بدھ, اکتوبر 27
Bethak
قلم و کالمبیٹھککالم

وزیراعظم اور مافیا کارٹل کا اپنا اپنا عزم

مجھے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ناجائز منافع خوروں‘ ذخیرہ اندوزوں اور ان پر مشتمل مافیا کارٹل کو حکومتوں نے خود ہی رمضان کریم کی نعمتوں سے ناجائز منافع خوری کے ذریعے مستفید ہونے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ یہ حکومت آج کی ہو یا سابقہ ادوار کی‘ آپ ہر حکومت کے دور میں آنیوالے اس ماہ مقدس کے دوران مہنگائی کے گراف اور ناجائز منافع خوری کیلئے مافیاز کے ہتھکنڈوں کا جائزہ لے لیجئے‘ آپ کو رتی ّبھر فرق محسوس نہیں ہوگا۔ جس طرح آج وزیراعظم عمران خان نے مافیاز کا کارٹل توڑنے اور بالخصوص چینی کے نرخ 26 روپے فی کلو تک بڑھانے والے شوگر مل مالکان کے خلاف کارروائی کا عزم باندھا ہے‘ سابق وزرائے اعظم بھی ایسے ہی عزم باندھتے باندھتے خود بھی انہی مافیاز کی صف میں شامل نظر آتے رہے اس لئے ایسا ہی عزم باندھنے والے آج کے وزیراعظم کیلئے بس دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ اگر انہوں نے دیگر شوگر مل مالکان کے ساتھ ساتھ قید کی سزائوں والا قانونی پراسس جہانگیر ترین‘ مخدوم خسرو بختیار‘ ہمایوں اختر اور اپنی پارٹی کے دوسرے شوگر مل مالکان کیخلاف بھی شروع کرادیا تو میں انہیں کورنش بجا لا کر آداب و سلام پیش کروں گا۔ فی الوقت تو زمینی حقائق یہ ہیں کہ سرکاری سرپرستی میں چلنے والے یوٹیلٹی سٹورز کی انتظامیہ نے وزیراعظم کے رمضان پیکیج کو ناکام بنانے کیلئے چینی اور روزمرہ استعمال کی اشیاء غائب ہی نہیں کیں‘ زیادہ رش والے یوٹیلٹی سٹورز کو تالے بھی لگا دیئے ہیں۔ ایسے ہی ہتھکنڈے سابقہ ادوار میں بھی اختیار کئے جاتے رہے ہیں اور ناجائز منافع خور طبقات ’’بنا ہے عیش تجمل حسین خان کیلئے‘‘ جیسی دیدہ دلیری کے پیکر ہی بنے نظر آتے رہے ہیں۔ سو آج بھی…؎

کہاں بدلے ہیں دن فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

میں نے جولائی 2012ء کے اپنے ایک کالم میں متحدہ عرب امارات اور اپنی سرزمین پر رمضان المبارک کے استقبال کی تیاریوں کا موازنہ کیا تھا۔ آج وہ کالم پڑھا اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا تو یوں محسوس ہوا جیسے میں ناجائز منافع خوروں کے کارٹل کے گرانی‘ قلت‘ ملاوٹ کیلئے اختیار کئے گئے 2012ء کے ہتھکنڈوں کی ہی بدستور لپیٹ میں ہوں۔ اس کالم کے اقتسابات آپ کی نذر ہیں۔ آپ خود ہی اندازہ لگا لیجئے کہ مافیاز کی ہیراپھیری میں ریاست مدینہ کا عزم باندھنے والوں کے دور میں بھی کوئی کمی آئی ہے اور انہیں فی الواقع نکیل ڈالنے کا کوئی ٹھوس عملی اقدام اٹھایا گیا ہے؟

2012ء میں ہمارے کیا معاملات تھے اور متحدہ عرب امارات میں قیام کے دوران میں نے رمضان کریم کی تیاریوں کا کیا مشاہدہ کیا‘ ذرا ’’دیکھتی آنکھوں‘ سنتے کانوں‘‘ کے ساتھ آپ بھی مشاہدہ کرلیجئے۔

’’یواے ای کی حکومت اور مخیر لوگوں کی جانب سے یواے ای کی تمام ریاستوں کی ہر اہم شاہراہ‘ ہر چوک اور سیروسیاحت کے ہر مقام کے اردگرد خصوصی کیمپ لگا کر رمضان کریم کے دوران بلامعاوضہ سحری اور افطاری کا اہتمام کیا جاتا ہے جبکہ زکوٰۃ کی رقوم کی تقسیم کیلئے بھی ہر اہم مقام پر خصوصی کائونٹر بنائے جاتے ہیں چنانچہ وہاں ماہ رمضان اور دوسرے مذہبی تہواروں کے موقع پر کوئی شخص فقیر کے روپ میں بیٹھا دستِ سوال دراز کرتا نظر نہیں آتا۔ جسے زکوٰۃ کی مد میں اپنی مالی مدد درکار ہوتی ہے اسے کسی سے اس کا تقاضا نہیں کرنا پڑتا۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کیلئے مخصوص کسی نہ کسی کائونٹر پر جا کر چپکے سے وہ اپنے لئے مالی معاونت حاصل کرلیتا ہے جبکہ بلامعاوضہ سحری افطاری کا اہتمام اتنا وسیع اور کھلا ہوتا ہے کہ کسی کو ہاتھ روک کر کھانے کی مجبوری لاحق نہیں ہوسکتی۔ پھر اس کھانے کا معیار عام کھانوں سے کہیں بلندتر۔ کسی چیز میں ملاوٹ نہیں‘ کسی نے ’’ڈنگ ٹپائو‘‘ کام نہیں کیا‘ کسی کو تول میں ڈنڈی مارنے کا کبھی خیال نہیں آتا‘ کوئی جھوٹ اور ملمع کاری کا سہارا نہیں لیتا۔ کہیں ذخیرہ اندزوزی کرکے قیمتیں بڑھانے کا رجحان دیکھنے میں نہیں آتا اور کوئی اپنے دو نمبر مال کو ایک نمبر کا لیبل لگا کر مارکیٹ میں نہیں لاتا۔ یہ ہے یواے ای میں رمضان کریم کا استقبال۔ کسی کو فکر لاحق ہوتی ہے تو صرف یہ کہ وہ رمضان کریم کے استقبال کی تیاریاں کرنیوالوں کیلئے زیادہ سے زیادہ خوشی اور راحت کا اہتمام کیسے کر سکتے ہیں۔

ارے توبہ! ہم اپنی پاک سرزمین پر ماہ رمضان المبارک کے استقبال کا کیسے اہتمام کرتے ہیں۔ مارکیٹوں کا رخ کرو تو دماغ چکرا جائے۔ ابھی آج کے اخبارات کی سرخیوں‘ شہہ سرخیوں کے ذریعے ہی رمضان کریم کے استقبال کی تیاریوں کا جائزہ لے لیجئے۔ ایک خبر ہے منافع خوروں نے کھجور مارکیٹ سے غائب کردی‘ مقصد ماہ رمضان کیلئے من مانے نرخ مقرر کرنا ہے۔ دوسری خبر آڑھتیوںکا رمضان کمائو منصوبہ۔ پھل اور سبزیاں کولڈ سٹوروں میں ذخیرہ کرلیں۔ ماہ رمضان میں پھل سبزیوں کی مانگ زیادہ ہوتی ہے تو یہی زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کا نادر وقت ہے۔ ایک اور خبر۔ رمضان المبارک سے قبل ہی 18 سبزیوں اور آٹھ پھلوں کی قیمتوں میں آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچنے والا اضافہ‘ حکومت بھی ہر سال کی طرح اس بار بھی ماہ رمضان المبارک کے دوران اشیا کے نرخوں کی چیکنگ کیلئے 170 سپیشل جوڈیشنل مجسٹریٹ تعینات کر رہی ہے۔ یہ مجسٹریٹ ناجائز منافع خوری اور ناقص اشیاء کی فروخت کے جرائم پر سرسری سماعت کرکے موقع پر سزا دینے کا اختیار رکھتے ہیں مگر آج تک کسی ذخیرہ اندوز اور جعلساز کو موقع پر سزا ملتے نہیں دیکھی۔ ’’مک مکا‘‘ کا فیشن ماہ رمضان المبارک کے دوران ہی تو زیادہ فروغ پاتا ہے۔ یہ ہیں ہماری ماہ رمضان المبارک کے استقبال کی تیاریاں۔ اس مہینے کی برکات ہیںہماری دھرتی پر ذخیرہ اندوزی‘ خودساختہ گرانی‘ گلے سڑے پھلوں کی پوری دیدہ دلیری کے ساتھ فروخت۔ کوئی اعتراض کرے تو ’’چل آگے بڑھ‘‘ کے طعنے۔ کھلم کھلا ملاوٹ‘ تول میں اعلانیہ ہیرپھیر اور جھوٹ و فریب کاری کی صورت میں سمیٹی جاتی ہیں۔ کسی کو اپنے کلمہ گو بھائی بہنوں کو دھوکہ دیتے ہوئے لاج آتی ہے نہ کوئی دونمبر مال فروخت کرتے ہوئے حجاب محسوس کرتا ہے۔ ہر کوئی اس عزم اور ارادے کے ساتھ اپنا اپنا کاروبار سجائے بیٹھا ہے کہ ماہ رمضان کے دوران مکان کی دوسری تیسری منزل کی تعمیر کا خرچہ نکالنا ہے۔ نئی گاڑی‘ نئی بائیک‘ نئے فرنیچر اور پوری نہ ہونے والی پچھلی ضرورتوں کے اخراجات پورے کرنے ہیں اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کا اہتمام بھی رمضان کی برکت سے حاصل ہونیوالے منافع کے ذریعے کرنا ہے۔ چنانچہ معاشرے کا ہر طبقہ ایسی مچلتی خواہشوں کی تکمیل کا ماہ رمضان المبارک کے دوران ہی اہتمام کر پاتا ہے۔ سرکاری ملازمین اور پولیس والے بھی بھلا رمضان المبارک کی ایسی فضیلتوں کو سمیٹنے میں کسی سے کیوں پیچھے رہیں۔ سو رمضان المبارک کی آمد سے بھی پہلے ’’عیدی سیزن‘‘ شروع ہو چکا ہے۔ شیرجوانوں نے پولیس ناکے بڑھا کر جبراً عیدی وصول کرنا اپنی سرکاری ذمہ داریوں کا حصہ بنالیا ہے اور کسی بھی محکمے میں کوئی فائل عیدی کی پیشگی نوید کے بغیر منظوری کے مراحل کی نوبت نہیں لاتی۔ صرف یہی نہیں‘ ہمارے کلچر میں کام چوری بھی ماہ رمضان المبارک کے دوران ہی جائز ٹھہرتی ہے۔ غرض کوئی معاشرتی‘ سماجی‘ کاروباری بیماری اور علت ایسی نہیں جو ماہ رمضان المبارک کے دوران پروان نہ چڑھتی ہو۔ رمضان کریم کے دوران لوگوں کو اذیت دینا بھی حکومتوں‘ حکومتی‘ سرکاری اہلکاروں اور کاروباری طبقات نے اپنا شعار بنالیا ہے۔ جن کے وارے نیارے ہوتے ہیںوہ رمضان کریم کے استقبال کی تیاریوں میں پورے جوش و جذبہ کے ساتھ مگن ہیں اور اس رمضان کریم کے دوران بھی جنہوں نے پسنا‘ لٹنا‘ برباد ہونا ہے‘ انکے چہرے ابھی سے مایوسیوں‘ نامرادیوں کا آئینہ بن گئے ہیں۔ ہم بس‘ ایسے ہی ماحول میں ماہ صیام کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ خدا اسلامیانِ پاکستان کو زندہ دلی کے ساتھ ماہ صیام کے ساتھ وابستہ رہنے کی توفیق ادا کرتا رہے۔‘‘

تو جناب! کیا آج بھی ہم اسی ہیرا پھیری کلچر کی رونق نہیں بڑھا رہے۔ وزیراعظم صاحب مہنگائی بڑھانے والے مافیا کارٹل کے معاملات کی خود نگرانی کرتے رہیں‘ کیا فرق پڑتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے