تحریر: سعید آسی

اسلام آباد میں تعینات امریکی ناظم الامور پال جونز کو گزشتہ روز دفتر خارجہ میں طلب کرکے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے بارے میں غیرضروری بیانات اور بے بنیاد الزامات پر سخت احتجاج کیا گیا۔ اس سلسلہ میں دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے ایک احتجاجی مراسلہ بھی امریکی ناظم الامور کے حوالے کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے بیان اورٹویٹ میں پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے ہیں جو اس کیلئے سراسر ناقابل قبول ہیں اور وہ ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری خارجہ نے امریکی ناظم الامور کو یاد دلایا کہ پاکستان کے انٹیلی جنس تعاون کی بنیاد پر ہی امریکہ کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں ابتدائی شواہد ملے تھے۔ انہوں نے یہ بھی باور کرایا کہ کسی اور ملک نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ قربانیاں نہیں دیں۔ خود امریکی انتظامیہ متعدد مواقع پر تسلیم کرچکی ہے کہ پاکستان کے تعاون کی وجہ سے القاعدہ کی قیادت اور خطہ میں دہشت گردی کے انسداد میں کامیابی ملی ہے۔ امریکہ اس حقیقت کو فراموش نہ کرے کہ درجنوں القاعدہ رہنماء اور دہشت گرد پاکستانی اداروں کی کارروائیوں کے دوران پکڑے گئے یا مارے گئے۔ پاکستان نے اپنے زمینی‘ سمندری اور فضائی راستے فراہم کئے جنہوں نے افغانستان میں کامیابی کیلئے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے بے بنیاد الزامات عائد کرنے سے افغانستان میں ہمارے اہم تعاون کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہمیں صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان سے مایوسی ہوئی ہے۔ اس قسم کی ہرزہ سرائی بے بنیاد اور ناقابل قبول ہے۔

دوسری جانب امریکی وزارت دفاع نے اسلام آباد کو جنوبی ایشیاء میں واشنگٹن کا اہم اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے فوجی تعلقات میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔ اس سلسلہ میں ڈائریکٹر پریس اپریشنز پینٹاگون راب میننگ نے گزشتہ روز میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ مفادات ہیں جبکہ پرامن اور مستحکم افغانستان کیلئے اسلام آباد کا کردار کلیدی رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر پاکستان کے جوابی ردعمل اور احتجاج کے بعد امریکی حکومت نے پاکستان سے تحریری رابطہ کیا ہے اور امریکی حکام کی جانب سے سفارتی سطح پر روابط برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ امریکی حکام کے بقول امریکہ کو پاکستان کی جانب سے کئے گئے تعاون کی قدر ہے جبکہ امریکہ کو پاکستان کے مزید تعاون کی ضرورت رہے گی۔ امریکی حکام نے اس سلسلہ میں صدر ٹرمپ کو پاکستان کی قربانیوں سے آگاہ کرنے کا بھی وعدہ کیا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ افغان جنگ میں پاکستان امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکی نیٹو فورسز کی لاجسٹک اور حربی معاونت نہ کرتا تو نہ صرف نیٹو فورسز کیلئے افغان جنگجوئوں کے مقابل افغان سرزمین پر قدم جمانا مشکل ہو جاتا بلکہ افغان سرزمین عملاً امریکی نیٹو فورسز کے قبرستان میں تبدیل ہوجاتی۔ پاکستان نے تو امریکی مفادات کی اس جنگ میں فریق بن کر خود کو جھلسایا اور اپنی معیشت کو برباد کیا ہے کیونکہ پاکستان کو افغان جنگ میں امریکہ کو زمینی‘ فضائی اور بحری معاونت فراہم کرنے کے ردعمل میں ہی اپنی سرزمین پر خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں سے اپنی سکیورٹی فورسز کے دس ہزار جوانوں اور افسران سمیت 70 ہزار سے زائد شہریوں کی شہادتوں اور قومی معیشت کو 70 ارب ڈالر سے بھی زیادہ کانقصان اٹھانا پڑا۔ امریکی مفادات کی اس جنگ کے باعث ہی ہماری سرزمین دہشت گردوں کی آماجگاہ بنی اور یہاں مذہبی انتہاء پسندی کو فروغ حاصل ہوا جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ ہماری سکیورٹی فورسز کو مکار دشمن بھارت کے مقابل ملکی سرحدوں اور سالمیت کے تحفظ کی ذمہ داری ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر امن عامہ بحال کرنے کیلئے بھی اپریشنز شروع کرنا پڑے جن میں کسی امریکی معاونت سے نہیں بلکہ افواج پاکستان کی اپنی مہارت اور صلاحیتوں کی بنیاد پر کامیابی حاصل ہوئی۔ اسکے برعکس امریکہ نے نہ صرف ہمارے دیرینہ دشمن بھارت کے ہماری سالمیت کیخلاف عزائم پر اسکی سرپرستی اور معاونت کی بلکہ خود بھی ڈرون حملوں اور گاہے بگاہے کئے گئے اپنے زمینی اور فضائی اپریشنز کے تحت ہماری سالمیت اور خودمختاری کو بٹہ لگانے کی کوشش کی۔ سلالہ چیک پوسٹوں پر امریکی گن شپ ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ اور اسامہ بن لادن کیخلاف ایبٹ آباد اپریشن بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے جس پر احتجاج تو پاکستان کو کرنا چاہیے تھا مگر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق امریکہ ہمیں وقتاً فوقتاً آنکھیں دکھاتا نظر آتا رہا ہے جس نے ڈیموکریٹس کے دور حکومت میں بھی پاکستان سے ڈومور کے تقاضوں کی انتہاء کئے رکھی اور افغان جنگ میں ہونیوالے اسکے بے حد و حساب جانی اور مالی نقصانات کے ازالہ کے بجائے سپورٹ فنڈ کی مد میں منظور کی گئی اسکی سالانہ 3‘ ارب ڈالر کی گرانٹ بھی کبھی روکی جاتی رہی اور کبھی کڑی شرائط عائد کرکے ترسا ترسا کر ادا کی گئی جبکہ یہ گرانٹ پاکستان کے نقصانات کی عشر عشیر تلافی بھی نہیں تھی۔

یہ طرفہ تماشا ہے کہ ڈیموکریٹ اوبامہ نے تو 2011ء میں اسامہ بن لادن کیخلاف کئے گئے ایبٹ آباد اپریشن میں پاکستان کی معاونت پر اس کا شکریہ ادا کیا اور انکے اظہار تشکر کے یہ الفاظ انکی نشری تقریر کے ذریعے پوری امریکی قوم ہی نہیں‘ اقوام عالم نے بھی سنے اور اوبامہ کی اس تقریر کے باعث ہی ہمارے اس وقت کے حکمرانوں کو پاکستان کی خودمختاری کو بٹہ لگانے کے طعنے سننا پڑے تھے مگر آج ری پبلکن ٹرمپ ایبٹ آباد اپریشن کے معاملہ میں پاکستان کو عدم تعاون کا موردالزام ٹھہرا رہے ہیں جنہوں نے اس سے پہلے بھی پاکستان پر بداعتمادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور امریکی کانگرس سے پاکستان کی سول اور فوجی گرانٹ رکوانے کی قرارداد منظور کرانے کے بعد اس پر اقوام متحدہ کے ذریعہ عالمی اقتصادی پابندیاں لگوانے کے معاملہ میں بھی انتہاء تک جاچکے ہیں۔ اب انہوں نے پاکستان پر رعونت بھرے لہجے میں بے سروپا الزام تراشی کرتے ہوئے اسکی دی جانیوالی گرانٹ مکمل بند کرنے کا اعلان کیا ہے تو یہ ایک فرد واحد کا فیصلہ تو ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اس میں یقیناً واشنگٹن اور پینٹاگون کی حکمت عملی ہی کارفرما ہوئی ہوگی جبکہ اب امریکی پینٹاگون کی جانب سے ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر پاکستان کے اندر حکومت اور عوام کی سطح پر پیدا ہونیوالے سخت ردعمل کو بھانٹ کر ٹرمپ کو پاکستان کی قربانیوں سے آگاہ کرنے کا یوں عندیہ دیا جارہا ہے جیسے انہوں نے پاکستان کے کردار اور قربانیوں سے اپنی لاعلمی کی بنیاد پر یہ بیان داغا ہو۔ اس معاملہ میں تو یہ تصور کرنا بھی بے معنی ہے کہ ٹرمپ کو افغان جنگ میں امریکی فرنٹ لائن اتحادی کی حیثیت سے پاکستان کے کردار اور اسکی قربانیوں کا علم نہیں ہوگا چنانچہ اس معاملہ کو امریکی منافقت سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے جس کا پاکستان پہلی بار سامنا نہیں کررہا بلکہ پاکستان کو درپیش ہر کٹھن وقت پر اسے امریکی منافقت سے ہی نقصان اٹھانا پڑتا رہا ہے جس میں 71ء کی پاکستان بھارت جنگ بھی شامل ہے جس کے دوران پاکستان امریکہ کے اعلان کردہ ساتویں بحری بیڑے کی شکل میں اسکی فوجی کمک کا منتظر ہی رہا اور بھارت نے اسے دولخت کردیا۔ آج بھی یہی بھارت امریکہ کا فطری اتحادی ہے تو اس سے کسی بھارتی جارحیت کی صورت میں بھارت کیخلاف کسی قسم کی فوجی مدد کی کیا توقع کی جاسکتی ہے۔


یہ صورتحال امریکہ سے دوستی و تعاون کی بنیاد پر استوار ہماری خارجہ پالیسی پر ملکی اور قومی مفادات کے تحت نظرثانی کی متفاضی ہے اور ہمیں امریکہ اور بھارت سمیت ہر اس دشمن پر کڑی نظر رکھنی ہے جو ہماری سالمیت کیخلاف خفیہ یا ظاہری عزائم رکھتا ہے۔ خدا کے فضل سے عساکر پاکستان میں اتنی استعداد و صلاحیت اور مکمل مہارت موجود ہے کہ وہ اپنے اعلانیہ دشمن بھارت ہی نہیں‘ اسکے سرپرست امریکہ کے بھی دانت کٹھے کرسکے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز اپنے بیان میں اسی تناظر میں دوٹوک الفاظ میں باور کرایا ہے کہ پاکستان کی عزت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم نے دہشت گردی کیخلاف جنگ کامیابی سے لڑی ہے جس میں ہمیں ہی سب سے زیادہ قیمت چکانا پڑی ہے۔ دنیا کو بہرصورت ہماری یہ قربانیاں تسلیم کرنی چاہئیں۔

امریکی ٹرمپ انتظامیہ کو بھی اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ افغانستان اور اس پورے خطے میں امن عمل کی کامیابی کیلئے پاکستان کا کردار اہم ترین ہے جس کے بغیر کوئی امریکی حکمت عملی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ اسے اپنی ضرورت کے تحت پاکستان پر تکیہ اور اعتماد کرنا ہوگا جس کیلئے اسکے ساتھ اعتماد سازی کی بحالی ضروری ہے جبکہ ٹرمپ کی رعونت اور تکبر دوطرفہ تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا کررہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی کی بحالی اسکی باقیماندہ گرانٹ کی مکمل اور غیرمشروط ادائیگی اور بھارت کی سرپرستی ترک کرنے سے ہی ممکن ہے۔ امریکہ اس راستے پر نہیں آتا تو پاکستان کیلئے اس خطہ اور اقوام عالم میں اپنے مفادات کی نگہداشت کیلئے اور بھی بہت سے آپشنز موجود ہیں جو پاکستان چین اقتصادی راہداری کے ذریعہ اسکے ساتھ تعاون کے منتظر ہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس