0
0
0
تحریر: سعید آسی

چین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑا جائیگا۔ دوست ملک کی معیشت کی بہتری کیلئے مکمل تعاون کرینگے تاہم دیرپا ترقی اور صنعتوں کی بحالی ہی پاکستان کے معاشی مسائل کا دائمی حل ہے۔ بدھ کے روز وفاقی دارلحکومت میں قائم چین کے سفارت خانہ میں منعقدہ ایک بریفنگ کے دوران ایک اہم چینی تھنک ٹینک چائولی چیان، چینی وزارت خارجہ کے حکام اور سفارت کاروں نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ دوران بریفنگ پاک چین معاشی راہداری کے منصوبہ اور اسکے مختلف پہلوئوں کا اس بریفنگ میں احاطہ کیا گیا۔ اس موقع پر چینی دانشوروں اور حکام کی جانب سے جن خیالات کا اظہار کیا گیا ان سے صاف واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کو درپیش موجودہ معاشی مسائل اور انکے طویل المیعاد حل کے بارے میں چین کس حد تک معاونت کرنا چاہتا ہے۔ چائنہ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے نائب صدر رونگ یِنگ، چینی وزارت خارجہ کے شعبہ ایشیا کے قونصلرژانگ زی شنگ، چین کے نائب سفیرژالولی جیانگ بھی بریفنگ میں شریک تھے۔ چین کے نائب سفیر نے کہا کہ پاکستان کیلئے ان کے ملک کی مالی مدد سعودی عرب سے زیادہ ہے تاہم اس پیکیج کی تفصیلات ہم سامنے نہیں لانا چاہتے کیونکہ ہماری ترجیح پاکستان کو درپیش مشکلات سے نکالنا ہے۔ سی پیک بھی مشترکہ ترقی کا منصوبہ ہے، ہم کسی کو بھی اس منصوبہ میں خوش آمدید کہنے کیلئے تیار ہیں۔ سی پیک کا مستقبل ہمارے دونوں ممالک کے ہاتھوں میں ہے۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی۔ وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے دوران دونوں ممالک کے مابین طے ہونے والے معاہدوں اور انکی تفصیلات کے بارے میں بھی بات چیت کی گئی۔

تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو معیشت انحطاط پذیر تھی‘ نئی حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملکی قرضوں کا حجم 28 ہزار ارب روپے تھا‘ ڈالروں میں اسکی مالیت نوے ارب سے زائد بتائی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں ڈالر کی قیمت میں شتر بے مہار اضافے کے باعث 28 ہزار ارب روپے میں مزید اضافہ ہوچکا ہے۔ اب مالیت شاید 30 ہزار ارب ہوچکی ہو۔ حکومت کیلئے سب سے زیادہ تشویش کی بات رواں سال سود کی مد میں 8 ارب ڈالر کی ادائیگی تھی‘ دیگر ادائیگیوں کیلئے مزید4‘ ارب ڈالر درکار تھے۔ فوری طور پر 12 ارب ڈالر کا بندوبست نہ ہوتا تو معیشت کا دیوالیہ کی طرف سفر شروع ہو جاتا۔ تحریک انصاف عوام کے ساتھ آئی ایم ایف سے نجات کے وعدے کرتی رہی تھی۔ آئی ایم ایف کی عمومی شرائط عوام کش رہی ہیں۔ قرض کی فراہمی سے پہلے ٹیکسوں‘ پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور غیرمنافع بخش ادارں کی نجکاری کی شرائط عاید کردی جاتی ہیں۔ تحریک انصاف کو اپنے دوستوں سے تعاون کی بڑی توقعات تھیں‘ فوری طور پر 12‘ ارب ڈالر کی ضرورت کا علم نہیں تھا یا اتنی رقم کے بندوبست کا یقین تھا جو حکومت کے ابتدائی دنوں میں لیڈرشپ کے اطمینان کا باعث تھا۔ مگر یہ رقم اس وقت حکومت کیلئے اعصاب شکن بن گئی جب اس کا بندوبست ہوتا نظر نہ آیا۔

وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کا پہلا دورہ کیا مگر تشویش کم نہ ہوسکی۔ ان حالات میں حکومت نے ایشیائی اور اسلامی ترقیاتی بنک سے رابطے کئے مگر پریشانی برقرار رہی۔ ایسے میں پائے رفتن نہ جائے ماندن کے مصداق آئی ایم ایف سے بادل نخواستہ رجوع کرنا پڑا۔ آئی ایم ایف ایسے کلائنٹس کو ہمیشہ ویلکم کہتا آیا ہے۔ قرض کیلئے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہوئے پاکستان کیلئے اسکی شرائط پر آمادگی کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ اسی دوران سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ سعودی عرب کے امریکہ‘ برطانیہ اور فرانس جیسے دوستوں نے ترکی میں خشوگی کی موت کو جواز بنا کر کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا جبکہ پاکستان وعدے کے مطابق شریک ہوا۔ اس موقع پر سعودی عرب عالمی تنہائی کی طرف جارہا تھا۔ پاکستان نے مشکل ترین حالات میں اس کا ساتھ دیا تو سعودی عرب نے بھی ہر ممکن تعاون کرتے ہوئے 12‘ ارب ڈالر کے مجموعی پیکیج کا اعلان کیا۔ اس سے حکومت کی پریشانی میں کمی ہوئی‘ چین اور سعودی عرب یقیناً پاکستان کے بہترین دوست ہیں مگر ایک مقولہ و محاورہ ہے ’’فری لنچ کوئی نہیں کراتا‘‘۔ سعودی عرب کے پیکیج سے فوری ادائیگیوں کا بحران ٹل چکا تھا مگر پاکستان کو مزید مالی مدد درکار تھی۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات ہوچکے تھے‘ مزید امداد کیلئے اسکے پاس جانے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔ اب پاکستان کی پوزیشن پہلے جیسی کمزور نہیں تھی کہ اسکی ہر کڑی شرط کو تسلیم کرنا پڑتا۔ مگر آئی ایم ایف شرائط میں نرمی کرنے پر تیار تھا نہ اب ہے۔

سعودی عرب کے بعد وزیراعظم نے چین کا دورہ کیا‘ چین سے بھی سعودی عرب جیسے پیکیج کی توقعات تھیں۔ دورے کے پہلے روز 6‘ ارب ڈالر پیکیج کی غیرمصدقہ خبریں ضرور نشر اور شائع ہوئیں مگر اعلامیہ میں اس کا ذکر نہیں تھا۔ اس پر پاکستان کے اندر معاشی ماہرین مایوس ہوئے تاہم وزیر خزانہ اسدعمر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ میں دوٹوک کہتا ہوں‘ ادائیگیوں کا بحران ختم ہو چکا ہے۔ چین نے بڑی مالی معاونت کی ہے مگر چین نے اس مدد کی مالیت بتانے سے منع کیا ہے۔ ملک کے اندر بعض حلقوں کی طرف سے وزیر خزانہ کے اس بیان پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔ اب چین کے ذمہ دار عہدیداروں نے کہا ہے کہ ہماری مالی مدد سعودی عرب سے زیادہ ہے۔ اس بیان سے اسدعمر کے بیان کی تائید ہوئی اور بے جا شکوک و شبہات بھی ختم ہوگئے۔ چینی عہدیداروں نے تفصیل بتانے سے انکار کیا۔ اگر وہ تفصیل منظر عام پر نہیں لانا چاہتے تو اصرار کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

سعودی عرب اور چین کے مالی تعاون سے پاکستان سردست بدترین معاشی بحران سے نکل گیا ہے مگر حکومت اب بھی آئی ایم ایف سے مذاکرات کررہی ہے۔ آئی ایم ایف قرض دینے سے انکار تو نہیں کرتا مگر قرض کی ہر قسط کے ساتھ اسکی کڑی شرائط موجود ہوتی ہیں۔ اسکی عوام کا عرصہ حیات تنگ کرنے میں دلچسپی نہیں ہونی چاہیے۔ وہ صرف قرض کی واپسی کو معاہدے کے مطابق یقینی بنانے کی گارنٹی حاصل کرنے پر اکتفا کرے۔ حکومت کو یقیناً مزید رقم کی ضرورت ہوگی اس کیلئے اپنے دوستوں سے رابطہ کیا جائے۔ متحدہ عرب امارات اور قطر خود مالی تعاون کا عندیہ دے چکے ہیں۔ سعودی عرب اور چین کے تعاون کے بعد معیشت مضبوط تو نہیں ہوئی‘ نہ ہی قرضوں اور امداد سے ہوسکتی ہے۔ تاہم مضبوط معیشت کی بنیاد ضرور پڑ گئی ہے۔ اب ہمارا سفر قرضوں سے مکمل نجات اور معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کی طرف ہونا چاہیے۔ ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں‘ وسائل وافر مقدار اور تعداد میں موجود ہیں‘ ان کو صحیح سمت استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

کرپشن اور منی لانڈرنگ کی صورت میں اربوں کھربوں ڈالر کے ثبوت اور شواہد سامنے آچکے ہیں۔ مجرموں اور قیدیوں کے تبادلے اور جائیدادوں کی معلومات اور واپسی کے کئی ممالک کے ساتھ معاہدے ہورہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کے دوران اعلیٰ سطح پر ہونیوالی کرپشن اور منی لانڈرنگ رک گئی ہے۔ پاکستان سے ناجائز طور پر بیرون ممالک منتقل کیا گیا سرمایہ واپس آتا ہے تو معیشت کے استحکام میں سودمند ہوگا۔ نیب کے پاس بھی کھربوں روپے کے کیس ہیں‘ یکساں احتساب سے قومی خزانے میں بڑی رقوم کی واپسی کی امید کی جاسکتی ہے۔ نیب کو انکوائریوں میں تیزی اور شفافیت لانی ہوگی۔

معیشت کو بام عروج تک پہنچانے کیلئے مذکورہ رقوم کی واپسی کے علاوہ سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے کی طرف پوری توجہ دینا ہوگی۔پاکستان کے پاس جہاں وسائل کی بہتات ہے‘ وہیں افرادی قوت کی بھی کوئی کمی نہیں۔ یوتھ پروگرام کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 35 سال سے کم تیرہ کروڑآبادی‘ ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے جو ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ نوجوانوں کیلئے تعلیم‘ صحت‘ روزگار کے مواقع کی فراہمی اور انکی ہر شعبے میں شمولیت کو یقینی بنانا پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ایسا عزم و حوصلہ یقیناً پاکستان کو معاشی حوالے سے بلندیوں پر لے جا سکتا ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس