0
0
0
تحریر: سعید آسی

مقبوضہ کشمیر میں وحشت و بربریت کے تسلسل میں سفاک و ظالم بھارتی فوج نے گزشتہ روز کولگام میں نہتے مظاہرین پر بے دریغ فائر کھول دیا اور اسی دوران بم دھماکے بھی ہوئے جس کے نتیجہ میں گیارہ کشمیری شہید اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ ایک جھڑپ میں تین بھارتی فوجی بھی جہنم واصل ہوئے۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ہفتے ہونیوالے بلدیاتی انتخابات کے ڈرامے میں بھارتی حکمران بی جے پی اور سابق حکمران کانگرس کا مکمل صفایا ہوگیا ہے جس کے بعد کشمیریوں پر بھارتی فوجوں کے ظلم و جبر کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا ہے اور اس ماہ کے دوران بھارتی فوجوں کی فائرنگ اور تشدد کے دوسرے ہتھکنڈوں کے باعث اب تک پچاس کے قریب کشمیری شہید ہوچکے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ تین سال کے دوران ایک ہزار کے لگ بھگ کشمیری مودی سرکار کی جنونیت اور بھارتی فوجوں کی بربریت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ اسی طرح اس عرصے میں ہزاروں کشمیری نوجوان اسرائیلی ساختہ پیلٹ گنوں کے فائر سے مستقل اندھے اور اپاہج ہوئے ہیں جو انسانی حقوق کی علمبردار علاقائی اور عالمی تنظیموں اور انسانی حقوق کی نام لیوا عالمی قیادتوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔

گزشتہ روز بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے قریب سندربانی سیکٹر میں دو کشمیری نوجوانوں کو پاکستانی دراندار قرار دے کر شہید کیا جن کی شہادتوں کی خبر پوری مقبوضہ وادی میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور وادی میں شدید احتجاج شروع ہوگیا جس کے دوران کشمیری مرد و خواتین ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر آنا شروع ہوگئے اور بھارتی جبر کا کوئی ہتھکنڈہ انہیں احتجاج سے روکنے میں کارگر نہ ہو سکا۔ مقبوضہ وادی کے کٹھ پتلی گورنر نے متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ کیا مگر یہ حربہ بھی کشمیریوں کے پائوں کی بیڑی نہ بن سکا اور انہوں نے حریت قائدین سید علی گیلانی‘ میرواعظ عمر فاروق‘ یٰسین ملک کی کال پر نہ صرف ہڑتال کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ سڑکوں پر شدید مظاہروں اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا جس پر بھارتی فوج نے گزشتہ روز زہریلی آنسو گیس، لاٹھی چارج اور مظاہرین پر سیدھے فائر کرکے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی مگر کشمیری مظاہرین منتشر ہونے کے بجائے ’’بھارتی فوجیو کشمیر چھوڑ دو‘‘ ، ’’ہم چھین کے رہیں گے آزادی‘‘ ، ’’قاتل قاتل بھارت قاتل‘‘ اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگاتے رہے۔ قابض فوج نے احتجاج کو کچلنے کیلئے نہتے مظاہرین پر بے دریغ گولی چلائی جس کے نتیجہ میں پچاس نہتے مظاہرین زخمی ہوئے اور ان میں سے چار زخمیوں نے ہسپتال جا کر دم توڑ دیا۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے کشمیریوں کو رابطے سے روکنے کیلئے فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی۔ دوسری جانب پلوامہ کے علاقے پٹن میں نامعلوم افراد نے بھارتی فوج پر دستی بم سے حملہ کیا جس میں دو فوجی زخمی ہوگئے جبکہ یہیں پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک حاملہ خاتون بھی شہید ہو گئی۔ حریت قیادت نے اس پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ انتہائی تکلیف دہ واقع ہے۔ آخر کب تک کشمیریوں کا خون بہایا جاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی دن میں بھارتی فوجوں کے ہاتھوں آٹھ نوجوانوں کی شہادت انسانیت کو جھنجوڑنے کیلئے کافی ہے۔ دفتر خارجہ پاکستان نے بھی مقبوضہ وادی میں ایک حاملہ خاتون سمیت گیارہ کشمیریوں کی شہادتوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ بھارت کشمیر میں طاقت کے ذریعے زیادہ دیر تک قابض نہیں رہ سکتا۔ اس سلسلہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیری آزادی سے کم کسی سمجھوتے پر تیار نہیں جبکہ بھارت نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا ہے کہ وہ مذاکرات سے گریزاں ہے۔ مقبوضہ وادی میں ویسے تو ہر ڈھونگ انتخاب کو کشمیری عوام نے بری طرح مسترد کیا ہے تاہم اس بار بلدیاتی انتخابات میں کشمیریوں نے اتنا مؤثر بائیکاٹ کیا کہ کئی امیدوار محض ایک اور بعض صرف دو، تین ووٹ لے کر منتخب ہوئے جو مقبوضہ وادی میں بھارتی فراڈ مینڈیٹ کی نادر مثال ہے۔ کشمیری عوام کے ایسے ہی ردعمل پر جنونی مودی سرکار بوکھلائی ہوئی ہے جس نے گزشتہ 4 سال سے مقبوضہ وادی کو کشمیریوں کے مقتل میں تبدیل کیا ہوا ہے اور گزشتہ ماہ بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پر وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ سے بھی دریغ نہیں کیا تھا تاہم وہ اس بھارتی جنونیت میں بال بال بچ گئے تھے۔

کشمیر کی تحریک آزادی میں شامل تعلیم یافتہ نوجوانوں نے بھارت کی مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو اقوام عالم کے سامنے اجاگر کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا اچھوتا استعمال شروع کیا تو بی جے پی سرکار کے انتہاء پسندوں کو اپنے جنونی چہرے بے نقاب ہونے پر کشمیر پر اپنی گرفت کمزور ہوتی نظر آئی چنانچہ مودی سرکار نے چار سال قبل مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی ساختہ پیلٹ گنوں کا استعمال شروع کر کے کشمیری نوجوانوں کی آواز بند کرنے کی کارروائیوں کا آغاز کیا جو ہنوز جاری ہیں۔ اس بھارتی بربریت کے دوران نوجوان کشمیری لیڈر برہان وانی سمیت اب تک سینکڑوں کشمیری شہید اور ہزاروں مستقل اپاہج اور بصارت سے محروم ہوچکے ہیں۔ ان بھارتی مظالم نے انسانی حقوق کے ہر علاقائی اور عالمی فورم کو جھنجوڑ کر بیدار کیا اور پوری اقوام عالم میں ان بھارتی مظالم کی صدائے بازگشت گونجنے لگی۔ چنانچہ ان مظالم کی انکوائری کیلئے اقوام متحدہ نے اپنے فوجی مبصر اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنا وفد مقبوضہ کشمیر بھجوایا۔ بھارت نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اپنی رپورٹ میں اجاگر کیا۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے تمام عالمی فورمز پر گونجنے لگی جس کے باعث دنیا بھر سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں جس سے مودی سرکار زچ ہوئی تو اس نے پاکستان کیخلاف نیا زہریلا پراپیگنڈا شروع کر کے کنٹرول لائن پر کشیدگی بڑھائی اور پاکستان کی سلامتی کیخلاف سازشوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا۔

یہ امر واقع ہے کہ پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے اور عمران خان کے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد پاکستان کی جانب سے کشمیری عوام پر بھارتی مظالم اور پاکستان کی سالمیت کیخلاف بھارتی سازشوں کو پرزور انداز میں علاقائی اور عالمی فورموں پر بے نقاب کرنے کا سرعت کے ساتھ سلسلہ شروع ہوا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے ہم منصب بھارتی وزیراعظم مودی کو دوطرفہ تعلقات کی بہتری کیلئے مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کرنے کا پیغام پہنچایا جس پر بھارتی قیادت نے بوکھلا کر پاکستان کیخلاف نئی سازشوں کا سلسلہ شروع کردیا۔ عمران خان نے یواین جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر نیویارک میں پاکستان بھارت وزراء خارجہ کی باضابطہ میٹنگ کی تجویز بھی پیش کی جو مودی سرکار نے پہلے تو قبول کرلی جس کی بنیاد پر میٹنگ کی تاریخ اور ایجنڈا بھی طے ہوگیا مگر پھر مودی سرکار یکایک اس آمادگی سے مکر گئی اور پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہوئے یہ ملاقات منسوخ کردی۔ اسکے ساتھ ہی بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے پاکستان پر سرجیکل سٹرائیکس کی گیدڑ بھبکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور پھر انہوں نے جنگ کی دھمکی بھی دیدی جس کا دفتر خارجہ پاکستان اور ملک کی سول اور عسکری قیادتوں کی جانب سے مسکت اور جاندار جواب دیا گیا جبکہ ملک میں بھارتی جارحانہ عزائم کے اظہار پر ٹھوس یکجہتی کی فضا بھی استوار ہوگئی۔ ایسی فضا میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی یواین جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک گئے تو انہوں نے وہاں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے علاوہ عالمی میڈیا کے روبرو بھی پاکستان کی سلامتی کیخلاف بھارتی عزائم بے نقاب کئے اور پھر جنرل اسمبلی میں اقوام عالم کی قیادتوں کے روبرو تقریر کرتے ہوئے عملاً بھارت کے بخیے ادھیڑ دیئے۔ اسکے بعد سے اب تک کنٹرول لائن پر اور مقبوضہ وادی میں بھارتی جنونیت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اب خود بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پاکستان کی سلامتی کیخلاف گیدڑ بھبکیاں لگاتے نظر آرہے ہیں جنہوں نے گزشتہ روز بھی بڑ ماری ہے کہ ہماری خودمختاری پر حملہ کیا گیا تو ہم دہری طاقت سے جوابی حملہ کرینگے۔ انہوں نے پاکستان پر سرجیکل سٹرائیکس کی گیدڑ بھبکی کا بھی اعادہ کیا جس سے عالمی قیادتوں کو انکے عزائم کا بخوبی اندازہ لگالینا چاہیے۔ یواین سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرس گزشتہ ماہ بھارت کے تین روزہ دورے کے موقع پر یہ چشم کشا بیان دے چکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہوچکی ہے اس لئے مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کا حل نکالا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں پاکستان اور بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات پرامن طور پر حل کرنے کیلئے دوطرفہ مذاکرات کریں۔ اس حوالے سے یہ حقیقت یواین سیکرٹری جنرل سمیت تمام عالمی قیادتوں کے روبرو ہونی چاہیے کہ مذاکرات سے تو خود بھارت راہ فرار اختیار کرتا ہے جبکہ کشمیری عوام پر ظلم و جبر کے نئے ہتھکنڈوں کے علاوہ کنٹرول لائن پر بھی بھارت نے ہی کشیدہ صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ درحقیقت امن تو خود بھارتی فوج اور جنونی مودی سرکار تباہ کررہی ہے جس سے عالمی قیادتیں دانستاً صرفِ نظر کرتی ہیں۔

پاکستان اور علاقے کی امن و سلامتی کیخلاف بھارت کے ظاہر کئے گئے عزائم اور اٹھائے گئے اقدامات کی بنیاد پر ہی اقوام عالم میں علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے گہری تشویش کی فضا استوار ہوئی ہے مگر جنونی مودی سرکار کی پیٹھ ٹھونکنے والی امریکی ٹرمپ انتظامیہ اب بھی بھارتی سرپرستی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ وہ ایک سعودی صحافی کے قتل پر تو انسانی حقوق کی دہائی دیتے ہوئے سعودی عرب پر چڑھ دوڑے ہیں مگر ٹرمپ انتظامیہ اور اسکے ہمنوائوں کو مقبوضہ کشمیر میں سالہا سال سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر آتی ہیں نہ اس پر جنونی مودی سرکار کے ہاتھ روکنے کی انہیں کبھی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اگر انکی جانب سے مودی سرکار کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی اسی طرح برقرار رکھی گئی تو بندر کے ہاتھ آیا ہوا استرا ایک دن عالمی امن کا گلا بھی کاٹ کر چھوڑے گا۔ اس تناظر میں بھارت کو عالمی قیادتوں کی جانب سے شٹ اپ کال دینے کا یہی وقت ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس