0
1
0
فکرمحمود :سید محمود شیرازی

 پاکستان اسلام کے نام پر دنیا کے نقشے پر قائم ہونے والاشاید پہلا ملک تھا کیوں کے اس سے قبل رنگ ،نسل اور قبیلوں کی بنیاد پر متعددملک موجود تھے لیکن اسلام کے نام پر بننے والا یہ واحد ملک ہے اس لئے شروع دن سے ہی اسے اسلام کا قلعہ قرار دیا گیا ۔اس لئے یہاں اسلام کی بھی بہت سی ترجیحات پیش کی جاتی رہیں اور ہر جماعت سمجھتی رہی کہ وہ جو اسلام پیش کر رہی ہے وہ ہی سچا اور کھرا اسلام ہے باقی سب کفر ہے،ان میں سے کچھ کو ریاستی اداروں کی حمایت رہی تو کچھ اپنے بل پر ریاستی اداروں کو چیلنج کرتے رہے۔پاکستان میں تقریبا پہلے تیس سال بڑے سکون سے گزرے اگرچہ جمہوری حکومتوں پر شب خون مارے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ کراچی میں لسانی فرقہ واریت کی بنیاد رکھی جا چکی تھی لیکن لوگ ابھی تک کلاشنکوف،خود کش دھماکوں اور ٹی ٹی پی اور ٹی ایل پی اس طرح کے ناموں سے آشنا نہیں ہوئے تھے۔

 اس دور میں گراری والے چاقو ہوتے تھے اور وہ جس مجمع میں کھلنے کی آواز آتی تھی تب تک مجمع چھٹ چکا ہوتا تھا لیکن اب تو جب تک سڑک یا گلی خون سے رنگین نہ ہو تب تک پتہ ہی نہیں چلتا کہ کیا ہوا ہے۔ خیر بات ہو رہی تھی پاکستان کو اسلام کاقلعہ قرار دیا گیا اور پاکستان میں اسلام کے نام پر نت نئی پارٹیاں بھی وجود میں آتی رہیں جو اپنے تئیں ملک میں شریعت نافذ کرنے کی دعوے دار رہیں۔

 ضیا الحق کے مار شل لا کے بعد آمر حکومت نے ضرورت محسوس کی کہ پیپلز پارٹی کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے تو کراچی میں پیپلز پارٹی کا اثرو رسوخ ختم کرنے کیلئے لسانی بنیادوں پر مہاجر قومی موومنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ۔اگرچہ پیپلز پارٹی کا اثر و رسوخ تو نہ ختم ہو سکا لیکن کراچی میں ایک فاشسٹ سیاست کا اغاز ہوا جس نے تین دہائیوں تک کراچی اور سندھ کو جکڑے رکھا۔ وہ تو بھلا ہو پچھلی حکومت کا جس نے فاسشٹ سیاست کو ختم کرنے کی ٹھانی اور اس طرح ہاتھوں سے قائم کی گئی گرہیں دانتوں سے بلکہ انتڑیوں سے کھولنی پڑیں ۔ضیا کی آمریت کے دور میں ہی روس کو گرم پانی تک جانے کی سوجھی اور اس نے افغانستان پر حملہ کر دیا(اب ہم خودروس کو گرم پانیوں تک راسائی دینے کیلئے منتیں کر رہے ہیں ) ۔پاکستان کو بادل نخواستہ اس جنگ میں کودنا پڑا اور جب یہ جنگ ختم ہوئی تو اپنے پیچھے بہت سی داستانیں چھوڑ گئی بہت سے محب وطن پاکستان اسی جنگ کی بدولت ارب پتی ہو گئے ۔

روس کے افغانستان سے انخلا کے بعد اافغانستان پر قبضے کی مقامی جنگ شروع ہوئی جس پر اس وقت پاکستان نے تحریک طالبان افغانستان کا دامے درمے قدمے سخنے ساتھ دیا اور اس طرح پاکستان کے قبائلی علاقوں میں وہ جنگجو جو افغان جہاد کے بعد بے روزگار تھے.

 انہوں نے تحریک طالبان پاکستان قائم کر لی اور ابتدا میں اس تحریک کا مقصد افغانستان میں کارروائیاں کرنا تھا لیکن بعد میں جب ان کے مقاصد بدلے تو یہ پاکستان میں بھی کارروائیوں کے لئے آزاد ہو گئے اور انہوں نے پچھلے بیس سالوں میں پاکستان میں اتنا سرخ رنگ بکھیرا کہ پاکستان کو اس سے نمٹنا نا ممکن دکھائی دینے لگا آئے روز کے دھماکوں ،قتل و غارت گری نے پاکستان کو بیرونی دنیا میں ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر پیش کیا اور ابھی تک ہم یہ داغ دھونے میں مصروف ہیں۔ کبھی ہم ان کو اپنے بچے کہتے رہے تو پھر اپنے بچوں نے اپنے بڑوں کے گالے کاٹنے شروع کئے تو ریاست کو ہوش آیا کہ اپنے بچے تو نافرمان ہو گئے ہیں تب جا کر ان کیخلاف حقیقی آپریشن ہوا اور اپنے بچوں کو گھر سے بے دخل کرنے کے ساتھ ساتھ مار کٹائی کا عمل بھی شروع ہوا جس نے پاکستان میں کسی حد تک امن قائم کیا۔ ابھی پاکستان ٹی ٹی پی کے دیئے ہوئے تازیانوں کے زخم بھرنے کے قابل نہیں ہوا تھا کہ ریاست کے طاقتور اداروں کو احساس ہوا کہ ایک سیاسی جماعت بھی ان کے دشمنوں کی صف میں شامل ہے جسے پہلے تو پانامہ جیسے قضیوں میں الجھایا گیا اس کے بعد جب بات نہ بنی تو ختم نبوت کی آڑ لے کر ایک جماعت کو ان کا گھیراؤ کرنے کیلئے کہا گیا جسے آج کل تحریک لبیک پاکستان یا ٹی ایل پی کہتے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے یا یہ ایک ایسا کھلا ثبوت ہے کہ ہر زی ہوش پاکستانی جانتا ہے کہ ان دھرنوں کی معاونت کون کر رہا تھا اور کون اس دھرنے کا ماسٹر مائنڈ تھا ۔

اب آسیہ بی بی کی رہائی کے معاملے میں جس طرح اس جماعت نے پاک فوج،اداروں اور ریاست کے خلاف آواز اٹھائی اور جس طرح لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا اس سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ یہ بھی ٹی ٹی پی کا ایک نیا ورژن ہے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ ٹی ٹی پی والے اپنی کارروائیاں خفیہ کرتے تھے اوریہ سرعام کرتے ہیں ۔ٹی ٹی پی والے دھماکے کرتے تھے اور ملک میں شریعت نافذ کرنے کے دعوے کرتے تھے یہ گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کرتے ہیں اور لوگوں کو خوف ہو ہراس میں مبتلا کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی شریعت نافذ کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔

 جس طرح ٹی ٹی پی بناتے وقت اندازہ نہیں تھا کہ یہ گرہ دانتوں سے کھولنی پڑسکتی ہے اسی طرح ٹی ایل پی والی گرہ بھی آنے والے دنوں میں دانتوں سے کیا جبڑوں سے کھولنی پڑ سکتی ہے اس کیلئے طاقتور اداروں کو ابھی سے ہوش کے ناخن لینا ہوں گے کیوں کہ پلاننگ جنگ سے پہلی ہوتی ہے اور جب جنگ شروع ہوتی ہے تو پھر گولی یا تلوار ہی فیصلہ کرتی ہے کہ جنگ کا فیصلہ کیا ہو گا اس لئے کورے کاغذوں پر تو یہ منصوبے اور نئی جماعتیں بنانا زیب دیتا ہے لیکن جب وہ بن جاتی ہیں تو پھر وہ ٹی ٹی پی کی طرح بے قابو ہو جاتی ہیں اس لئے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اس طرح کے تجربات سے گریز کرنا ہو گا۔ 

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس