بدھ, اکتوبر 27
Bethak
قلم و کالمبیٹھککالم

ماہِ مقدس اور تکریمِ انسانیت

اہلِ اسلام کیلئے رحمتوں‘ فضیلتوں‘ بخششوں والے مقدس مہینے رمضان کریم کا آغاز ہونے میں بس ایک دن کا وقفہ ہی رہ گیا ہے۔ ہمارے سائنس و ٹیکنالوجی کے ہونہار وزیر باتدبیر چودھری فواد حسین نے ایک ماہ پہلے ہی ماہِ رمضان المبارک کے 14؍ اپریل سے آغاز کی ’’تکنیکی‘‘ پیش گوئی فرمادی تھی اور چیئرمین روئت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد صاحب بھی پرعزم ہیں کہ پورے ملک میں ایک ہی دن رمضان اور شوال کا چاند نظر آئیگا اس لئے قوم خاطرجمع رکھے کہ ماہِ رمضان المبارک کے دوران تاجروں‘ دکانداروں‘ خوانچہ فروشوں کا اس ماہِ مقدس کو اپنے مالی اور اقتصادی استحکام کیلئے ماضی کی طرح منفعت بخش نہ بنانے‘ گھٹیا مال اور گلے سڑے پھل فروٹ فروخت نہ کرنے‘ اشیاء کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع نہ کمانے اور اپنی دیانت داری کا ڈھنڈورہ پیٹنے کیلئے اللہ‘ رسولؐ کی قسمیں اٹھانے پر چاہے اتفاق ہو نہ ہو‘ ہم 14؍ اپریل سے رمضان کریم کا آغاز کرنے پر ضرور متفق ہو چکے ہیں۔ اور دُور کے چندا ماموں کی ہمارے دوربین شاہکاروں کے آج 13؍ اپریل کی شام اپنی جھلک دکھانے کیلئے اٹل فیصلہ سے اختلاف کی بھلا کیا مجال ہو سکتی ہے۔ سو آج شام کا چاند ماہ صیام کے آغاز کی نوید بن کر ابھرے گا جس کے بارے میں سوشل میڈیا پر رونق لگی ہوئی ہے کہ اس بابرکت مہینے کا آغاز ہونے والا ہے جس کے دوران خوانچہ فروش گلے سڑے پھل فروٹ اور ناقص سبزی اپنے گاہکوں کو من مانے نرخوں پر فروخت کرکے جلدی سے مسجد کی جانب بھاگے گا کہ کہیں باجماعت نماز کی ادائیگی سے محروم نہ ہو جائے۔ 


حضور یہ تو ہمارا عمومی اجتماعی کلچر بن چکا ہے۔ ہم ماہ مقدس کے روزے رکھنے کا دینی فریضہ بھی عقیدت و احترام سے سرانجام دینگے۔ بالخصوص اس مہینے کے دوران باجماعت نماز پنچگانہ ادا کرنے کی بھی خشوع و خضوع کے ساتھ کوشش کرینگے۔ سحری‘ افطاری کے اہتمام کیلئے اپنے دسترخوان بھی انواع و اقسام سے ضرور سجائیں گے‘ پاس پڑوس میں افطاری سے پہلے اپنے کچن میں تیار ہونیوالے پکوڑے‘ سموسے‘ دہی بھلے‘ فروٹ چاٹ ٹرے میں ڈال کر پہنچانے کے انتظام میں بھی کوئی کوتاہی نہیں ہونے دینگے اور اس مقدس مہینے کے دوران ناجائز منافع کمانے کی اگلی پچھلی کسریں نکالنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے کیونکہ ہمارے کلچر میں رمضان کریم کا تصور سال بھر کی ساری ضرورتیں پوری کرنے کیلئے جیسے تیسے روپیہ کمانے اور بنانے والے مہینے والا بن چکا ہے۔ اس کلچر میں اگر درگت بنتی ہے تو اس بے چارے مایوس مقہور انسانی لاشے کی جو بے کاری‘ بے روزگاری‘ کم وسائل‘ معمولی تنخواہ اور اسکی بھی بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث اپنے وسیع خاندان کا بھاری بوجھ اٹھانے کی تگ ودو میں پہلے ہی عملاً زندہ درگور ہو چکا ہوتا ہے۔ سو جس کے پاس پہلے ہی اپنی روزانہ ضرورت کی اشیاء خریدنے کی سکت نہیں ہوتی۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران پل پل اٹھتے مہنگائی کے سونامیوں کے آگے تو وہ ڈھیر ہو جاتا ہے۔ 


دنیا بھر میں پھیلی کورونا کی وبا نے ویسے ہی ہماری معیشتوں کا انجرپنجر ہلا دیا ہے‘ بیروزگاری اور مہنگائی کے عفریت کو انسانی جانوں کو نگلنے کیلئے موٹا تازہ کر دیا ہے اور کمزور معیشتوں والے پسماندہ ممالک کے حکمرانوں تک کو بھکاری بنا دیا ہے جبکہ اس مارا ماری میں لہو لگا کر ہم بھی شہیدوں میں شامل ہو چکے ہیں اس لئے ماہ رمضان کے دوران ہاتھ آئے لوٹ مار کے مواقع کو ہاتھ سے جانے دینے کا گناہ بھلا کون اپنے سر چڑھائے گا۔ سو…؎

ساقیا‘ باہن اے مینوں بھوئیں تےایہہ میز کرسیاں چا لَے 
جیہڑی پئی آ‘ اور ہاں لئی آتے کجُھ باہروں وی منگوا لَے

سر کشی کو باندھ کر بے خودی کے سمندر میں غوطے لگانا ہی تو ہم نے ماہ مقدس والے اپنے کلچر کا حصہ بنالیا ہے۔ حکومت مہنگائی کم کرنے کے رسمی دعوے کرتی رہے گی‘ مصنوعی قلت پیدا کرکے اشیاء کے منہ مانگے دام وصول کرنیوالے مافیاز کو لگام ڈالنے کیلئے انتظامی مشینری کو متحرک کرنے کے اعلانات دلپذیر بھی جاری رکھے گی‘ چینی کے نرخ 85 روپے فی کلو مقرر کرکے بازاروں میں ان نرخوں کے بینر بھی آویزاں کرادیگی۔ وزیراعظم اس ماہ کے دوران نرخوں کی خود نگرانی کرنے کا کریڈٹ بھی ضرور لے لیں گے مگر لوٹ مار کا کاروبار اسی طرح چلتا رہے گا اور ماہ رمضان کیلئے اپنائے گئے ناجائز منافع خوری کے کلچر کو فروغ ملتا ہی رہے گا۔ آپ خود ہی جائزہ لے کر اندازہ لگا لیجئے‘ رائے قائم کرلیجئے کہ ماہ رمضان آتے آتے حکومت کی زیرپرستی چلنے والے یوٹیلٹی سٹورز تک میں مہنگائی جستیں بھرتی کہاں تک جا پہنچی ہے‘ ضروری استعمال کی اشیاء غائب کرکے مصنوعی مہنگائی اور اسکے ذریعے ناجائز منافع کا کس تزک و احتشام کے ساتھ اہتمام کیا گیا ہے۔ آپ ذرا عام بازاروں اور خصوصی رمضان بازاروں میں گھوم پھر کر فروخت کی جانیوالی اشیاء اور انکے نرخوں کا جائزہ لے کر تو دیکھیں‘ آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائینگے‘ اس لئے حضور! وزیراعظم کے کچن ٹرک ملک بھر میں پھیلانے کے عزم پر صاد کریں‘ ہاتھ پھیلائیں اور یہ خیرات بانٹنے والوں کے ساتھ اپنے افسردہ تھکے چہروں کی تصاویر کھنچوا کر انکی نمودو نمائش کا اہتمام کریں تاکہ انہیں کچن ٹرک ہر چوک‘ ہر بازار‘ ہر گلی کوچے میں کھڑا کرکے کسی فرد کو بھوکا نہ سونے دینے کی توفیق حاصل ہوتی رہے اور کمپنی کی مشہوری کے ساتھ ماہ رمضان ہی نہیں‘ سال بھر کیلئے پھیلے ہاتھوں کو راشن سے فیض یاب کرنے کی سبیل نکلتی رہے۔ بھئی! اس کلچر میں اشرافیائوں کے ہی تو وارے نیارے ہیں۔ ریاست مدینہ کا تصور عملی قالب میں ڈھالنے کا عزم باندھنے والوں کی ہی تو دکانداری چمک رہی ہے اور انکے ہاتھوں راندۂ درگاہ عوام کا بھرکس نکلنا ہی تو انکے مقدرات کا حصہ بن چکا ہے…؎

مقدرات کی تقسیم جب ہوئی عابدجو غم دیئے نہ گئے تھے‘ وہ میں نے جا کے لئے

آپ ماہ مقدس میں نمودونمائش والی خیرات بانٹ کر نیکیاں کمائیں‘ گھٹ گھٹ کر مرنے کا مقدر رکھنے والے عوام آپ کی ان نیکیوں میں اضافے کا باعث بنتے ریں گے مگر سوچ رکھیے اور جان رکھیے کہ رب کائنات نے شرف انسانیت اور تکریم انسانیت کو باوقار انسانی معاشروں کی بنیاد بنایا ہے۔ تکریم انسانیت کا تقاضا ہے کہ مستحق زکوٰۃ کو بھی اپنے پاس بلا کر زکوٰۃ نہ دی جائے بلکہ اسکے پاس‘ اسکے گھر جا کر اتنی رازداری میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا فرض نبھایا جائے کہ اسکے پڑوسی کو بھی اسکی خبر نہ ہونے پائے۔ کیا اس بار ہم رمضان کریم کے ماہ مقدس کو تکریم انسانیت کا کلچر فروغ دینے کیلئے بروئے کار نہیں لاسکتے۔ حضور! تجربہ کرکے تو دیکھئے۔ بارگاہِ ایزدی میں عبادات کی قبولیت آپ کا انعام بن جائیگی۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے