0
1
0
تحریر: سعید آسی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ بعض عناصر دانستہ اور غیردانستہ طور پر ملک کو واپس تصادم کی راہ پر لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسی کوششیں مذہب‘ لسانیت یا جس بھی بنیاد پر ہوں ریاست اسکی اجازت نہیں دیگی۔ آرمی چیف نے جمعة المبارک کے روز ملتان گیریژن میں افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ہم شرپسند عناصر اور غیرملکی دشمن قوتوں سے نبردآزما ہیں۔ شدت پسندی اور دہشت گردی کی بنیادی وجوہات ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی ایس پی آر کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق آرمی چیف نے اس امر کا بھی اظہار کیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے دائرہ کار میں رہ کر سماجی اور اقتصادی ترقی کی کوششوں کی حمایت کرینگے۔ انکے بقول امن‘ ترقی اور استحکام قانون کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔ ملتان گیریژن کے دورے کے دوران آرمی چیف نے مختلف تربیتی مشقوں کا بھی معائنہ کیا۔

ہمارے ازلی مکار دشمن بھارت کا تو کسی بھی طریقے سے اس وطن عزیز کو کمزور اور اس مقصد کی خاطر اسکے عوام کو انتشار کا شکار کرنے کا شروع دن کا ایجنڈا ہے مگر ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ ہماری سلامتی کے درپے اس دیرینہ دشمن کو پاکستان کے اندر سے ہی بعض عناصر کے ذریعے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے مواقع ملتے رہے ہیں۔ اس میں ہمارے معاشرے میں موجود فرقہ ورانہ تعصبات کا زیادہ عمل دخل رہا ہے جو مسلمانوں کے مختلف فرقوں کو محض معمولی فروعی اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے برسرپیکار ہونے کی راہ پر لاتے رہے ہیں۔ اتحاد امت کی مثالی فضا بھی اب تک فرقہ واریت کی بنیاد پر پیدا ہونیوالے فروعی اختلافات کے باعث ہی استوار نہیں ہو پائی چنانچہ جب مسلمان بھائی ہی ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کے درپے ہوں تو ہمیں صفحہ¿ ہستی سے مٹانے کا ایجنڈا رکھنے والی طاغوتی قوتوں کو ہماری ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کا کیوں موقع نہیں ملے گا۔ بھارت نے بھی تشکیل پاکستان کے بعد اہل پاکستان کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھایا جسے مذہب کی بنیاد پر اپنے وجود میں سے نکالی گئی ایک آزاد اور خودمختار مملکت کا مضبوط ہونا کسی صورت گوارا نہیں تھا کیونکہ پاکستان کا وجود درحقیقت بھارت کے سیکولر ایجنڈے پر ایک کاری ضرب تھا۔ اس نے ہماری اسی کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں فرقہ ورانہ تعصبات کو ہوا دینے کی سازشیں شروع کردیں جبکہ بالخصوص سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارت کو باقیماندہ پاکستان میں لسانی اور قوم پرستی والے تعصبات کو ابھارنے کا بھی موقع مل گیا جس کیلئے پنجاب کی ملک کے دوسرے علاقوں پر بالادستی کا پراپیگنڈہ کیا گیا اور اس معاملہ میں اسے سندھ‘ سرحد اور بلوچستان میں نام نہاد قوم پرستوں کی شکل میں ”خدائی خدمت گار“ بھی دستیاب ہوگئے۔

بدقسمتی سے جرنیلی ادوار اقتدار میں فرقہ ورانہ اور قوم پرست تنظیموں اور گروپوں کی اپنے غیرآئینی اقتدار کی بقاءو تحفظ کیلئے تشکیل و سرپرستی کی جاتی رہی ہے۔ مشرقی پاکستان میں اسی تناظر میں محرومیوں کا احساس جنرل ایوب خان کے اقتدار کے دوران اجاگر ہوا جسے اپنے سازشی منصوبہ کے تحت بھارت نے ہی تقویت پہنچائی اور شیخ مجیب الرحمان کی علیحدگی کی تحریک کو تقویت پہنچانے کیلئے وہاں ایک عسکری تنظیم مکتی باہنی کھڑی کردی جس کے ذریعے قتل و خون کا بازار گرم کرکے بنگالیوں میں مغربی پاکستان کے ساتھ بدگمانیوں اور منافرت کو انتہاءتک پہنچایا گیا اور پھر پاکستان پر 1971ءمیں جنگ مسلط کردی گئی۔ اس جنگ میں افواج پاکستان کو مکتی باہنی کے ذریعے ہی زچ کیا گیااور قتل کراکے سقوط ڈھاکہ کی نوبت لائی گئی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج بھی فخریہ انداز میں اس امر کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے مکتی باہنی کی پاکستان توڑو تحریک میں خود بھی عملاً حصہ لیا ہوا ہے۔ جب اس ذہنیت کا حامل بھارتی لیڈر وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچ جائے تو پاکستان کی سلامتی کیخلاف اپنی سازشوں کو وہ کیوں انتہاءتک نہیں پہنچائے گا۔ اس مقصد کیلئے مودی کو بلوچستان کو اپنے سازشی منصوبہ کی تکمیل کیلئے استعمال کرنے کی زیادہ سہولت نظر آئی جہاں ضیاءآمریت کے دوران مذہبی فرقہ واریت اور مشرف کی جرنیلی آمریت کے دوران بالخصوص نواب اکبر بگتی کی فوجی اپریشن میں ہلاکت کے بعد قوم پرستی کی بنیاد پر علیحدگی پسند عناصر کو تقویت حاصل ہوئی۔ اس سے قبل کراچی میں ضیاءآمریت ہی کے دوران لسانی بنیادوں پر قوم پرستی کو فروغ حاصل ہو چکا تھا جہاں ضیاءآمریت کی سرپرستی میں الطاف حسین نے مہاجروں کے حقوق کے تحفظ کے نام پر ایم کیو ایم کی شکل میں ایک تنظیم قائم کی جو آگے چل کر قومی سیاست میں انتشار و افتراق کو فروغ دینے کا باعث بنی۔

ہماری تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ بلوچستان اور کراچی میں فرقہ ورانہ اور لسانی بنیادوں پر ہی دہشت گردی کا آغاز ہوا تھا جن میں اس ارض وطن کو کمزور اور منتشر کرنے کا ایجنڈا رکھنے والوں کا ہی عمل دخل تھا جن کی ان مقاصد کی تکمیل کیلئے بھارتی سرپرستی اور فنڈنگ بھی تاریخ کے ریکارڈ پر آچکی ہے۔ بلوچستان میں بدترین دہشت گردی فرقہ واریت کی آڑ میں ہی ہوتی رہی ہے جس میں ایک فرقے کے لوگوں کا قتل عام کیا جاتا رہا اور بلوچستان حکومت کے علاوہ وفاقی حکومت بھی فرقہ ورانہ دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام نظر آتی رہی ہے۔ ایسے ہی حالات میں جب ملک کے اندر افغان جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن اتحادی کے کردار کے ردعمل میں خودکش حملے اور دہشت گردی کی دوسری وارداتیں بھی عروج پر تھیں جن میں بطور خاص سکیورٹی اداروں‘ اہلکاروں اور سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا جارہا تھا‘ حکومت کراچی اور بلوچستان میں ٹارگٹڈ پر مجبور ہوئی۔ اس اپریشن کا آغاز رینجرز اور پولیس کے ذریعے کیا گیا تاہم سانحہ اے پی ایس پشاور کے بعد ملک کی سکیورٹی فورسز کو ایک جامع نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کی بلاامتیاز سرکوبی کی ذمہ داری سونپی گئی جس میں ملک کے عام شہریوں کی طرح عساکر پاکستان نے بھی بے بہا جانی قربانیاں دیں مگر اپنے پائے استقلال میں لغزش نہ آنے دی چنانچہ عساکر پاکستان کی جانب سے شمالی وزیرستان اور پھر ملک بھر میں شروع کئے گئے اپریشن ضرب عضب‘ اپریشن ردالفساد‘ اپریشن خیبرفور اور کومبنگ اپریشن کے نتیجہ میں آج مجموعی طور پر ملک میں دہشت گردی کے ناسور پر قابو پایا اور امن و امان بحال کیا جاچکا ہے۔ مگر ہمارے مکار دشمن بھارت نے ہماری سلامتی کیخلاف اپنی گھناﺅنی سازشوں کا سلسلہ ہرگز ترک نہیں کیا جو ہماری کسی نہ کسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر یہاں بدامنی اور انتشار کی فضا پیدا کرنے کی کوششوں میں مگن رہتا ہے۔ اس نے اسی تناظر میں سی پیک کو اپنے ٹارگٹ پر رکھا ہوا ہے جسے سبوتاژ کرنے اور چین کو ہم سے بدگمان کرنے کیلئے وہ ملک کے مختلف حصوں بالخصوص بلوچستان اور خیبر پی کے میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے دہشت گردی کی وارداتیں کراتا رہتا ہے۔ گزشتہ روز کراچی میں چینی قونصل خانے میں دہشت گردی کی کوشش اور لوئر اورکزئی کے بازار میں دہشت گردی کی گھناﺅنی واردات اسی بھارتی سازشی ذہن کا شاخسانہ ہے جس کی تصدیق چینی قونصل خانے کے باہر مارے گئے دہشت گردوں کی شناخت سے بخوبی ہوچکی ہے کیونکہ یہ تمام دہشت گرد بھارتی سرپرستی میں چلنے والی بلوچ قوم پرستوں کی علیحدگی پسند تنظیم بی ایل اے کے رکن تھے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کے مقاصد کے تحت کس چالاکی اور ہوشیاری کے ساتھ ہمارے ملک میں ہی اپنے آلہ¿ کار پیدا کرکے انہیں یہاں فرقہ واریت اور لسانی بنیادوں پر دہشت گردی کیلئے استعمال کررہا ہے۔ آرمی چیف نے یقیناً اسی تناظر میں باور کرایا ہے کہ بعض عناصر ملک کو دانستہ اور نادانستہ طور پر تصادم کی راہ پر لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کیلئے بہرصورت ملک کے ہر شہری کو اپنا فریضہ ادا کرنا ہے اور مذہبی اور لسانی بنیادوں پر فرقہ واریت اور قوم پرستی کو ابھارنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی اور انہیں راہ راست پر لانا ہے۔


گزشتہ کچھ عرصہ سے یہاں ختم نبوت اور اہانت رسول کے حوالے سے بھی مسلمانوں کے مذہبی جذبات ابھارنے اور انہیں اپنے مقاصد کیلئے بروئے کار لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں جن میں ایک تنظیم کے فیض آباد راولپنڈی کے دھرنے کے معاملہ میں حکومت کی اختیارکردہ گومگو کی پالیسی سے متذکرہ تنظیم کی حوصلہ افزائی ہوئی اور اسے اپنا ایجنڈا ملک بھر میں فروغ دینے کا موقع ملا۔ ایسی ہی صورتحال گزشتہ ماہ آسیہ مسیح کی بریت کے فیصلہ کے بعد بھی پیدا ہوئی جس کے دوران اس تنظیم کے کارکنوں کی جانب سے قومی املاک کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہ کیا گیا۔ اب اس تنظیم کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے 25 نومبر کو فیض آباد میں دوبارہ دھرنا دینے کا اعلان کیا تو حکومت نے ایک بہتر حکمت عملی طے کرکے علامہ خادم رضوی کو حفاظتی تحویل میں لے لیا اور اس تنظیم کے کارکنوں کو پہلے کی طرح پرتشدد مظاہرے اور سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس سے یقیناً حکومت کی رٹ مضبوط ہونے کا تصور پختہ ہوا ہے۔ ہمیں آج بلاشبہ قومی یکجہتی کی زیادہ ضرورت ہے جس کیلئے ماضی میں سول اور عسکری قیادتوں کے باہم یکجہت نہ ہونے کے باعث فضا استوار نہیں ہو پائی تھی۔ آج ملک کی سلامتی اور قومی اتحاد و یکجہتی کے معاملات پر سول اور عسکری قیادتیں مکمل طور پر ایک صفحے پر ہیں تو اس سے یقیناً بھارت اور دوسری ملک دشمن قوتوں کو ہماری جانب سے قومی یکجہتی کا ٹھوس پیغام جائیگا اور انہیں پاکستان کی سلامتی کیخلاف مزید سازشیں پروان چڑھانے کا موقع نہیں مل سکے گا۔ بلاشبہ ملک کی سلامتی کا تحفظ ہی آج ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے جس سے عہدہ برا¿ ہونے کیلئے تمام قومی ریاستی اداروں اور پوری قوم نے کردار ادا کرنا ہے۔ خدا ہمارا حامی و ناصر ہو۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس