین کی گئی سرحدوں میں ہیرپھیر کا آغاز کردیا تاکہ پاکستان قائم ہو تو اتنا کمزور اور بے بس ہو کہ اس کیلئے ایک آزاد اور خودمختار مملکت کی حیثیت سے اپنے پائوں پر کھڑا رہنا ناممکن ہوجائے۔ اسی سازش کی بنیاد پر نہرو نے بڑ ماری تھی کہ پاکستان چھ ماہ تک بھی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا اور بے بس ہو کر واپس ہماری جھولی میں آگرے گا۔ اس سازش کے تحت ہندو لیڈر شپ کی ملی بھگت سے وائسرائے ہند نے سرکاری خزانے اور وسائل کی تقسیم میں بھی پاکستان کیخلاف ڈنڈی ماری اور عملاً خالی خزانہ پاکستان کے حوالے کیا جبکہ پاکستان کو وسائل بھی اتنے کم میسر آئے کہ سرکاری فائلوں میں کاغذات لگانے کیلئے سوئی دھاگہ تک میسر نہیں تھا اور ابتداء میں سرکنڈوں کے کانٹوں کے ذریعے فائلوں میں کاغذات لگائے گئے۔

ایسا ہی ہاتھ پاکستان کے حصے میں آنیوالے ہندوستان کے علاقوں پر بھی مارا گیا اور سکھوں کے لیڈر کو ترغیبات دیکر انہیں پاکستان کا حصہ نہ بننے پر قائل کرلیا گیا۔ اس طرح پاکستان میں آنیوالے پورے امرتسر کو اس سے کاٹ دیا گیا چنانچہ جب سکھوں کے مذہبی پیشوا باباگرونانک کا گوردوارہ پاکستان کے حصے میں آگیا تو ہندو لیڈر شپ نے ایک گھنائونی سازش کے تحت سکھوں کو تقسیم ہند کیخلاف بھڑکایا اور ان سے پاکستان ہجرت کرنیوالے مسلمانوں کے قافلوں پر بلوئوں اور انکے گھروں کی لوٹ مار کا سلسلہ شروع کرادیا۔ اس غدر میں لاکھوں مسلمان شہید ہوئے جبکہ ہزاروں مسلمان خواتین کی جنونی سکھوں اور ہندوئوں نے عصمت دری کی جو تقسیم ہند کی تاریخ کے تلخ حقائق کے طور پر ہمیشہ یاد رہے گی۔ اگر امرتسر پاکستان کا حصہ بن جاتا تو سکھوں کی اکثریت بھی پاکستان میں شامل ہو جاتی۔ اس طرح انکے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کی نوبت ہی نہ آتی۔ تقسیم ہند کے عمل میں یہ سارے مظالم تو کانگرس کے متعصب ہندو لیڈران کی خانہ ساز سازشوں کے باعث ہی مسلمانوں پر توڑے گئے تھے اس لئے اگر آج نریندر مودی اپنی انتخابی سیاست کے تحت کانگرس اور اسکے لیڈران کو کرتارپور سرحد پاکستان کے حوالے کرنے پر موردالزام ٹھہرا رہے ہیں تو یہ انکی درفنطنی ہی نہیں پاکستان کے ساتھ اپنے خبث باطن کا بھی اظہار ہے۔

مسلم دشمنی کی انتہاء کو پہنچی اسی کانگرس نے 1971ء کی جنگ میں اپنی زیرسرپرستی قائم کئے گئے عسکری ونگ مکتی باہنی کے ذریعے پاکستان کو دولخت اور سانحۂ سقوط ڈھاکہ سے دوچار کیا تھا۔ نریندر مودی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ڈھاکہ میں یہ اعلانیہ اور فخریہ اعتراف کرچکے ہیں کہ انہوں نے مکتی باہنی کی پاکستان توڑو تحریک میں عملاً حصہ لیا تھا۔ پاکستان اور مسلمانوں کے ساتھ اپنے اس خبث باطن کے باعث ہی انہوں نے اپنے دور اقتدار میں بھارت میں پاکستان دشمنی کو فروغ دیا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ مزید تیز کیا ہے۔ مودی سرکار کی کشمیر پر اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی تو کانگرسی حکمرانوں کی پالیسیوں کا ہی تسلسل ہے جبکہ ہندو انتہاء پسند وزیراعظم مودی کانگرس پر پوائنٹ سکور کرنے کیلئے پاکستان کی سلامتی خاکم بدہن تاراج کرنے کی اعلانیہ سازشوں میں بھی مصروف ہیں جو یہاں دہشت گردی پھیلانے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے نام نہاد علیحدگی پسندوں کی بھی فنڈنگ‘ تربیت اور سرپرستی کررہے ہیں۔ اس سے ایک جانب تو وہ پاکستان چین اقتصادی راہداری سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں اور دوسری جانب وہ بلوچستان میں مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں جس کا وہ اعلانیہ اظہار بھی کرچکے ہیں۔ اگر انہیں علاقائی امن و سلامتی مقصود ہو تو وہ پاکستان کی جانب کرتارپور راہداری کھولنے کے اقدام کا کھلی باہوں کے ساتھ خیرمقدم کریں مگر انہیں صرف پاکستان کی سلامتی کیخلاف سازشیں پروان چڑھانے سے ہی سروکار ہے اور اسی تناظر میں وہ پاکستان دشمنی پر مبنی اپنے پارٹی منشور کے تحت دوسری بار انتخابی میدان میں اترے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان دشمنی میں کانگرس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں اور ہمیں ان دونوں جماعتوں کے ادوارِ اقتدار میں ملک کی سلامتی کیخلاف انکی سازشوں کا ہی سامنا رہا ہے۔ ہمیں بہرصورت اپنی سلامتی اور خودمختاری مقدم ہے جس کیلئے آج ملک کی سول اور عسکری قیادتیں باہم یکسو ہیں تو اس ارض وطن کی سلامتی کیخلاف دشمن کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس