0
0
0
تحریر: سعید آسی

محسن انسانیت‘ رحمت للعالمین‘ ختم رسل‘ آقائے دو جہاں اور نبیٔ آخر الزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادتِ باسعادت آج بروز بدھ پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا میں محبت و عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے ملی جوش و جذبے سے منایا جارہا ہے۔ مسلمانانِ عالم 12 ربیع الاول کا دن اپنے نبی ٔ پاک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کے اظہار کیلئے عیدمیلاالنبی کی صورت میں مناتے ہیں اور اس دن اپنے اپنے انداز میں جشن منا کر اور خوشیوں کا اہتمام کرکے پیغمبرِ اسلام رحمت للعالمین صلی للہ علیہ وسلم کے حضور سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ آج اسی مناسبت سے فرزندانِ توحید اور غلامان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ملک بھر میں محافل میلاد منعقد کرکے اور گلیوں‘ بازاروں‘ شاہراہوں‘ مساجد اور گھروں کو برقی قمقموں‘ سبز جھنڈوں‘ جھنڈیوں اور روضۂ رسولؐ کے ماڈلز کے ساتھ سجا کر عید میلاالنبی منائیں گے۔ آج ملک بھر میں عام تعطیل ہے اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے حضرت نبیٔ کریمؐ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے خصوصی اشاعتوں اور پروگراموں کا اہتمام کیا ہے جبکہ سرکاری و نجی سطح پر جشنِ میلادالنبی کی خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے جن میں حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے کٹ مرنے کے جذبے کا اعادہ کیا جائیگا۔

حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ذاتِ باری تعالیٰ نے انسانیت کیلئے ہدایت کا آخری سرچشمہ بنا کر بھیجا۔ حضور نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت ایک نئے دور کا آغاز اور تاریخ کی ایک نئی جہت کا تعین تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم تاریخ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے اور بعد کے زمانوں کا تقابل کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد انسانیت کلیتاً ایک نئے دور میں داخل ہو گئی۔ ایک ایسا دور جس میں شعور، آگہی، تہذیب، کلچر اور اعلیٰ انسانی اقدار کے فروغ، قیام اور استحکام کے وہ نظائر ملتے ہیں جن کا نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل وجود نہ تھا بلکہ اْن کا تصور بھی مفقود تھا۔ یہ سب ختمِ نبوت کا وہ ازلی اور ابدی فیضان تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کے ذریعے عالم انسانیت میں جاری و ساری ہوا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے رہنمائی اور اخذ فیض کے جو مناہج بطور امت ہمیں اپنانے چاہئیں تھے وہ اپنائے نہ جا سکے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد جو ایک زمانہ فشاں ہوا اور خلافت راشدہ میں اسلامی مملکت کی حدود توسیع پذیر ہوئیں‘ بعد میں نہ صرف یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا بلکہ یہ حدود بھی محدود ہونے لگیں۔ مسلمانوں کا دنیا میں طوطی انکے اتحاد و یگانگت کے باعث بولتا تھا۔ امہ انتشار کا شکار ہوئی تو زوال شروع ہو گیا۔ پھر کہیں غرناطہ، کہیں بغداد اور کہیں ڈھاکہ فال ہونے لگے اور کہیں کشمیری‘ فلسطینی اور روہنگیا مسلمانوں پر طاغوتی طاقتوں کی افتاد ٹوٹنے لگی۔ آج اہل اسلام شدید مصائب و مشکلات سے دو چار ہیں۔ کسی کو دوش کیا دیا جائے‘ امتِ مسلمہ میں ہی نہ صرف نفاق و انتشار ہے بلکہ باہمی ناچاقیوںکی وجہ سے مسلمان مسلمان کا خون بہا رہا ہے۔ مسلم ممالک ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے ہیں۔ آپس میں خونریز جنگیں زمانہ جاہلیت کی یاد تازہ کر رہی ہیں۔ 57 اسلامی ممالک او آئی سی کے پلیٹ فارم پر موجود تو ہیں مگر نہ صرف متحد نہیں بلکہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے پر بھی تیار نہیں اور فرقہ واریت کی لعنت نے مسلم برادرہڈ کے آفاقی جذبے کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ مسلمانوں کے اس انتشار اور دشمنی پر مبنی رویوں سے سامراج کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں آسانی ہو رہی ہے۔ وسائل اور افرادی قوت سے مسلم ممالک مالا مال ہیں۔ بہترین فوج کی بات کی جائے تو یہ اعزاز پاکستان کے پاس ہے۔ پاکستان ہی مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے۔ ترکی اور ایران کی افواج دنیا کی ماہر ترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ مسلم افواج کے پاس جذبہ شہادت دنیا کی تمام افواج پر فوقیت کا سبب ہے۔ مگر یہ سب کچھ ہوتے بھی مسلمان پستی کا شکار ہیں۔ مسئلہ فلسطین و کشمیر حل ہونے میں نہیں آ رہے تھے کہ روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جانے لگے جبکہ آج مسلم خلیجی ریاستیں بھی ایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار ہیں جس سے امتِ واحدہ کا تصور پارہ پارہ ہورہا ہے۔

دہشتگردی بھی زیادہ تر مسلم ممالک کے حصے میں آئی ہے۔ عراق اور افغانستان دہشتگردی اور اغیار کے تسلط کی بھینٹ چڑھ کر برباد ہو گئے۔ پاکستان میں دہشتگردی کی چنگاری الائو بن گئی۔ کہیں گمراہ مسلمان اپنے اہل اسلام بھائیوں کیخلاف ہتھیار بند ہیں تو کہیں مسلمان دشمن قوتوں کے گماشتے بن کرانسانیت کا خون بہا رہے ہیں۔ مسلم ممالک متحد ہوں تو دہشتگردوں کو کہیں چھپنے اور باطل نظریات پھیلانے کا موقع نہ ملے مگر بدقسمتی سے مسلم ریاستیں اپنے اپنے مفادات کی اسیر ہوچکی ہیں اور یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ ترکی اور سعودی عرب برادر مسلم ملک شام میں بشارالاسد کیخلاف داعش کے غیراعلانیہ اتحادی بن چکے ہیں جبکہ داعش کو درحقیقت اسلام دشمن قوتوں پر مشتمل ہنود و یہود و نصاریٰ کی سرپرستی حاصل ہے جنہوں نے اتحاد امتِ مسلمہ کو پارہ پارہ کرنے کیلئے اس دہشت گرد تنظیم کو تشکیل دیا ہے۔ اب یہ تنظیم افغانستان‘ ایران اور پاکستان میں بھی اپنے پَر پھیلا چکی ہے جبکہ دشمنان اسلام کو اپنی ساختہ اس تنظیم کی دہشت گردانہ جنونی کارروائیوں کی بنیاد پر پورے دین اسلام پر دہشت گردوں کا سرپرست ہونے کا لیبل لگانے کا موقع مل رہا ہے۔ اسی تناظر میں آج ٹرمپ‘ مودی گٹھ جوڑ نے ارض وطن پاکستان کو اپنے ہدف پر رکھا ہوا ہے جو اس ملک خداداد کو کمزور کرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں کیونکہ وہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ سمجھ کر اسے توڑنے کے درپے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اسی تناظر میں پاکستان کیخلاف اپنے خبث باطن کا اظہار کیا اور اسے اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کا موردِالزام ٹھہراتے ہوئے امریکی ڈالر کھانے اور اسکے عوض امریکہ کیلئے کچھ نہ کرنے کا طعنہ دے کر اسے ملنے والی امریکی گرانٹ بند کرنے کا اعلان کیا۔ بے شک وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں ٹرمپ کی درفنطنیوں کا مسکت جواب دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ نائن الیون میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا جبکہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ امریکہ اپنی ناکامیوں کا جائزہ لے اور پاکستان کو قربانی کا بکرا نہ بنائے۔ ہمیں مودی کے یار ٹرمپ کی ہرزہ سرائیوں کا یقیناً اسی کے لب و لہجے میں جواب دینے کی ضرورت ہے اور وزیراعظم عمران خان نے اس معاملہ میں پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے تاہم ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر بھی ملکی اور قومی مفادات کی روشنی میں نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے دفاعی اور اقتصادی معاملات میں امریکہ پر انحصار ترک کرنے کی پالیسی اپنانا ہوگی جس کیلئے وزیراعظم عمران خان مثبت پیش رفت کررہے ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بانیانِ پاکستان اقبال و قائد نے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک الگ خطے کے حصول کی جدوجہد اس خطے کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کیلئے کی تھی اور دو قومی نظریے کے تحت تشکیل کئے گئے اس ملک خداداد کو محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ان پر قران مجید کی شکل میں نازل کئے گئے احکام خداوندی کی روشنی میں ایک مثالی اسلامی‘ فلاحی جمہوری معاشرہ کے قالب میں ڈھالنا ہی مقصود تھا۔ وزیراعظم عمران خان اسی تناظر میں پاکستان کو ریاست مدینہ کے قالب میں ڈھالنے کے متمنی ہیں۔ بے شک اسلام کی تعلیمات کے مطابق اس ارض وطن پر ملک کے ہر باشندے کو بلاتفریق رنگ‘ نسل‘ زبان اور مذہب اعلیٰ مناصب تک ملازمتوں سمیت رہن سہن اور معاشرت کے تمام حقوق حاصل ہیں جبکہ شرف انسانیت شریعت کا لازمی تقاضا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم نے دوٹوک الفاظ میں باور کرایا تھا کہ ہمارا دستور خدا وند کریم کی نازل کردہ الہامی کتاب قرآن مجید کی شکل میں پہلے سے موجود ہے جو مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اسی بنیاد پر پاکستان کا نام بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار پایا جبکہ آئین پاکستان کی دفعہ 2 کے تحت دین اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دیا گیا ہے اور دفعہ 2۔الف میں درج قرارداد مقاصد کے ذریعے اس امر کا مستقل تعین کردیا گیا ہے کہ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون اور کوئی آئینی شق وضع نہیں ہو سکتی۔ ختم نبوت پر ایمان شریعت کا بنیادی تقاضا ہے۔ یہاں غیرمسلم اقلیتوں کو آئین کے تحت تمام حقوق توحاصل ہیں مگر خود کو مسلمان ظاہر کرکے کسی ملعون کو خدا کا نبی (نعوذباللہ) تسلیم کرنیوالوں کی مسلم معاشرے میں بطور مسلمان کبھی قبولیت نہیں ہو سکتی۔ فتنہ قادیانیت کیخلاف اسی بنیاد پر 1954ء میں فدایانِ اسلام نے تحریک ختم نبوت شروع کی۔ بے مثال قربانیوں اور پاسداری و تحفظ ختم نبوت کے عہد کے ساتھ حضرت نبی آخرالزمان کے پروانوں کی یہ تحریک 1974ء تک شدومد کے ساتھ جاری رہی تاآنکہ طویل بحث مباحث‘ مشاورت اور قادیانیوں کے اس وقت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کا عقیدہ ختم نبوت پر مؤقف حاصل کرنے کے بعد1973ء کے آئین میں قادیانیوں‘ احمدیوں اور لاہوری گروپ کو اقلیت قرار دے دیا گیا۔ اس طرح دینِ اسلام کے مقابل کھڑے کئے گئے اس شر کا ہمیشہ کیلئے سدباب کردیا گیا۔

عید میلادالنبی کے موقع پر ملک بھر میں گلیوں‘ بازاروں اور کونوں کھدروں تک میں فدایانِ محمد عربی جس عقیدت و محبت کے ساتھ ولادت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشیوں کا اہتمام کرتے ہیں‘ اسکی روشنی میں یہاں عقیدہ ختم نبوت کے منافی کسی سازش‘ شرارت یا منفی سوچ کا پنپنا ناممکنات میں شامل ہے اگر گزشتہ سال مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں پارلیمنٹ میں انتخابی اصلاحات ایکٹ میں ترمیم کے مراحل کے دوران پارلیمنٹ کی رکنیت کے امیدواران کے حلف نامہ میں ایک ترمیم لا کر ختم نبوت پر کامل ایمان کے معاملہ پر چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی گئی تو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غم و غصہ کی تاب نہ لا کر حکمرانوں کو اس سوچ سے رجوع اور حلف نامہ کی اصل عبارت من و عن بحال کرنا پڑی۔ موجودہ حکومت کو آسیہ مسیح کی بریت پر آزمائش کا سامنا کرنا پڑا تاہم یہ معاملہ بھی فہم و بصیرت اور دوراندیشی سے کام لے کر خوش اسلوبی سے طے کرلیا گیا۔ سپریم کورٹ نے آسیہ مسیح کو ٹھوس شہادتیں نہ ہونے کے باعث قانون کے تقاضوں کے تحت بری کیا اور قرآن و حدیث کے حوالے دے کرآسیہ کے توہین رسالت مآبؐ کے مرتکب نہ ہونے کا فیصلہ صادر کیا جبکہ اب اس فیصلہ پر نظرثانی کی درخواست بھی مقدمہ کے مدعی کی جانب سے دائر کی جاچکی ہے اس لئے اس معاملہ پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات برانگیخت کرنے سے گریز کی ضرورت ہے۔ ہمارا یہ بھی المیہ ہے کہ بعض عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے اور فرقہ واریت کی آگ بھڑکائی جاتی ہے جس سے الحادی قوتیں فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو منتشر کرنے کی سازشیں بروئے کار لاتی ہیں۔ ہمیں بہرصورت اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھنا ہے جبکہ حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی آنچ نہ آنے دینا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل سکیورٹی ورکشاپ میں خطاب کرتے ہوئے اسی تناظر میں باور کرایا ہے کہ ہمیں آج ’’ہائبرڈ‘‘ جنگ کا سامنا ہے جس میں مذہبی‘ فرقہ ورانہ اور سماجی معاملات میں تخریب کاری کی جاتی ہے۔ اس سے نمٹنے کیلئے ایک جامع قومی بیانیہ کی ضرورت ہے۔ ہمیں آج جشن ولادتِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم مناتے ہوئے دینِ اسلام کے رواداری‘ صلہ رحمی‘ بھائی چارہ کے ابدی پیغام اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو پیش نظر رکھنا اور امتِ واحدہ میں اتحاد و یگانگت کو فروغ دینا ہوگا۔ خدا ہمیں اپنے دینِ کامل پر کاربند رہنے اور اپنے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و تقدس پر کوئی ہلکی سی بھی آنچ نہ آنے دینے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس