0
0
0
تحریر: سعید آسی

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قبل ازوقت انتخابات ہو سکتے ہیں‘ فوج پی ٹی آئی کے منشور کے ساتھ ہے۔ لاپتہ افراد کے معاملہ پر آرمی چیف سے تعاون کررہے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے انہیں بتایا ہے کہ کئی لوگوں کو چھوڑا گیا ہے اور کئی کی شناخت کی جارہی ہے۔ گزشتہ روز سینئر صحافیوں اور ٹی وی اینکرز سے ملاقات میں وزیراعظم نے سیاسی‘ معاشی اور کرتارپور بارڈر سے متعلق معاملات پر تفصیلی گفتگو کی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بنک نے حکومت سے پوچھے بغیر دو بار ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم کی‘ انہیں دو روز بعد ڈالر مہنگا ہونے کا ٹی وی سے پتہ چلا۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کا نفرت کا منصوبہ ناکام بنانے کیلئے کرتارپور راہداری کھولی ہے۔ انکے بقول خارجہ امور سمیت تمام فیصلے وہ خود کرتے ہیں۔ دنیا میں کوئی ایسا لیڈر نہیں آیا جو مقصد تک پہنچنے کیلئے یوٹرن نہ لے۔ تاہم مقصد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہے اور حکومت کا کوئی ایک فیصلہ بھی ایسا نہیں جس کے پیچھے پاک فوج نہ کھڑی ہو۔ فوج جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے۔ سکیورٹی معاملات پر مشاورت ضروری ہوتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل ممکن ہے مگر بھارت اپنے انتخابات تک ہم سے بات کرنے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قبل ازوقت انتخابات ہو سکتے ہیں‘ اس کیلئے کپتان کسی بھی وقت کوئی بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔ ہم منی لانڈرنگ سے متعلق سخت قانون اسی ہفتے لا رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانا ایک طویل مرحلہ ہے۔ آنیوالے دس دنوں میں وزارتوں میں بھی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ اگر اپوزیشن ساتھ نہیں چلنا چاہتی تو بے شک نہ چلے‘ ہم شہباز شریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں بنائینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تباہ حال معیشت ملی۔ سو دن میں انہوں نے جتنا کام کیا اتنا زندگی میں کبھی نہیں کیا۔ ہم مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پرعزم ہیں‘ دونوں حکومتیں چاہیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے یوٹرن کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ یوٹرن عظیم لوگ ہی لیتے ہیں۔ میڈیا کی آزادی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ سنسرشپ بری چیز ہے‘ انفارمیشن چھپانے کی کوشش وہ کرتا ہے جو خوفزدہ ہوتا ہے۔ ہم ایسا سسٹم چاہتے ہیں جس میں نچلے طبقے کیلئے پالیسیاں ہوں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کی بقاء و سلامتی اور ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کیلئے تمام ریاستی اداروں اور حکومتی مشینری نے باہم مل کر کردار ادا کرنا ہے اور اپنی اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانی ہیں۔ آج خوش قسمتی سے تمام ادارے ایک صفحے پر ہیں اور باہمی مشاورت سے ملک کی بقاء و سلامتی ہی نہیں‘ قومی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے بھی یکسوئی کے ساتھ فریضہ ادا کررہے ہیں جبکہ ماضی میں ریاستی اداروں کی باہمی ہم آہنگی کی ایسی مثالی فضا کبھی استوار نہیں ہوپائی تھی نتیجتاً ریاستی اداروں میں اختیارات کی کشمکش در آتی رہی جس کے حکومتی رٹ اور گورننس پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے رہے اور عملاً کوئی بھی جمہوری حکومت اپنے مینڈیٹ کے تقاضے بروئے کار لانے اور عوام کے غربت‘ مہنگائی‘ روٹی روزگار کے مسائل دلجمعی کے ساتھ حل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی جس سے لامحالہ جمہوری نظام پر بھی حرف آیا اور جمہوری نظام میں پیدا ہونیوالی ان کمزوریوں سے طالع آزمائوں کو بھی فائدہ اٹھانے کے نادر مواقع ملتے رہے۔ اس تناظر میں یہ تاثر بھی پختہ ہوتا رہا ہے کہ منتخب جمہوری حکمران اپنی من مانیوں‘ بے ضابطگیوں‘ اختیارات کے ناجائز استعمال اور عوامی مینڈیٹ کے تقاضے بحسن و خوبی نبھا نہ پانے کے باعث خود ہی جرنیلی آمریتوں کی راہ ہموار کرتے ہیں جبکہ ماورائے آئین اقتدار میں یکاء و تنہاء اقتدار کا نشہ غیرآئینی اقتدار کو طول دینے اور تاحیات اقتدار کی راہ ہموار کرنے کی ترغیب دیتا ہے چنانچہ قوم نے اسی سوچ کے تابع چار براہ راست جرنیلی آمریتیں بھگتیں جن میں شہری آزادیوں اور جمہوری اقدار کی پاسداری کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ان جرنیلی آمریتوں کیخلاف مختلف سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر بحالی ٔجمہوریت کی تحریک چلانے کے عزم کا اظہار کرتیں جس میں لامحالہ انہیں جرنیلی آمریتوں کے ظلم و جبر اور قیدوبند کی صعوبتوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا چنانچہ جرنیلی آمروں کو اپنے خلاف نبردآزما جمہوری قوتوں میں نقب لگانے کا موقع بھی ملتا رہا۔ اس طرح جرنیلی آمروں کی چھتری کے نیچے سیاست دانوں کی ایک کھیپ پیدا ہوگئی جنہیں جرنیلی آمروں نے گاہے بگاہے شریک اقتدار کرکے انہیں اپنے اقتدار کی بیساکھیاں بنایا اور جب جمہوری قوتوں میں جرنیلی آمروں کو سہارا دینے والا کلچر پروان چڑھا تو اس سے ہی ملک میں مفاداتی سیاست کو فروغ حاصل ہوا اور ملک میں عملاً جہاں سیاسی محاذآرائی کی فضا پختہ ہوئی وہیں ریاستی اداروں میں ٹکرائو کے راستے بھی ہموار ہونا شروع ہوگئے۔ میاں نوازشریف کا دوسرا اور تیسرا دور حکوت اسکی بدترین مثال ہے جب حکومت براہ راست ریاستی اداروں بالخصوص عدلیہ اور فوج کیخلاف صف آراء نظر آتی تھی۔ یہ صورتحال اس لئے بھی انتہائی سنگین تھی کہ اس سے ہمارے شروع دن کے اعلانیہ دشمن بھارت کو ہماری سلامتی کیخلاف اپنی گھنائونی سازشیں پروان چڑھانے کا نادر موقع ملتا رہا جس نے یہاں نہ صرف دہشت گردی کے ذریعہ ملک میں سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام پیدا کیا بلکہ سرحدوں پر ملک کی سلامتی کیلئے بھی سنگین خطرات پیدا کئے۔

یہی وہ حالات ہیں جن کی بنیاد پر قوم ریاستی اداروں میں مکمل ہم آہنگی کی متقاضی ہوئی جس کیلئے قوم کی نظریں تحریک انصاف کے قائد عمران خان پر جمی تھیں جن پر بہتر حکمرانی کے حوالے سے ریاستی اداروں کا اعتماد قائم ہوچکا تھا۔ عمران خان نے تبدیلی اور نئے پاکستان کا نعرہ لگایا تو قوم کو بجا طور پر ان سے توقعات وابستہ ہوئیں کہ وہ نہ صرف انکے دکھوں کا مداوا کرینگے بلکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی کی بنیاد پر ملک میں کرپشن اور ناانصافیوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ اس حوالے سے عمران خان کا ریاست مدینہ کا تصور بھی قوم کیلئے آئیڈیل بنا جس نے جولائی 2018ء کے انتخابات میں انکے وفاقی اور صوبائی اقتدار کی راہ ہموار کردی۔ اگرچہ ماسوائے خیبر پی کے‘ تحریک انصاف کو وفاق اور صوبوں میں حکمرانی کیلئے سادہ اکثریت حاصل نہ ہوسکی تاہم وفاق میں سنگل مجارٹی پارٹی اور پنجاب میں سنگل مجارٹی پارٹی کے قریب قریب کی نشستیں حاصل کرنے کے باعث اس کیلئے وفاق اور پنجاب میں بھی اقتدار حاصل کرنے میں آسانی ہوگئی جبکہ خیبر پی کے میں دوتہائی اکثریت حاصل ہونے کے باعث اسکے اقتدار کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل ہی نہیں تھی۔ اسی طرح بلوچستان میں بھی پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت قائم ہوگئی جبکہ سندھ اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کو معقول نشستیں حاصل ہونے کے باعث مضبوط اپوزیشن کا مقام حاصل ہوگیا۔

ایسی مثالی صورتحال ملک کی سیاسی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کیلئے پہلی بار استوار ہوئی کہ اسے عوام ہی نہیں‘ ریاستی اداروں کی بھی مکمل حمایت حاصل ہوئی ہو۔ چنانچہ پی ٹی آئی کیلئے اپنے مینڈیٹ کے مطابق ملک کی تعمیرنو‘ عوام کی ترقی و خوشحالی اور کرپشن فری سوسائٹی کی تشکیل بشمول اقرباء پروری کی لعنت سے قوم کو نجات دلانے کیلئے بھرپور کردار ادا کرنا چنداں مشکل نہیں تھا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم عمران خان اس کیلئے پرعزم بھی نظر آئے اور اپنے اقتدار کے پہلے سو دنوں کی ترجیحات کا بھی تعین کر دیا مگر عوام نے ان سے اپنے گوناںگوں مسائل کے حل بشمول غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری کے خاتمہ کی جو توقعات وابستہ کیں‘ وہ پی ٹی آئی حکومت کی ابتدائی پالیسیوں کے باعث ہی ناکامی و نامرادی میں تبدیل ہوتی نظر آئیں۔ ان سو دنوں میں حکومت کا سارا زور اسکے اپنے قرار دیئے گئے چوروں‘ ڈاکوئوں کو نکیل ڈال کر احتساب کے کٹہرے میں لانے اور منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر بھجوایا گیا پیسہ ملک میں واپس لانے کے عزم کے اظہار پر لگتا نظر آتا رہا جبکہ اس دوران منی بجٹ کے ذریعے عوام پر بالواسطہ اور براہ راست کئی نئے ٹیکس لگ گئے اور کئی ٹیکسوں میں اضافہ ہوگیا۔ اسی طرح بجلی‘ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بھی بتدریج بڑھتے گئے اور پھر ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی ناقدری تو انتہاء تک جاپہنچی جس سے نہ صرف مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا بلکہ بیرونی قرضوں کا حجم بھی کوئی نیا قرض لئے بغیر ارب ہا روپے زیادہ ہوگیا۔ چنانچہ حکومت کے سو دن پورے ہونے کے بعد عوام اپنے اچھے مستقبل کیلئے ٹامک ٹوئیاں مارتے نظر آنے لگے۔ حد تو یہ ہے کہ وزیراعظم خود بھی حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کے معاملہ میں ثابت قدم نظر نہ آئے اور مختلف ایشوز پر ان کا موقف تبدیل ہوتا رہا جس کی توجیہہ انہوں نے یہ پیش کی کہ متعینہ مقصد تک پہنچنے کیلئے اچھے لیڈر کو بہرصورت یوٹرن لینا پڑتا ہے تاہم گوناں گوں مسائل میں گھرے عوام انکی اس توجیہہ پر مطمئن نہیں ہوسکے۔


قطع نظر اس بات کے کہ پی ٹی آئی حکومت کا ذاتی ایجنڈا کیا ہے‘ ملک میں آج ایک مستحکم جمہوری حکومت قائم ہے جس پر ریاستی اداروں کا اعتماد بھی قائم ہے تو اسکی گورننس میں کسی قسم کا جھول نظر نہیں آنا چاہیے اور اسکی جانب سے کوئی بھی ایسا اقدام نہیں اٹھایا جانا چاہیے جس سے سلطانیٔ جمہور پر کسی قسم کی زد پڑتی ہو۔ اگر اس مثالی صورتحال میں وزیراعظم خود عندیہ دیتے ہیں کہ ملک میں کسی بھی وقت قبل ازوقت انتخابات ہوسکتے ہیں تو اس سے جہاں حکومت کی کمزوری کا تاثر پیدا ہوگا وہیں نئے سوالات بھی اٹھیں گے کہ وزیراعظم کو کس مقصد کے تحت نئے انتخابات کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ اسی طرح وزیراعظم کے ڈالر کی شرح بڑھنے سے لاعلمی کے اظہار سے بھی حکومتی گورننس کے بارے میں کوئی اچھا تاثر پیدا نہیں ہوا جبکہ اس معاملہ میں انکے اور وفاقی وزیر خزانہ اسدعمر کے موقف میں تضاد بھی سامنے آچکا ہے۔ وزیر خزانہ کے بقول انہیں گورنر سٹیٹ بنک کی جانب سے ڈالر کی شرح بڑھانے کے فیصلہ سے دوروز قبل آگاہ کیا گیا تو انہوں نے اسی وقت وزیراعظم عمران خان کو بھی اس فیصلہ سے آگاہ کر دیا۔ اس طرح ڈالر کے نرخ بڑھنے سے دو روز قبل وزیراعظم کو بھی علم ہوچکا تھا۔ تاہم وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز سینئر صحافیوں کے ساتھ نشست میں یہ کہہ کر سارا معاملہ ہی مشکوک بنا دیا کہ سٹیٹ بنک نے حکومت سے پوچھے بغیر دوبار ڈالر کے نرخ بڑھائے ہیں جبکہ انہیں ڈالر مہنگا ہونے کا علم ٹی وی کے ذریعے ہوا۔ اس فضا میں جب وزیراعظم یہ اعلانیہ اعتراف بھی کرتے نظر آئیں کہ فوج پی ٹی آئی کے منشور کے ساتھ ہے تو ان کا یہ اعلان ایک ریاستی ادارے کی حیثیت سے فوج کی پریشانی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ کوئی ریاستی ادارہ بہرصورت کسی پارٹی کے منشور کے ساتھ نہیں ہوتا۔ اسکی ذمہ داری آئینی تقاضے کے تحت حکومت کی معاونت ہوتی ہے تاکہ اسکی گورننس میں کوئی کمزوری پیدا نہ ہو۔ اگر وزیراعظم کو اپنی حکومتی پالیسیوں اور گورننس پر اتنا ہی اعتماد ہے جس کی بدولت انہوں نے گزشتہ روز یہ بھی باور کرایا کہ ہر حکومتی فیصلہ وہ خود کررہے ہیں تو انہیں فوج کے اپنے پارٹی منشور کے ساتھ ہونے کا تاثر دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی جبکہ اس سے انکی سیاست کے حوالے سے اپوزیشن کے ان الزامات کو بھی تقویت حاصل ہو سکتی ہے کہ انہیں اقتدار میں لانے کیلئے انتخابات کی فضا انکی پارٹی کیلئے سازگار بنائی گئی تھی۔ اسی تناظر میں پی ٹی آئی کی حکومت کے احتساب کے عمل پر بھی انگلیاں اٹھتی نظر آرہی ہیں جبکہ ایسے ہی حکومتی معاملات پر اپوزیشن کو حکومت مخالف تحریک کیلئے متحد ہونے کا نادر موقع ملتا ہے۔ آج اس معاملہ میںفضا سازگار ہوتی نظر آرہی ہے تو یہ حکومت کیلئے یقیناً لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔ ابھی تو اسکے اقتدار کے محض 100 دن ہی پورے ہوئے ہیں۔ اگر اس فضا میںوزیراعظم کے بقول حکومت قبل ازوقت انتخابات کیلئے میدان میں اتر آئی تو پھر انکے نتائج بھی حکومت کیلئے نوشتۂ دیوار ہی ہونگے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس